امریکہ کورونا وائرس کا نیا مرکز بن سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او

  • بدھ 25 / مارچ / 2020
  • 740

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کورونا وائرس کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔ امریکی حکام نے ​کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیشِ نظر نیویارک شہر کے مکینوں کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ترجمان مارگریٹ ہیرس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد خدشہ ہے کہ وہ کورونا وائرس کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 85 فی صد نئے کیسز یورپ اور امریکہ سے رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 40 فی صد صرف امریکہ میں رپورٹ ہوئے۔ امریکہ میں پیر تک کورونا وائرس سے 42 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے اور کم از کم 559 ہلاک ہوئے۔

امریکہ کی مختلف ریاستوں نے سہولیات کے فقدان کی شکایت کی ہے جب کہ صدر ٹرمپ نے بھی اس کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں فیس ماسک اور وینٹی لیٹر کی قلت ہے اور ہم ریاستوں کو طبی آلات کی فراہمی کے لیے مدد کر رہے ہیں لیکن یہ آسان نہیں ہے۔ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم ٹاسک فورس کے رکن ڈیبورا برکس نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ نیویارک کا ہر شہری خود کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھے۔

کورونا وائرس سے نیویارک میں اب تک 131 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 2200 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے 525 کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا ہے۔ امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کا کہنا ہے کہ جن شہریوں نے حال ہی میں نیویارک کا سفر کیا ہے وہ اپنے  درجہ حرارت اور کورونا وائرس کی دیگر علامات کا جائزہ لیتے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورت میں نیویارک کو اس وقت شدید خطرہ ہے۔ اس لیے اس وبا سے لڑنے کے لیے شہریوں کا تعاون درکار ہے۔ امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی کے ڈائریکٹر انتھونی فاؤچی نے نیویارک کے شہریوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت کی ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔

loading...