چلی ہے شہر میں اب کے ہوا ترکِ تعلق کی

سنا تھا کہ رفاقتوں سے محروم انسان بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ رفاقتوں سے محرومی کا پہلا نتیجہ تنہائی ہوتی ہے۔ تنہائی کو بھی ایک بیماری کہا جاتا رہا کیونکہ غمِ تنہائی بہت سی دیگر بیماریوں کی وجہ بنتا تھا، اسی لیے اکثر شاعر وصالِ یار کی آرزو کیا کرتے اور ترکِ تعلق کو ایک وبا قرار دیا کرتے تھے۔

قسمت دیکھئے کہ ہمیں اپنی اس زندگی میں ایسا دور دیکھنا پڑا جب دنیا بھر کے ڈاکٹر تنہائی اور ترکِ تعلق کو ایک خطرناک وبا کا علاج قرار دے رہے ہیں۔ کورونا وائرس نامی عالمی وبا چین سے اٹلی اور ایران سے پاکستان تک ہزاروں افراد کی جان لے چکی ہے اور لاکھوں انسان اس وبا کا شکار ہو کر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ طاقتور اقوام اسلحہ اور ایٹمی ہتھیار بنانے پر سالانہ کھربوں خرچ کرتی رہیں لیکن کورونا وائرس کے سامنے سب ایٹمی طاقتیں بےبس ہیں۔ کسی کے پاس اس وبا کا کوئی علاج نہیں کیونکہ صحت اور ماحولیاتی صفائی ان طاقتور اقوام کی ترجیحات میں شامل ہی نہ تھے۔

اب یہ طاقتور اقوام اس عالمی وبا سے بچنے کے لئے اپنی سرحدیں بند کر رہی ہیں، کہیں کرفیو نافذ ہو رہا ہے، کہیں لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ اموات روز بروز بڑھ رہی ہیں اور بےبس ڈاکٹر صاحبان وصالِ یار کو زہرِ قاتل قرار دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں نہ بچوں کے ماتھے پر بوسہ دو، نہ کسی کو گلے لگاؤ یہاں تک کہ ہاتھ بھی نہ ملاؤ، بس دور دور سے ہاتھ ہلاؤ۔ دو ہفتے قبل میں دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کے شہر نیویارک میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ہیڈ کوارٹر سے اپنے دوست سٹیون بٹلر کے ساتھ ایک کافی شاپ کی طرف روانہ ہوا جہاں باب ڈیٹنر ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ سٹیون بٹلر تمام راستے کورونا وائرس کی باتیں کرتا رہا۔ وہ بتا رہا تھا کہ آج کے بعد وہ دفتر نہیں آئے گا بلکہ گھر سے اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرے گا۔ مجھے یہ سب بہت عجیب لگا۔ ایک صحافی گھر پر بیٹھ کر کیسے کام کر سکتا ہے؟

باب ڈیٹنر سے ملاقات کے بعد میں براڈ وے پر فارمیسی کے ایک بڑے اسٹور میں داخل ہوا تاکہ سینی ٹائزر خرید سکوں۔ اس سٹور پر تمام سینی ٹائزر ختم ہو چکے تھے۔ پتا چلا کہ لوگ اشیائے خورونوش اور ادویات خرید خرید کر گھروں میں اپنے آپ کو قید کر رہے ہیں۔ سپر پاور کے شہری کورونا وائرس کے سامنے بےبس تھے۔ دو دن بعد پاکستان واپس آیا تو ہمارا میڈیا کورونا وائرس کے بجائے اس بحث میں الجھا ہوا تھا کہ نواز شریف پاکستان واپس آئیں گے یا نہیں؟ اس دوران جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو نیب نے گرفتار کرلیا۔ مجھے یقین ہے کہ اس گرفتاری کی ٹائمنگ کے پیچھے یہ خام خیالی تھی کہ کورونا وائرس کے خطرے میں میر شکیل الرحمٰن کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھائے گا لیکن نیب کا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔

کوئی مانے یا نہ مانے، حکومت اور نیب کی وجہ سے میڈیا نے بہت دیر سے کورونا وائرس کی طرف توجہ دی ہے۔ حکومت کے کچھ وزیروں اور مشیروں کے طرزِ گفتگو سے یہ خدشہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی نااہلیوں اور نالائقیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کورونا وائرس سے اموات کی ذمہ داری بھی میڈیا پر ڈالنے میں جھجک محسوس نہیں کریں گے۔ کوئی کہتا ہے کورونا وائرس ﷲ کا عذاب ہے۔ کوئی کہتا ہے عذاب نہیں امتحان ہے۔ 2009 زیادہ پرانی بات نہیں۔ میکسیکو سے ایک سوائن فلو نامی وبا پھیلی تھی جس میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے۔ اس سے پہلے طاعون، ہیضہ، انفلوئنزیا اور زرد بخار جیسی عالمی وباؤں کو بھی یہ دنیا دیکھ چکی ہے۔ کچھ برسوں سے ہمیں ڈینگی وائرس کا بھی سامنا ہے لیکن کسی وبا نے اتنی دہشت نہیں پھیلائی جتنی کورونا وائرس نے پھیلا رکھی ہے۔

اسے عذاب کہیے یا امتحان لیکن یہ طے ہے کہ اکثر وبائیں گندگی سے پھیلتی ہیں اور اسی لئے ماہرینِ طب کو بھی کورونا وائرس کا یہی علاج سوجھ رہا ہے کہ بار بار ہاتھ دھوتے رہیں اور اظہارِ محبت میں حد سے زیادہ محتاط ہو جائیں۔ ایک شاعر نے کہا تھا:
پہلے تو ترکِ تعلق کی وبا پھیلے گی
پھر محبت کا بھی انکار کیا جائے گا

ترکِ تعلق کی وبا سے متعلق مذکورہ بالا شعر ممتاز احمد شیخ کا ہے۔ اسی قسم کا ایک شعر اعتبار ساجد نے بھی کہا:
چلی ہے شہر میں اب کے ہوا ترکِ تعلق کی
کہیں ہم سے نہ ہو جائے خطا ترکِ تعلق کی

شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا ’’فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں‘‘۔ یعنی اقبالؒ نے ربطِ ملت کو قوم کی بقا قرار دیا تھا لیکن آج ہر حکومت اور ہر ڈاکٹر کہتا ہے کہ ربطِ ملت تمہاری فنا ہے، اس لیے سب رابطے توڑ کر خود کو گھروں میں قید کر لو۔ کچھ دوستوں نے مجھے بار بار میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف مظاہروں میں دیکھا تو بڑی سختی سے کہا کہ اگر آپ ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا؟ ایک شام میں نے تجرباتی طور پر چند گھنٹوں کیلئے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا اور کتابوں کے ساتھ وقت گزارنے کی کوشش کی۔ اس تنہائی نے مجھے اُداس کر دیا اور میں سوچنے لگا کہ پہلے تم ہجوم سے گھبراتے تھے، اب تنہائی میں ہجوم یاد آتا ہے۔ پہلے دوستوں اور عزیزوں کے لئے وقت نہیں تھا، اب وقت تو ہے لیکن درمیان میں فاصلے آ گئے۔

نیک لوگ تنہائی میں عبادت کیا کرتے ہیں لیکن کورونا وائرس نے تو نیک اور گناہگار کی تفریق بھی مٹا دی۔ مسجدیں، مندر، گرجا گھر، سینما ہال، پارک، ریسٹورنٹ سب ویران کر دیے۔ جس کے پاس جتنا زیادہ علم و شعور ہے وہ اتنا ہی زیادہ خوفزدہ ہے اور جو علم و شعور سے عاری ہیں وہ اپنے آپ میں مگن ہیں۔ علاجِ غمِ تنہائی کیلئے ایک کتاب کی ورق گردانی میں افتخار عارف کے اس شعر پر رک گیا:
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

اگر افتخار عارف صاحب سے ملاقات ہوئی تو دور سے سلام کے بعد پوچھوں گا کہ حضور کورونا وائرس سے بچاؤ کی دوا تنہائی ہے لیکن تنہائی میں مر جانے کو جی چاہے تو کیا کریں؟
میں اور میری تنہائی آخر کتنی دیر باتیں کریں؟ اسی دوران خیال آیا کہ زندگی اور موت تو ﷲ کے ہاتھ میں ہے تو پھر کورونا وائرس سے کیا گھبرانا؟ لیکن اگر دین بھی یہی کہے کہ جہاں وبا پھیل جائے اُدھر مت جاؤ تو پھر احتیاط لازم ہے۔ سب سے بڑی احتیاط صفائی ہے جو نصف ایمان بھی ہے۔ زندگی کے سب کام بند نہیں ہو سکتے۔ کچھ کام ضروری ہوتے ہیں لیکن یہ کام بہت احتیاط سے کیے جائیں۔

جو ترکِ تعلق کو وبا کہتے تھے اب اُنہیں ماننا پڑے گا کہ ترکِ تعلق کچھ عرصہ کیلئے ایک دوا ہے لیکن یہ دوا زیادہ عرصہ نہیں چلے گی کیونکہ ہر مشکل وقت آخر کار گزر ہی جاتا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...