کورونا کے عہد میں سیاسی اور سماجی فاصلہ

چین سے دسمبر 2019 میں شروع ہونے والی کورونا وبا اس وقت تقریباً 180 ممالک میں پھیل چکی ہے۔ ہزاروں اموات جلد ہی لاکھوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

چین نے سخت اقدامات لیتے ہوئے تقریبا تین ماہ کے لیے ووہان شہر کو بند کیا اور کسی حد تک اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہوا ہے۔ چونکہ چین ایک بند معاشرہ ہے تو اس لیے ان کے بتائے ہوئے اعداد و شمار پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اب تک اس وبا کی کوئی ویکسین نہیں بن سکی ہے تو یہ آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ متاثرین میں شاید کمی ہوئی ہے لیکن یہ وبا ابھی بھی چین میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے۔

آہستہ آہستہ یہ خطرناک بیماری تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ چین نے جس طریقے سے متاثرین کی تعداد بڑھنے سے روکی ہے اس میں ساری دنیا کے لیے ایک سبق ہے۔ کئی ممالک تھوڑی سی تبدیلیوں کے ساتھ اسی حکمت عملی کو اپنا رہے ہیں۔ اٹلی، سپین، فرانس، برطانیہ اور امریکہ اپنے بڑے بڑے شہروں کو مکمل طور پر بند کر رہے ہیں یا اس سمت بڑھ رہے ہیں۔

ان تمام ممالک کی توجہ اس وقت انسانی جانوں کو بچانے پر ہے نہ کہ کیسے معیشت اور تجارت کو محفوظ کیا جائے۔ دنیا کی معیشت تقریبا رک گئی ہے لیکن سارا زور انسانی جانیں بچانے پر ہے۔ ان ممالک پر یہ واضح ہے کہ اگر انسان بچیں گے تو معیشت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ عموماً اس قسم کے طبی بحرانوں میں اپنی سائنسی برتری کی وجہ سے دنیا کی قیادت کر رہا ہوتا تھا لیکن بدقسمتی سے ایک کم فہم صدر کی وجہ سے، موسم کے تبدیل ہونے یا ملیریا کی دوا کے استعمال سے کورونا وبا کے خاتمے کا انتظار کر رہا ہے۔ سیاسی قیادت اس قسم کے بحرانوں میں قوم کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے نہ کہ ان کے خدشات بڑھا دے۔

000_1Q48EZ.jpg

 

یہی حال ہماری سیاسی قیادت کا ہے جو کہ مشکل فیصلے کرنے کی نہ تو اہلیت رکھتی ہے اور نہ ہی مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھ پا رہی ہے۔ اس وبا کے بارے میں سیاسی قیادت میں سنجیدگی کا فقدان نظر آ رہا ہے تو عوام بھی اس مسئلہ کو گرم موسم اور غیبی مدد سے ختم ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ وبا کے بارے میں وسیح معلومات کے باوجود ہماری انتظامیہ نے تقریباً دو قیمتی ماہ کچھ نہ کرتے ہوئے ضائع کر دیے۔ حکومت پچھلے 19 مہینوں کی طرح ان دو ماہ میں بھی سیاسی مخالفین کی سرکوبی میں مصروف دکھائی دی۔ حد تو یہ ہے کہ اس ماہ بھی کورونا پر توجہ دینے کی بجائے حکومت کا زور جیو نیوز چینل کو بند کرنے اور اسے کیبل پر پچھلے نمبروں پر دھکیلنے میں صرف ہوا۔ اسی ماہ ایک اینکر کے پروگرام کو وزیر اعظم پر تنقید کرنے کی وجہ سے بند کرا دیا گیا۔ حکومتی عہدیدار اور ان کے حمایتی اسی ماہ کورونا سے جنگ کرنے کی بجائے مخالف سیاسی رہنماؤں کی حب الوطنی پر شکوک پیدا کرنے میں مصروف رہے۔

وفاقی حکومت کسی طرح بھی کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے فرنٹ فٹ پر احتیاطی تدابیر کرتے نظر نہیں آئی۔ تفتان سے زائرین کا پورے ملک میں پھیل جانا اس حکومت کی ناکامی اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جو حکومت چند ہزار لوگوں کے لیے تفتان میں مناسب طبی سہولتوں کے ساتھ قرنطینہ نہیں بنا سکی، اس کی قیادت اور اہلیت پر اس سنگین بحران میں اعتماد کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ تفتان میں شرمناک ناکامی اس وجہ سے اور بھی پریشان کن ہو جاتی ہے کہ بلوچستان میں پاک فوج اور ایف سی کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جو کہ مکمل طور پر لیس ہے اور مؤثر طریقے سے پاکستان کی ایران کے ساتھ سرحد کی حفاظت کر رہی ہے۔ انہیں بڑی آسانی سے اس قومی سلامتی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تعینات کیا جا سکتا تھا اور فیلڈ ہسپتال قائم کر کے زائرین کی ضروری ٹیسٹنگ کی جاسکتی تھی۔

گو اب تک کافی وقت ضائع ہوچکا ہے لیکن ابھی بھی تیزی سے احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس وبا کو زیادہ پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں عوام میں آگہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اس میں میڈیا اور سوشل میڈیا کا استعمال بہت اہم ہے۔ پاکستانی نیوز چینلز پر کچھ آگہی کی مہم تو چل رہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس مہم کا آغاز چینلز نے خود کیا ہے اور حکومت نے اس میں اپنا حصہ ابھی تک نہیں ڈالا۔ تفریحی ٹی وی چینل جو کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد دیکھتی ہے اس میں اس قسم کی کوئی مہم دیکھنے میں نہیں آتی ہے۔ عام لوگوں میں اس وبا کے خطرناک نتائج کے بارے میں آگاہی انتہائی ضروری ہے۔

اس وبا سے نمٹنے کے لیے سماجی فاصلوں پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے رہنماؤں کو بھی اس مسئلے کی سنگینی کا احساس نہیں اور وہ سماجی رابطے کم کرنے کی بجائے انہیں سرکاری سطح پر بڑھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چند روز پہلے گورنر پنجاب اور وزیر اعلی نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حلف برداری کی ایک بڑی تقریب منعقد کی جو کہ یقیناً ایک منفی پیغام تھا۔  حکومتی رہنماؤں کو جن کا کوئی طبی تجربہ نہیں ہے غیرتصدیق شدہ طبی مشورے دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ حال ہی میں گورنر پنجاب نے گرم پانی پینے کو کورونا کا حل بتایا اور وزیر اعلی پنجاب تو کورونا کو ایک مچھر سمجھتے ہوئے اس کے کاٹنے کے بارے میں معلومات دریافت کرتے ہوئے پائے گئے۔ این ڈی ایم اے میں ایک ماہر طب کو اس مہم کی سربراہی کرنی چاہیے نہ کہ ایک عام انتظامی اہلکار کو۔

تمام سماجی اور مذہبی تقریبات پر فوراً پابندی لگائی جانی چاہیے اور خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔ اگر خانہ کعبہ میں زائرین کی آمد پر پابندی ہے اور مسجد نبوی کو نماز ادا کرنے کے لیے بند کر دیا گیا ہے تو ہمارے ہاں بھی مسجدوں کو کچھ دنوں کے لیے بند کرنے سے کوئی مذہبی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔ جو مذہبی رہنما اس سلسلے میں غلط معلومات پھیلا رہے ہیں ان کی فوراً روک تھام کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو مرکزی مذہبی رہنماؤں کو متحد کر کے ایک جامع حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

ان سب مسائل کا اب تک مستند اور کچھ حد تک کامیاب حل شہروں کو بند کرنا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر بڑے شہروں میں کم از کم ابتدائی طور پر ایک ہفتے کا لاک ڈاؤن کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم اس سلسلے میں لوگوں کے بیروزگار ہو جانے اور معیشت کو نقصان کی وجہ سے فکر مند ہیں اور لاک ڈاؤن سے بچنا چاہتے ہیں۔ جناب وزیر اعظم سے گوش گزار ہے کہ اگر خدا نخواستہ بےتحاشہ اموات ہوئیں تو کون سی معیشت بچے گی؟ ویسے بھی تمام معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے اور اس کی بحالی میں سالوں لگیں گے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس وقت ہم نے پاکستانیوں کی جان بچانی ہے یا معیشت کی فکر کرنی ہے۔ خدا نخواستہ اگر زیادہ اموات ہوتی ہیں تو معیشت ویسے بھی نہیں بچے گی۔ وزیر اعظم کو لاک ڈاؤن کے سلسلے میں روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والوں کی تکلیف کا بھی احساس ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں تقریبا 80 لاکھ افراد روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہیں اور ان تمام کو روزانہ کی ضروریات اگلے ایک ہفتے تک مہیا کرنے پر صرف 10 سے 15 ارب روپے لگیں گے۔

کیا ہماری وفاقی حکومت اس معمولی رقم کا بھی انتظام نہیں کرسکتی؟ وسائل کے لیے اس سلسلے میں مخیر حضرات سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ معاشی ماہرین کی رائے میں اگر ہم شرح سود کو صفر پر لے آئیں تو حکومت کے اپنے قرضوں کو ادا کرنے میں تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی ادارے بھی تمام متاثرہ ممالک کی مدد کرنے کو تیار نظر آتے ہیں اور انہوں نے اس مقصد کے لیے خطیر رقم بھی مختص کر دی ہے۔

چونکہ یہ جنگی حالت ہے اور ہماری افواج اس طرح کی جنگی حالات کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتی ہیں تو پاک فوج کو آگے بڑھ کر ہر بڑے شہر میں فیلڈ ہسپتال قائم کرنے چاہئیں۔ اس سلسلے میں زیر تعمیر اور تقریباً مکمل اپارٹمنٹ بلڈنگز کو فوراً زیراستعمال لایا جا سکتا ہے۔ صرف اسلام آباد میں ایسی بےتحاشہ عمارتیں خالی پڑی ہیں اور انہیں فوراً فیلڈ ہسپتالوں میں آسانی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے اور مریضوں کو ان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

چونکہ کورونا بحران کی وجہ سے اس وقت تمام ہوٹل تقریباً خالی پڑے ہوئے ہیں تو حکومت کو ان تمام بڑے بڑے ہوٹلوں کو فوراً ہسپتالوں میں تبدیل کر دینا چاہیے۔ ان ہوٹلوں میں صرف اور صرف کورونا کے مریضوں کا علاج کیا جائے۔ اس اقدام سے موجودہ ہسپتالوں کے وسائل پر دباؤ بھی کم پڑے گا اور تقریباً مکمل طور پر تیار ہسپتال اس بحران کا سامنا کرنے کے لیے فوراً تیار ہوں گے۔ ان ہوٹل ہسپتالوں میں نہ تو بستر اور نا ہی چادروں کی کمی ہوگی اور نہ ہی مریضوں کے لیے کھانا تیار کرنے کے لیے کچنز بنانے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی چادروں کو دھلوانے کے لیے لانڈری بنانی پڑے گی۔ بحران کے خاتمے پر ہوٹلوں کی انتظامیہ کو مناسب معاوضہ ادا کیا جاسکتا ہے۔ کئی ممالک میں ایسا کیا بھی جا رہا ہے۔

ہمیں اس وجودی خطرے سے نمٹنے کے لیے سیاسی طور پر بھی متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کو آگے بڑھ کر سیاسی قوتوں کے ساتھ اختلافات ختم کرکے اور انہیں ساتھ ملا کر اس مشترکہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا وہ اس چیلنج کا سامنا کرنے کی ہمت اور اہلیت رکھتے ہیں؟

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)

loading...