میر شکیل الرحمان کی گرفتاری اور صحافیوں میں تقسیم

پاکستان کی سب سے بڑی میڈیا ایمپائر کے مالک اور بین الاقوامی سطح پر ایک بڑے بزنس مین اور میڈیا ٹائیکون میر شکیل الرحمان کی 12 مارچ کو نیب کے ہاتھوں لاہور میں گرفتاری نہ صرف توقع کے خلاف بلکہ اس کے مابعد اثرات بھی عمومی توقع کے برعکس تھے۔ جس سے لگتا ہے کہ فیصلہ سازوں نے اچھا ہوک ورک کیا ہوا تھا۔

 خیال یہ تھا کہ میر شکیل کو اپنی صفائی کیلئے مزید موقع اور وقت فراہم کیا جائے گا۔ اور شاید ہر ہفتے دس بعد ان کی پیشی ہی ان کیلئے کافی رہے گی۔ لیکن دوسری پیشی پر ان کی گرفتاری نے ان کے مخالف حلقوں کو بھی حیران کر دیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد جس شدید ردعمل اور مزاحمت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا،  وہ بھی اتنی کم تھی کہ فیصلہ ساز اپنے ہوم ورک اور فیصلوں پر فخر کر رہے ہوں گے۔ میر شکل الرحمان پر لاہور کے جوہر ٹاؤن میں 54 کنال اراضی غیر قانونی طور پر الاٹ کرانے کا الزام تھا۔ اس سلسلے میں سینٹر فار انویسٹیگیٹو جرنلزم  کے چیئرمین اسد کھرل نے 29 جنوری کو چیئرمین نیب کو پانچ صفحات پر مشتمل ایک درخواست دی تھی جس میں بے ضابطگی کے علاوہ قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کی شکایت کرتے ہوئے اس معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ چیئرمین نیب نے ابتدائی جائزہ کے بعد یہ معاملہ نیب کے تین رکنی ٹیم کے حوالے کر دیا جس میں ایک خاتون افسر بھی شامل تھی۔

 اس تحقیقاتی ٹیم نے میر شکیل الرحمان کو پانچ مارچ کو تفتیش کیلئے طلب کیا اور اپنے ساتھ دستاویزات اور ثبوت لانے کو بھی کہا۔ اس نوٹس اور جنگ اخبار میں جوہر ٹاؤن میں 64 کنال اراضی کی فروخت کا ایک اشتہار بھی شائع ہوا۔ اگرچہ اس میں میر شکیل الرحمان کا نام نہیں تھا۔ لیکن اندازہ تھا کہ یہ H بلاک جوہر ٹاؤن کی وہی اراضی ہے۔ اس اشتہار سے پہلی بار خود نیب اور شکایت کنندہ کو معلوم ہوا کہ اصل اراضی 54 کنال نہیں بلکہ 64 کنال ہے۔ یہ اراضی دو افراد ہدایت علی اور حاکم علی کی ملکیت بتائی جاتی ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ دونوں زمین کے اصل مالک تھے یا کسی کے فرنٹ مین۔ 1986میں اس اراضی کی پاور آف اٹارنی میر شکیل الرحمان کے نام ہے۔ اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ نواز شریف تھے اور وہی ترقیاتی ادارہ لاہور (ایل ڈی اے) کے چیئرمین بھی تھے۔ اس وقت نواز شریف اور میر شکیل الرحمان کے درمیان بڑی دوستی تھی۔

 الزام کے مطابق نواز شریف نے یہ 64 کنال اراضی صرف 18 لاکھ روپے میں میر شکیل الرحمان کے نام کر دی۔ اس سلسلہ میں رولز میں نرمی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کی طرف سے دستاویزات پر یہ بھی لکھا گیا کہ یہ خصوصی اور ون ٹائم کیس ہے جس کی بنیاد پر کسی اور کو ایسی کوئی اراضی نہیں دی جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ یا چیئرمین ایل ڈی اے اراضی کسی فرد، ادارے کو 15 کنال سے زیادہ الاٹ کرنے کے مجاز نہیں تھے۔ اس کجی کو دور کرنے کیلئے اس اراضی کو  نہری زمین ظاہر کیا گیا تھا یعنی زرعی زمین۔۔ اور وزیراعلیٰ نے رولز ریلیکس کر کے خصوصی اور ون ٹائم کیس قرار دے کر یہ اراضی الاٹ کی۔ تیس سال بعد 2016 میں جب نواز شریف وزیراعظم اور ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے، میر شکیل الرحمان نے اس اراضی کی رجسٹری اپنے نام کرائی اور کروڑوں روپے مالیت کی اس اراضی کی صرف 3 لاکھ 90 ہزار روپے فی کنال کے حساب سے سرکاری خزانے میں ادائیگی کی۔

اس طرح شکایت کنندہ کے مطابق نواز شریف اور شہباز شریف کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ اب میر شکیل الرحمان، جنگ جیو گروپ اور اس گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 34 سال پرانے اس کیس کو دباؤ ڈالنے کیلئے نکالا گیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ یہ 34 سال پرانا کیس ہے لیکن یہ رجسٹری بھی تو میر شکیل الرحمان نے 30 سال بعد 2016 میں کروائی ہے۔ اگر وہ 30 سال بعد رجسٹری کرا سکتے ہیں تو نیب 34 سال پرانا کیس کیوں نہیں نکال سکتا۔ اور رجسٹری کروانے کے بعد یہ کیس صرف تین سال پرانا بنتا ہے۔ بہرحال نیب کے نوٹس پر میر شکیل الرحمان جو سال کے 365 میں سے 352 دن بیرون ملک گزارتے ہیں۔ 5 مارچ کو ذاتی طور پر نیب کے سامنے پیش ہو گئے۔ اس وقت نیب آفس کے باہر اخبارات اور چینلز کے بیٹ رپورٹر، کیمرہ مین اور دوسرے عملے کے علاوہ جنگ اور جیو کے بیس سے پچیس افراد موجود تھے۔ حیرت انگیز طور پر اس موقع پر مسلم لیگ (ن) سے وابستہ بیس پچیس افراد بھی موجود تھے۔ جو نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز کی نیب میں پیشی کے موقع پر نیب آفس کے باہر ہلکی پھلکی نعرے بازی کرتے ہیں۔ ان (ن) لیگی کارکنان کی یہاں موجودگی سے عمومی تاثر یہ ابھرا کہ خود نواز شریف اور شہباز شریف اس کیس میں طلب کئے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کیس میں فائدہ تو میر شکیل الرحمان  کو ہؤالیکن یہ سارا کام نواز شریف اور شہباز شریف کے دستخطوں سے ہوا ہے۔ اس لیے شاید مسلم لیگی رہنماؤں نے نیب پر دباؤ ڈالنے کیلئے انہیں بھیجا ہو گا۔

 ان چالیس پچاس افراد نے  میر شکیل الرحمان سے اظہار یکجہتی تو کر لیا لیکن نیب پر کوئی مؤثر دباؤ نہ ڈال سکے۔ 5 مارچ کو میر شکیل الرحمان تفتیش کیلئے نیب آفس پہنچے تو جنگ، جیو، دی نیوز اور اس گروپ سے وابستہ صحافیوں نے ان کے گرد گھیرا ڈال لیا اور ان رپورٹرز نے کسی دوسرے ادارے کے صحافیوں کو کوئی سوال کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ایک دلچسپ صورتحال تھی جس میں ایک میڈیا گروپ کا مالک اپنے ہی ملازم ساتھیوں سے بات چیت کر رہا تھا اور سوال ایک ہی تھا کہ نیب میں طلبی کو آپ سیاسی انتقام نہیں سمجھتے اور کیا یہ اظہار رائے کو دبانے کی کوشش نہیں ہے۔ ان موافقانہ سوالات کا مختصر جواب دیتے ہوئے رے بین کی عینک لگائے میر شکیل الرحمان فاتحانہ انداز میں نیب کے آفس میں داخل ہوئے۔

 گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کی ابتدائی تفتیش کے بعد نیب کی تفتیشی ٹیم نے میر شکیل الرحمان کو 26 سوالات پر مبنی سوالنامہ تھماتے ہوئے 12 مارچ کو دوبارہ پیش ہونے کیلئے کہا اور متعلقہ دستاویزات اور ثبوت لانے کی بھی ہدایت کی۔ اس طرح یہ دن تو خیر خیریت سے گزر گیا۔ 12 مارچ کو دوسری پیشی یا طلبی کے موقع پر میر شکیل الرحمان رے بین کی قیمتی عینک لگائے اور دو تین فائلیں اٹھائے ہوئے نیب آفس پہنچے، دو ڈالوں پر سوار ان کے 8 گن مین بھی ساتھ تھے۔ جبکہ جنگ گروپ کے پندرہ سے بیس رپورٹر، کیمرہ مین اور دوسرے عملے کے علاوہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند اس میڈیا گروپ کے دس بارہ افسران بھی یہاں نظر آ رہے تھے۔ اس موقع پر جنگ جیو گروپ سے وابستہ افسران اور رپورٹر کوشش کرتے رہے کہ میر شکیل الرحمان سے کوئی سوال و جواب نہ ہو۔ وہ اس مقصد کیلئے دوسرے میڈیا کارکنوں کو قائل کرتے رہے کہ پیشی سے واپسی پر تفصیلی بات چیت کر لیں گے۔ چنانچہ جیسے ہی میر شکیل الرحمان گاڑی سے اترے، ان کے ملازم صحافیوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ لیکن بعض دوسرے چینلز کے رپورٹر ان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک رپورٹر کا سوال تھا کہ کیا آپ ثبوت لے کر آئے ہیں۔ میر شکیل الرحمان نے مختصر جواب دیا کہ وہ قانون کے مطابق تمام ثبوت دیں گے۔ جس پر دوسرا  سوال ہوا کہ اس اراضی کی الاٹمنٹ کے سلسلے میں کیا آپ نے قانون کے مطابق کام کیا ہے جس پر میر شکیل الرحمان صاحب کوئی جواب دیے  بغیر آگے بڑھ گئے۔

جنگ جیو گروپ کے مؤثر لوگوں کی خواہش تھی کہ میر شکیل الرحمان اپنی گاڑی پر ہی نیب کے دفتر کے اندر جائیں لیکن نیب حکام نے گاڑی باہر روک لی اور شکیل صاحب کو پیدل اندر جانا پڑا۔ تقریباً سوا گھنٹے بعد میر شکیل الرحمان کی گاڑی کو ڈرائیور اور گن مینوں کے ساتھ اندر جانے کی اجازت مل گئی جس پر جیو جنگ کے ورکرز بہت خوش تھے کہ اب میر صاحب پوری عزت کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھ کر باہر نکلیں گے۔ مگر نیب حکام نے گاڑی سے میر شکیل الرحمان کے ٹیلی فون، دیگر کاغذات اور شاید کچھ آلات قبضہ میں لینے تھے جو انہوں نے لے لیے۔ اس دوران یہ افواہیں بھی پھیلیں کہ میر شکیل الرحمان نے تفتیشی ٹیم کی خاتون رکن کو ڈانٹ پلائی جس کو میر شکیل الرحمان کے حامی ان کی جرات سے تعبیر کرتے رہے بلکہ دوسرے اسے کسی نئی طاقت کا پیش خیمہ قرار دے رہے تھے۔ مزید پندرہ منٹ کے بعد وہاں موجود اے آر وائی کے رپورٹر کو اپنے ذرائع سے یہ اطلاع مل گئی کہ میر شکیل الرحمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ اس رپورٹر نے نیب آفس سے ذرا ہٹ کر اپنی گاڑی سے اپنی آفس کو خبر دی اور بیپر ریکارڈ کرا دیا۔

 ادھر نیب آفس کے باہر جنگ جیو کے مجبور افسر خوش فہمیوں میں مبتلا تھے اور ادھر اے آر وائی پر میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی خبر چل رہی تھی۔ چنانچہ میر شکیل الرحمان کے بیٹے میر ابراہیم نے وہاں پر موجود ایک افسر کو فون کر کے حالات پوچھے تو انہیں سب اچھا کی رپورٹ دی گئی جس پر انہوں نے بتایا کہ اے آر وائی پر تو گرفتاری کی خبر چل رہی ہے۔ اس طرح جنگ جیو کے افسران جو میر شکیل الرحمان کو پھولوں کے ہار پہنا کر فاتحانہ انداز میں لانے کی تیاریاں کر رہے تھے ان کی حالت پنجابی کے اس شعر کے مصداق ہو گئی کہ:

ٹانگہ آ گیا کچہریوں خالی

تے سجناں نوں قید بول گئی

چنانچہ یہ افراد بے نیل مرام بھاگم دوڑ اپنے دفتر پہنچے اور وہاں سے اس گرفتاری پر شام غریباں شروع کر دی گئی۔ یہ شام غریباں تاحال جاری ہے۔ اسی وقت سے جنگ اور جیو انتظامیہ مختلف شہروں میں مظاہرے کروانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے اور مختلف صحافتی تنظیموں کو احتجاج کیلئے آمادہ کر رہی ہے مگر تاحال اسے کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی۔ اے پی این ایس، براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اور سی پی این ای مذمتی بیانات سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ سیاسی جماعتوں نے بھی روایتی انداز اپنایا۔ البتہ مسلم لیگ (ن) جس کے مرکزی قائدین کرپشن کے اس مقدمہ میں پھنس سکتے ہیں وہ تھوڑی سی سرگرم ہے۔ صحافیوں کی تنظیمیں واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہیں۔ ان تنظیموں کی وہ قیادت جن کی نوکریاں داؤ پر ہیں وہ بھی آگے آنے کو تیار نہیں کہ انہیں اپنی ہی صفوں سے شدید مزاحمت پر سامنا ہے۔ لاہور میں جہاں پر ایسے موقع پر میر شکیل الرحمان لاہور پریس کلب اور صحافی تنظیموں کو استعمال کر لیتے تھے اس بار انہیں شدید ناکامی ہوئی۔

لاہور پریس کلب نے اس گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے صحافتی تنظیموں کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا لیکن جنگ، نوائے وقت اور دیگر اداروں سے نکالے گئے صحافیوں کے شدید دباؤ پر یہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ البتہ لاہور جنگ گروپ سے نکالے گئے افراد کی ایسوی ایشن، نوائے وقت ورکرز یونین، لاہور پریس کلب کے پروگریسو گروپ، رائٹرز گروپ اور دیگر کئی گروپوں نے اپنا فوری اجلاس رائے حسنین طاہر سینئر نائب صدر لاہور پریس کلب اور خواجہ فرخ سابق صدر پی ایف یو جے دستور کی قیادت میں نہ صرف میر شکیل الرحمان سے اظہار لاتعلقی کیا بلکہ میر شکیل الرحمان کو جنگ جیو کے معاشی قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ لاہور پریس کلب کو میر شکیل الرحمان یا جنگ گروپ کے مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اور میر شکیل الرحمان کی حمایت میں ہونے والی ہر کارروائی کا اسی انداز میں جواب دیا جائے گا۔ یہ مزاحمت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک میر شکیل الرحمان اور دیگر میڈیا مالکان نکالے گئے صحافیوں اور کارکنوں کو واپس لے کر ان کے واجبات ادا نہیں کرتے۔ اپنے اداروں میں کام کرنے والوں کے بقایا جات ادا نہیں کرتے۔اور تمام کارکنوں کو ویج بورڈ کے مطابق تنخواہیں اور تقرر نامہ نہیں دیتے۔

مختلف گروپوں کے اس اجلاس کی متفقہ رائے تھی کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری آزادی اظہار کا مسئلہ نہیں۔ ایک کرپشن کا کیس ہے، وہ اس کا سامنا کریں۔ اے پی این ایس، براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اور سی پی این ای ان کیلئے جلوس نکالے، صحافی اور کارکن جلوس نہیں نکالیں گے جن کا میر شکیل الرحمان گزشتہ 40 سال سے استحصال اور معاشی قتل کر رہے ہیں۔ ان تنظیموں نے جیو گروپ کے اس موقف کو غلط قرار دیا کہ یہ گرفتاری آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمان نے اپنے ادارے کے صحافیوں کو سچ لکھنے پر عتاب کا نشانہ بنایا ہے۔ سچی خبر کی اشاعت پر رپورٹر عظیم چوہدری اور نامہ نگار اشرف کو خود حکام کے حوالے کرنے چلے گئے تھے۔ وہ اپنے ادارے میں صحافتی تنظیموں کے خبریں تک روک لیتے ہیں۔ وہ اپنے اخبار میں لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کا داخلہ روک لیتے ہیں۔ بعض انتہائی سینئر اخبار نویسوں کو سچ لکھنے یا کہنے پر نوکری سے نکالتے رہے ہیں۔ وہ کارکنان کی محنت سے اربوں روپے کی دولت کماتے ہیں لیکن انہیں ویج ایوارڈ کے مطابق تنخواہیں دیتے، نہ ملازمت میں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

جنگ کے چند درجن ملازمین کے علاوہ ان کے تمام ملازمین کنٹریکٹ یا ڈیلی ویجز پر ہیں۔ انہیں بھی کسی جعلی کمپنی کے نام پر ملازم رکھا گیا ہے۔ وہ چند افراد کو اعلیٰ تنخواہیں دے کر باقی ملازمین کا مسلسل استحصال کر رہے ہیں۔ صحافتی اخلاقیات کو جس طرح انہوں نے پامال کیا اس کی کوئی دوسری مثال مشکل ہے۔ وہ ہر مشکل وقت میں اپنے ملازمین اور دیگر صحافیوں کو استعمال کرتے ہیں اور وقت گزرنے پر انہیں ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ اس لیے اس بار عام صحافی اور اخباری کارکن ڈٹ گیا ہے۔ بے پناہ دولت، وسائل اور خفیہ و اعلانیہ پشت پناہی کے باوجود میڈیا ٹائیکون اس بار مشکل میں نظر آتا ہے۔

loading...