کیا گرم موسم کورونا وائرس کا پھیلاؤ روک سکتا ہے؟

  • سوموار 23 / مارچ / 2020
  • 820

محققین یہ امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے فطرت مدد گار ثابت ہوسکتی ہے اور گرم موسم میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی ہو سکتی ہے۔

امریکہ کے تعلیمی ادارے 'میسی چوسسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی' (ایم آئی ٹی) کی ابتدائی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جن ممالک میں موسم قدرے گرم رہتا ہے۔ اُن ممالک میں کورونا کا پھیلاؤ سست ہے۔ ایم آئی ٹی کے محققین کے مطابق کورونا وائرس ان ممالک میں سامنے آیا ہے۔ جہاں درجہ حرارت 3 سے 17 ڈگری گریڈ ہے۔ لیکن جن ممالک میں درجہ حرارت 18 ڈگری گریڈ سے زیادہ ہے۔ وہاں کورونا وائرس کے کیسز 6 فی صد سے کم ہیں۔

امریکی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق اس تحقیق کے معاون مصنف قاسم بخاری کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں موسم سرد ہے۔ ان ممالک میں کورونا وائرس کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ جیسا کہ یورپ میں طب کی بہترین سہولیات ہونے کے باوجود وہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں اضافہ دیکھا گیا۔

قاسم بخاری کا کہنا ہے کہ امریکی ریاستوں واشنگٹن، نیو یارک اور کولوراڈو کی نسبت ایریزونا، فلوریڈا اور ٹیکساس میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ قدرے کم رفتار سے ہؤا ہے۔ ڈاکٹر قاسم بخاری کا مزید کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے سے ممکن ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شدت میں کمی آ جائے۔ تاہم اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوگا کہ کورونا وائرس مزید نہیں پھیلے گا۔ یہ ممکن ہے کہ گرم موسم کی وجہ سے کورونا وائرس ہوا اور سطح پر زیادہ دیر کے لیے قائم نہ رہ سکے لیکن پھر بھی یہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف وبائی امراض کے ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ دیگر وائرسز کی طرح کورونا وائرس پر بھی موسم اثر انداز ہو سکتا ہے۔ گلوبل ایڈز کو آرڈینیٹر اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کورونا وائرس کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کی رکن ڈاکٹر دیبورا برکس کا حالیہ بریفنگ میں کہنا تھا کہ نصف کرہ شمالی میں نومبر سے اپریل کے دوران زکام کا رجحان رہتا ہے۔ ڈاکٹر برکس کے مطابق کورونا وائرس کا رجحان بھی 2003 میں پھیلنے والی سارس کی وبا جیسا ہے۔

ان کے بقول چونکہ کورونا وائرس چین اور شمالی کوریا سے سامنے آیا ہے لہذا یہ کہنا مشکل ہے کہ کورونا وائرس کے ختم ہونے میں بھی اتنا ہی وقت لگے گا۔ اسپین اور فن لینڈ میں ہونے والی ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ ان ممالک میں زیادہ تیزی سے ہوا ہے، جہاں موسم خشک اور درجہ حرارت منفی 2 اور 10 ڈگری گریڈ کے درمیان تھا۔

ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی طرف سے کورونا وائرس کے خلاف لیے گئے جارحانہ اقدامات سے پہلے جن شہروں میں درجہ حرارت زیادہ اور مرطوب تھا۔ وہاں کورونا وائرس کا پھیلاؤ قدرے کم رفتار سے دیکھا گیا ہے۔

loading...