لاقانونیت کے ہیرو

یہ سازشی تھیوریوں کا موسم ہے ۔ سوشل میڈیا ہو یا انٹی سوشل میڈیا  ، پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا ہر میڈیا منڈی میں رنگ برنگی نظریاتی اجناس بک رہی ہیں ، جھوٹ کے طومار لگے ہیں ، ٹاک شوز میں اتنا شور و غوغا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی اور تِس پر ٹِک ٹوک کی شُرلیاں اور پٹاخے ہر روز اپنی شبرات مناتے ہیں اور ایسی ایسی نازک جگہوں پر چاقو سے گُد گُدی کرتے ہیں کہ گہے ہنسی نکل جاتی ہے اور گہے افسوس ہوتا ہے ۔

 یہ ہمارے معاشرے کی ابلاغی تصویر ہے جس میں ہم سب کے ہیولے اور سائے نظر آتے ہیں ۔ہم یہ تھیوریاں باغِ عدن  سے ساتھ لائے ہیں ۔ جب ہمارے ابو الآبا ابھی رحمِ فطرت میں تھے تو رب نے اُن کی خلافت کا اعلان کردیا ۔   اس پر پہلی تھیوری  ایک اعتراض کی صورت میں رب کے اپنے مقربین فرشتوں کی طرف سے آئی کہ اُسے کیوں وجود میں لایا جا رہا ہے جو زمین پر فتنہ و فساد برپا کرے گا ۔ جس پر حق تعالیٰ سے جواب آیا کہ اِنی اعلم ما لا تعلمون ۔ کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ۔ یعنی تھیوریاں بے علمی کی بنیاد پر گھڑی جاتی ہیں اور اپنے اوہام اور ہذیان کو ان کے ذریعے باقاعدہ استدلال سے پیش کیا جاتا ہے ۔ ہمارے گرد یہی کچھ ہورہا لیکن ہم میں سے کوئی اس اختیار اور منصب کا مالک نہیں کہ وہ انی اعلم ما لا تعلمون کہہ سکے  ۔ہم سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود بقولِ غالب:

ہم بھی مونہہ میں زبان رکھتے ہیں

کاش پوچھو کہ ماجرا کیا ہے

ماجرا یہ ہے کہ آج کا مسلمان اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔ وہ کیسے ؟ ایک تو اس لیے کہ اُس نے رب العالمین کو رب المسلمین بنا رکھا  ہے اور پھر ربُ المسلمین کے بہتر ٹکڑے کر رکھے ہیں ۔ اور سمجھتا ہے کہ اُس کے علاوہ سب کفار ہیں اور واجب القتل ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ پندرہ صدیوں میں  رب المسلمین کے اطاعت گزاروں نے  تاریخ کی کتابوں کے علاوہ وہ معاشرہ  اس زمین پر تعمیر نہیں کیا جس سے محمدی مساوات اور اخوت کی مہک آئے ۔ جہاں مسلمان بھائی بھائی بن کر رہتے ہوں ۔ جہاں جو کوئی خود کھائے ویسا ہی اپنے ماتحت اور نوکر کو بھی کھلائے ، جیسا لباس خود پہنے ویسا ہی اپنے مسلمان بھائی کو بھی پہنائے اور جیسی بود و باش خود اُس کی اپنی ہو ویسی ہی اپنے دینی بھائی کے لیے بھی تجویز کر کے اُسے مہیا کرنے کی صدقِ دل سے جدو جہد کرے مگر یہاں ہمسایہ اگر بھوک سے مر جائے تو مسلمان کو احساس نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہمسائے کا قاتل ہے ۔

اب یہ بات  پڑھ کر  لوگ کہیں گے کہ اسلام نہ ہوا یوٹوپیا ہوا ۔ جی ہاں ، اسلام نے یوٹوپیا بنانے کا راستہ دکھایا تھا کہ زمین پر ویسی ہی جنت بنانی ہے جیسی جنت سے باوا جان اور مادرِ آدمیت نکالے گئے تھے ۔ مگر ہم یہاں عسکری کالونی ، ڈیفنس سوسائٹی ، بحریہ ٹاؤن ، جاتی امرا کمپلیکس ، بلاول ہاؤس اور بنی گالہ بنا کر خود تو اپنی جنت میں سے حصہ وصول کر لیتے ہیں مگر اُمتِ محمدؐ اور رب کی بنائی اقلیتی برادری کو غربت کا بھاڑ جھونکنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور پھر خطِ غربت سے نیچے بسنے والوں کو اقتصادی تھیوری گے گتے کے ڈبے میں بند کر کے فٹ پاتھ پر پھینک دیتے ہیں۔ اور خود کسی کاسمو پولیٹن کلب میں ارضی حوضِ کوثر کے کنارے جا بیٹھتے اور خوب گلچھرے اُڑاتے ہیں ۔ اور اس  سارے جشنِ شبینہ  میں ہر ادارے کے بڑے شریک ہوتے ہیں ۔ عسکری درویش ، سیاسی فقرا ، ابلہانِ مساجد ، کاسہ لیسانِ میڈیا ، سرمائے کے پجاری ، خدا کی زمین پر ناجائز قابض وڈیرے ، مفکرانِ عدلیہ اور دانشورانِ مفادات سارے  کے سارے ایک ہی صف میں محمود و ایاز بنے ہوتے ہیں ۔

 یہی لوگ اپنی رویوں اور طرزِ عمل سے قوم کی ذہنی تربیت کر کے معاشرتی  رویہ سازی کرتے ہیں ۔ چنانچہ جب ہم قانون کو توڑ کر جمہوریت کو بندوق کی سوا  نالی پر بلند کرتے اور ملک کو چار بار خود ہی فتح کر کے خود کو فیلڈ مارشل بنا لیتے ہیں تو در اصل  ہم اپنی زمین میں قانون شکنی کے بیج بوتے ہیں۔ اور خدا گواہ کہ ہم اس طرح لاقانونیت کے ہیرو بن جاتے ہیں ۔ سعدی نے کہا کہ الناس علیٰ دینِ ملوکہم کہ لوگ اپنے حکمران کے دین پر ہوتے ہیں اور چار بار ملکی آئین کو توڑنا اور  سول قانون کی آبرو ریزی کرنا قوم کے خُون میں قانون شکنی انجیکٹ کرنا نہیں کرنا نہیں تو کیا ہے ۔ اور جب عدلیہ اور مسجدیہ اِس قانون شکنی کی توثیق کرتی ہیں تو سارا معاشرہ لاقانویت کے کینسر کا شکار ہوجاتا ہے ۔ آج جب کورونا کی وبا کے دنوں میں لوگوں کو قرنطینہ میں محصور ہونے کو کہا جاتا ہے تو کسی گوشے سے نیم ملا اس کی مخالفت کرتا ہے اور ببانگِ لاؤڈ اسپیکر اعلان کرتا ہے کہ لوگو! ٹخنے سے ٹخنہ جوڑ کر نماز پڑھو ، مصافحے اور معانقے کرو ، اللہ تمہیں محفوظ رکھے گا ۔ اور لوگ اس کی صدائے جہالت پر لبیک کہتے ہیں اور قانون کی پین کی سری کا نعرہ لگا دیتے ہیں ۔ تب اُنہیں نہ خُدا یاد رہتا ہے اور نہ اُن کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اور وہ توکل علی اللہ کا دم بھرتے ہوئے  بھول جاتے ہیں کہ توکل کے لیے احتیاطی تدبیر لازمی ہے ۔ جیسا کہ رومی ہمیں یاد دلاتے ہیں :

بر توکل زانوئے اُشتر ببند

لیکن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی اندھی عقیدت رکھتے ہیں کہ اُس کے نشے میں رسالت کے ادارے سے جاری ہونے والے قوانین  تک بھول جاتے ہیں ، حالانکہ قانون کی پابندی مسلمان ہونے کی بنیادی شرط ہے ۔ چناچہ قرآن نے جب اطاعتِ اللہ ، اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اطاعتِ حاکمِ وقت کا فرمان جاری کیا تو ہمارے ایمان کی بنیاد استوار کر دی کہ ہمیں اللہ کے بنائے ہوئے قوانین یعنی قوانینِ فطرت ، شریعت کے قوانین اور ملکی قوانین اور آئین کی پابندی کرنی ہے مگر ہم ایسے چالاک لوگ ہیں کہ  جذباتی عقیدت کے ایک ہی نعرے سے قوانین کی اس مثلث کو منہدم کردیتے ہیں اور خُود  اپنی خواہشِ نفس کے معبد  اور گروہی مفادات کے مندر میں پوجا کرنے کے لیے چلے جاتے ہیں ۔

اور اب جب کہ کورونا کے خطرے کے پیشِ نظر لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ خود کو اپنے گھروں تک محدود کر لو تو اُن سے  پابندی کا یہ ہمالہ اُٹھ ہی نہیں رہا اور ہم تم  اپنی بگڑی ہوئے عادتوں کے پیشِ نظر اس قانون شکنی کے لیے ہر طرح کے بہانے تراش رہے ہیں ۔ اس لیے کہ من حیث القوم ہم لاقانونیت کے ہیرو ہیں اور ہم نے اپنے اسی قسم کے رویوں سے جمہوریت کو بھی قتل کر دیا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی اقتدار کا کوئی ڈاکو اور جمہوریت کا قاتل ہمارے گھر میں نقب لگا کر داخل ہوا تو ہم تم ہی کیا عدلیہ ، دانشوریہ اور مسجدیہ مل کر اُس کے سواگت کو آئے اور میرے ڈھول سپاہیا گانے لگے ۔

 ہاں ہاں ، جی ہاں  اور یہ ہم ہیں لاقانونیت کے ہیرو ۔

loading...