کورونا سے بچنے کے لیے بھارت میں گائے کا پیشاب پینے کی مہم کا آغاز

  • سوموار 16 / مارچ / 2020
  • 900

بھارت کی ایک انتہا پسند ہندو جماعت ’اکھل بھارت ہندو مہاسبھا‘ نے دارالحکومت نئی دہلی میں کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ’گائے کا پیشاب پینے‘ کی پارٹی کا انعقاد کیا ہے۔ پارٹی قائدین اسے کورونا کا علاج قرار دیتے ہیں۔

ہندو مہا سبھا کے سربراہ سوامی چکرپانی مہاراج نے رواں ماہ 4 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ گائے کا پیشاب پینے اور گوبر کھانے سے کورونا وائرس ختم ہوجاتا ہے۔ انہوں نے ہولی کے بعد ملک بھر میں گائے کے پیشاب پینے کی پارٹیوں کے انعقاد کا اعلان بھی کیا تھا۔ اب انہوں نے اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے دارالحکومت نئی دہلی میں پہلی ’گائے موتر‘ پینے کا اجتماع منعقد کرکے اپنی مہم کا آغاز کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مبابق ہندو مہاسبھا کی جانب سے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود تنظیم کے ہیڈ کوارٹر میں ’گائے موتر‘ پارٹی کا انعقاد کیا گیا، جس میں 200 مرد و خواتین نے شرکت کی۔ رپورٹ کے مطابق پارٹی میں شرکت کرنے والے مرد و خواتین نے نہ صرف ’گائے کا پیشاب‘ پیا بلکہ پارٹی میں شریک ہونے والے افراد نے حیران کن دعوے بھی کیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پارٹی میں شامل ہونے والے زیادہ تر افراد اگرچہ ہندو مہاسبھا کے کارکن تھے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ 21 سال سے گائے کے پیشاب پینے کے علاوہ  گائے کے گوبر سے نہاتے رہے ہیں۔ پارٹی میں شامل ہونے والے افراد نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 21 سال سے گائے کے گوبر سے نہانے اور گائے کے پیشاب پینے کی وجہ سے انہیں کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں گائے کا پیشاب پینے کی کامیاب پارٹی کے انعقاد کے بعد ہندو مہاسبھا کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جلد ہی ملک کے دیگر شہروں میں بھی ’گائے موتر‘ پارٹیاں منعقد کی جائیں گی اور لوگوں کو گائے کا پیشاب پینے کے فوائد بتائیں جائیں گے۔

رائٹرز کے مطابق ہندو مہاسبھا کے سربراہ کی طرح بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بھی حال ہی میں پارلیمنٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ گائے کے پیشاب پینے سے کینسر ختم ہوجاتا ہے جب کہ انہوں نے گائے کا پیشاب پینے کو دیگر بیماریوں کے خاتمے کا سبب بھی قرار دیا۔

تاہم بھارتی سائسندان اور طبی ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ تجربات سے یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ گائے کا پیشاب پینے یا گوبر کھانے سے کینسر اور بیماریوں کا علاج ہوجاتا ہو۔ خیال رہے کہ بھارت میں گائے کو مقدس مانا جاتا ہے اور اس کی پوجا بھی کی جاتی ہے۔ ہندو مذہب کے ماننے والے افراد اگر بھارت میں کسی مسلمان کو گائے ذبح کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور متعدد بار گائے کو ذبح کرنے کے الزامات میں ہندوستان میں مسلمانوں کو بیہمانہ تشدد کے بعد قتل بھی کردیا گیا۔

بھارت میں اس وقت کورونا وائرس سے بچنے کے لیے جہاں ہندو انتہاپسند لوگوں کو گائے کا پیشاب پینے اور گوبر کھانے کی تجویز دے رہے ہیں، وہیں انڈیا میں کورونا وائرس کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے جن میں ’گو، کورونا گو‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔

loading...