کورونا وائرس سے 19ہزار سے زائد ہلاکتیں، 4لاکھ 35ہزار افراد متاثر

  • بدھ 25 / مارچ / 2020
  • 1210

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں اور متاثرہ افراد کی تعداد تیز ی سے بڑھ رہی ہے۔ اب تک وائرس سے 19ہزار سے زائد افراد ہلاک اور سوا 4لاکھ متاثر ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور ملک میں مجموعی متاثرین کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ کیسز سندھ میں سامنے آئے ہیں جہاں تعداد 413 ہے جبکہ اس کے بعد پنجاب میں 312 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

یورپی ملک سپین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد چین سے بڑھ گئی ہے اور اب سپین ہلاکتوں کے لحاظ سے اٹلی کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ سپین میں گزشتہ 24 گھنٹے میں 738 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد وہاں ہلاک شدگان کی کل تعداد 3434 ہو گئی ہے۔ چین میں ہلاکتوں کی تعداد 3285 تھی۔ اٹلی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ  متاثر ہونے والا ملک ہے۔ وہاں اب تک 6800 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں

اٹلی سمیت دنیا بھر میں ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھنے کے سبب دنیا بھر کورونا وائرس کا خطرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جان ہوکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک دنیا بھر میں 19ہزار 625افراد کورونا وائرس کے سبب موت کا شکار ہوئے ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 4لاکھ 35ہزار سے زائد ہے۔

اٹلی میں ایک مرتبہ پھر ایک ہی دن میں 743افراد کی ہلاکت کے بعد وائرس سے ہلاک افراد کی 6ہزار 820ہوگئی ہے جبکہ 69ہزار 176افراد وائرس کی زد میں ہیں۔ اسپین میں بھی وائرس سے ہلاکتیں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں اور مرنے والوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اسپین میں گزشتہ روز مزید 738ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی جس سے اب مرنے والوں کی تعداد 3ہزار 434ہو گئی ہے۔

تھائی لینڈ میں مزید 107کے وائرس کا شکار ہونے کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 934ہو گئی ہے جس کے بعد حکومت نے ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  تھائی لینڈ میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد ملک میں موجود 60ہزار سے زائد غیرملکی اپنے اپنے ملک روانہ ہوگئے ہیں۔  تھائی وزارت داخلہ کے مطابق حکام نے ملک میں تمام کاروبار اور شاپنگ مال بند کر دیے ہیں اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے۔

بھارت میں 21دن کے لیے سوا ارب سے زائد آبادی کو لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں منگل سے ملک بھر میں 21دن کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔  بھارتی وزیر اعظم نے ملک میں ہونے والی 10اموات کے بعد کیے گئے اس اعلان میں صحت کے نظام کے لیے 2ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان بھی کیا۔

بھارت نے ملک سے ملیریا سمیت اس طرح کے کامبی نیشن سے بنی کسی بھی قسم کی دوا کو بیرون ملک بھیجنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ابھی تک کورونا وائرس کی کوئی دوا یا ویکسین ایجاد نہیں ہوئی اور اس سلسلے میں مختلف ادویہ کی آزمائش جاری ہے۔ جس میں سے ایک ملیریا کی دوائی ہائیڈراکسی کلورائیڈ بھی ہے جسے ممکنہ علاج تصور کیا جا رہا ہے۔

سنگاپور نے موجودہ بحرانی صورتحال میں ایک سال بعد ہونے والے انتخابات کے قبل از وقت انعقاد کا اعلان کیا ہے جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ سنگاپور میں انتخابات کا انعقاد 2021 کے اوائل میں ہونا ہے لیکن کورونا وائرس کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزرا کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی قیادت کی ضرورت ہے لہٰذا قبل از وقت انتخابات وقت کی ضرورت ہیں۔

جرمنی میں 4ہزار 191نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس سے ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 31ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ جرمنی میں مزید 36افراد ہلاک ہوئے۔ اس طرح وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 149ہوگئی ہے۔

جنوبی افریقہ میں بھی کیسز تیزی سے رپورٹ ہوئے ہیں اور 155 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے سبب ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 709ہو گئی ہے۔

امریکا میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے 2ہزار ارب ڈالر کا امدادی پیکج منظور کر لیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور سینیٹ میں کئی دن سے جاری بحث کے بعد بالآخر اس امدادی پیکج کے حوالے سے معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر جنوبی کوریا نے امریکا کو فوری طور پر طبی آلات کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے۔

امریکا وائرس سے ماتثر ہونے والا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے اور ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا اس وائرس کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جنوبی کورین ہم منصب مون جے ان کو 23منٹ کی کال کی جس میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنوبی کوریا طبی آلات اور ضروری مصنوعات جبکہ امریکا  کھانے کی اشیا اور دوائیں فراہم کرے گا۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم نے ملک میں 18مارچ سے جاری لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتوں کی توسیع کردی ہے۔ ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے محی الدین یاسین نے کہا کہ 172مزید کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جس سے ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار 796ہو گئی ہے۔

آسٹریلیا میں بھی لاک ڈاؤن جاری ہے اور حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر نیو ساؤتھ ویلز میں پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ایک ہزار آسٹریلین ڈالر جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا میں مزید 211افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جس سے ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد ملک میں ایک ماہ کے لاک ڈاؤن کا قوی امکان ہے۔ نیوزی لینڈ میں ابھی تک صرف 205کیس رپورٹ ہوئے ہیں لیکن جیسنڈرا آرڈرن نے کہا کہ یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔

آرڈرن نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ غلطی نہ کریں، یہ بدترین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اگر ہم نے سستی کا مظاہرہ کیا تو یہ بحران اگلے دو سے تین ہفتوں میں شدت اختیار کرسکتا ہے۔ نیوزی لینڈ میں پہلے ہی اسکول، کالجز اور تممام غیرضروری کاروبار بند ہیں۔

چین میں بیرون سے آنے والے لوگوں کے سبب ملک میں مزید 47کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ منگل کو مزید 47کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں اس طرح کے کیسز کی تعداد 474 ہو گئی ہے۔ اس دوران وائرس کا سب سے پہلے نشانہ بننے الے صوبہ ہوبئی میں لاک ڈاؤن ختم کرنے زندگی معمول پ رلانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

loading...