کورونا وائرس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کیلئے بھاری فنڈنگ درکار ہے: آئی ایم ایف

  • اتوار 29 / مارچ / 2020
  • 1060

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جیورجیوا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب عالمی معیشت زوال کی جانب گامزن ہے اور ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے بھاری فنڈنگ درکار ہے۔

انہوں نے آن لائن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی کساد بازاری میں داخل ہو چکے ہیں جو 2009 میں عالمی مالیاتی بحران کے بعد رونما ہونے والی صورتحال سے بھی بدتر ہو گی۔ کرسٹینا جیورجیوا نے کہا کہ کم آمدن کے حامل 80 سے زائد ممالک پہلے ہی آئی ایم ایف سے ایمرجنسی امداد کی درخواست کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں معیشت رکنے سے ہمیں عالمی منڈیوں کی مدد کے لیے بھی کم از کم 25 کھرب ڈالر کی خطیر رقم درکار ہے۔

ترقی پذیر ملکوں کو حالیہ ہفتوں میں 83 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور وہ اس سے سنبھل بھی سکتے ہیں لیکن ان کے وسائل انتہائی محدود ہیں اور اکثر ممالک بھاری قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ جیورجیوا نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ان کے مالی وسائل اور سرمایہ ناکافی ثابت ہو گا اور ہمارے فنڈز کا مقصد ان ملکوں کی کورونا وائرس کے خلاف لڑائی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

واشنگٹن میں قرض دینے والوں کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف کی سربراہ نے فنڈز میں 50 ارب ڈالر کے اضافے کی درخواست کی۔ انہوں نے امریکی سینیٹ کی جانب سے منظورہ کردی 2 کھرب ڈالر کے پیکج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ معاشی سرگرمیاں رکنے سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو تحفظ کی فراہمی کے لیے یہ پیکج بہت ضروری تھا۔

کورونا وائرس کے بحران کے سبب عالمی مالیاتی ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ نے اپنے تباہی پر قابو پانے اور ریلیف فنڈ میں فوری بہتری کی منظوری دی ہے جس کے تحت غریب اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کے لیے قرض فراہم کیے جائیں گے۔ کووڈ-19 اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت پر مرتب ہونے والے تباہ کن اثرات کے سبب غریب رکن ممالک کو مدد کی اشد ضرورت ہے اور خصوصاً ان ممالک میں قرض کی ادائیگیوں میں توازن بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اس مشکل وقت میں آمدن، وسائل کم ہونے اور خرچ بڑھنے سے مشکلات کا شکار یہ ممالک آئی ایم ایف کی جانب سے امداد کی بدولت اپنی طبی سہولیات اور صحت کے حوالے سے معاملات پر ترجیجی بنیادوں پر خرچ کر سکیں گے۔ خصوصاً جن ممالک کی فی کس آمدن عالمی بینک کی حد سے کم ہے وہ دو سال کے لیے آئی ایم ایف کی قرض سے سہولت سے استفادہ کر سکیں گے۔

loading...