جسٹس وقار سیٹھ نے سپریم کورٹ میں تعینات نہ ہونے کے خلاف درخواست دے دی

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ نے سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے کہ سینیارٹی اور میرٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے تعیناتی ان کا حق ہے۔  لاہور ہائی کورٹ کے ان سے جونیئر جج کی عدالتِ عظمی میں تعیناتی آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

سینیئر وکیل قاضی انور کے ذریعے بھیجی گئی یہ درخواست سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام لکھی گئی ہے جو کہ سپریم جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس کمیشن کی سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ سینیارٹی کے حساب سے اعلی عدلیہ میں ججز کے تقرر کا فیصلہ کرتی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان سے جونیئر جج کو عدالتِ عظمی میں شامل کر کے ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں تعیناتی کے وضع کردہ طریقہ کار کی نفی کی گئی ہے۔ جسٹس وقار سیٹھ کے وکیل قاضی محمد انور نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے یہ درخواست چیف جسٹس کو گزشتہ روز موصول ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت جسٹس وقار احمد سیٹھ کا حق ہے کہ انہیں سپریم کورٹ میں تعینات کیا جائے اور اس کے لیے وضع کردہ طریقہ کار ہے جس کے تحت ہائی کورٹ کے ججز کو سپریم کورٹ میں تعینات کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر 14 دنوں یا دو ہفتوں میں اس بارے میں کوئی جواب موصول نہ ہوا تو وہ اس کے خلاف آرٹیکل 184 کے تحت پٹیشن داخل کر سکتے ہیں جس کی سماعت کے لیے مکمل بنچ بیٹھے گا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جسٹس سیٹھ پشاور ہائی کورٹ کے سب سے سینیئر جج ہیں اور سپریم کورٹ کے قوانین کے مطابق وہ عدالتِ عظمی کے جج کے طور تعیناتی کے لیے موزوں ہیں۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر انہیں آئندہ کبھی سپریم کورٹ میں تعینات کیا بھی گیا تو وہ اپنے سے جونیئر ججز کے بھی جونیئر ہوں گے اور اس سے اعلی عدلیہ میں بےیقینی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ۔ درخواست میں سپریم کورٹ کے الجہاد ٹرسٹ کیس اور ملک اسد علی بنام وفاقی حکومت میں دیے گئے فیصلوں کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی سینیارٹی اور میرٹ کے باوجود انہیں تین مرتبہ نظر انداز کیا گیا اور ان حوالے سے ان کی شنوائی بھی نہیں ہوئی۔

یاد رہے کہ ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ 70 سے زیادہ افراد کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف تمام درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ جسٹس سیٹھ نے پاکستان تحریک انصاف حکومت کے بڑے منصوبے بی آر ٹی یا بس ریپڈ ٹرانزٹ کے بارے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو حکم دیا تھا کہ اس بارے میں انکوائری مکمل کریں اور رپورٹ 45 دنوں میں پیش کریں۔

جسٹس وقار سیٹھ اس خصوصی عدالت کے بھی رکن تھے جس نے سابق صدر پرویز مشرف کو آئین شکنی کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی تاہم اس فیصلے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کو کلعدم قرار دے دیا۔ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ملک کے سیاسی و قانونی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی تھی جس کی بنیادی وجہ اس تفصیلی فیصلے کا پیراگراف نمبر 66 تھا جسے جسٹس سیٹھ نے تحریر کیا تھا۔

پیراگراف 66 میں بینچ کے سربراہ جسٹس سیٹھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا تھا کہ وہ جنرل مشرف کو گرفتار کرنے اور سزا پر عملدرآمد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر وہ مردہ حالت میں ملیں تو ان کی لاش اسلام آباد کے ڈی چوک لائی جائے جہاں اسے تین دن تک لٹکایا جائے۔ تاہم اس سے اگلے پیرگراف 67 میں اپنے اس حکم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ چونکہ ماضی میں کسی بھی فرد کو پاکستان میں اس جرم میں سزا نہیں دی گئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ مجرم کی عدم موجودگی میں سنایا ہے، اس لیے اگر مجرم سزا پانے سے قبل وفات پا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھے گا کہ آیا فیصلے پر عملدرآمد ہو گا یا نہیں اور کیسے ہوگا۔

اس کے بعد 13 جنوری کو لاہور ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیرقانونی قرار دے دیا۔

چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک متوسط کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی تعلیم پشاور کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی ہے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج سے گریجویشن کی اور لا کالج پشاور یونیورسٹی سے پہلے قانون کی ڈگری حاصل کی اور پھر پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے 1985 میں عملی وکالت کا آغاز کیا۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ 1990 میں ہائی کورٹ اور پھر 2008 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ انہیں 2011 میں ایڈیشنل سیشن جج تعینات کیا گیا اور اس کے بعد وہ بینکنگ کورٹس سمیت مختلف عدالتوں میں تعینات رہے۔ انہوں نے 28 جون 2018 میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے کا حلف لیا۔ ان کے والد سیٹھ عبدالواحد سینیئر سیشن جج ریٹائرڈ ہوئے، جبکہ ان کے نانا خدا بخش پاکستان بننے سے پہلے 1929 میں بننے والی صوبے کی پہلی اعلیٰ عدالت میں جج رہے تھے۔

loading...