میرا کورونا میری مرضی

یہ زمین اور آسمان خُدا کے ہیں ، اور  یہ چرند پرند ، جمادات ، نباتات اور اخلاقیات سب اُسی کی ہیں ۔ اور یہ بات سُن کر ہر دانشور یہی کہے گا کہ میں یہ کون سی نئی بات کہہ رہا ہوں ، یہ سب جانتے ہیں لہٰذا ، گڑے مُردے اُکھاڑنے کی ضرورت کیا ہے ۔

یہ بات اپنی جگہ سو فی صد درست سہی مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے معاشرے کو گڑے مردوں کا معاشرہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔ ابھی پچھلے دنوں عورت کی مرضی کے حوالے سے ایک سنجیدہ مسئلے کا جو تماشا بنایا گیا وہ ایک نابالغ اخلاقیات کا واضح اظہار تھا ۔ ایسے میں ایک سوال یہ ہے کہ جس ملک کے دانشوروں کو گفتگو کی تمیز نہیں ، جو انا کے قطب مینار  پر چمگادڑوں کی طرح لٹکے رہتے ہیں ، جو مونہہ سے انسانی آوازوں کے بجائے درندوں اور چرندوں کی آوازیں نکالتے ہیں ، وہ کس انسانی معیار کی مخلوق ہیں ۔ پریس کانفرنسوں اور میڈیا شوز میں جس قسم کی لا یعنی ، بیہودہ اور رطب و یابس بھری  گفتگو اب ہونے لگی ہے ، اُس  کوسُن کر کسی کا سر خجالت سے خم نہیں ہوتا اور وہ اس لیے کہ ہم اعلیٰ انسانی اخلاقیات کے حقیقی معیارسے نا واقف ہیں ۔ ہم اُن اخلاقیات کو طوطے کی طرح رٹ کر اس کی آڈیو تیار کر کے سن اور سنا سکتے ہیں مگر وہ ہمارے اعمال کا اثاثہ کبھی نہیں بنتی ۔ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں اور اس طرح ہم قرآن کی وہ نشانی بنتے ہیں جو کفر پر دال ہے ۔

قرآن کا حکم ہے کہ جس بات پر  تُم عمل پیرا  نہیں ہو ، وہ زبان پر مت لاؤ ۔۔ اس سلسلے میں حضرت نور والے علیہ رحمت نے ایک بڑی خوبصورت مثال بیان کی کہ قرآن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتا ہے : یا ایھا المزمل کہ اے کملی اوڑھنے والے اور اس کلام کا حُسن یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کملی پہلے اوڑھ رکھی تھی ، لفظ بعد میں اُترا ۔ سو لفظ عمل کا سایہ ہوتا ہے اور جہاں عمل نہ ہو وہاں اُس کا سایہ کیسے ممکن ہے مگر ہم نے سایوں کی فیکٹری ہر مسجد اور مکتب میں لگا رکھی ہے اور وہ رنگ برنگی ، خوبصورت بولیاں  بولتے چلے جاتے ہیں جن کا عمل سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا ۔ اور ہمارے اس طرزِ عمل کا شاخسانہ یہ ہے کہ ہم سے آسمان کلام کر رہا ہے جہاں سے آواز آ رہی ہے کہ : میرا کورونا میری مرضی ۔ کورونا  ایک وبا  ہے جوغیب سے اُتری ہے ۔ اس وبا کی وجہ سے جو ساری دنیا میں موت کا فرشتہ بن کر پھر رہی ہے ، لوگ دُکھی ہیں ۔ دکھ یا غم خُدا کا ہرکارہ ہے اور مولانام روم نے کہا ہے کہ  اس کا علاج بہت آسان ہے اور وہ یہ کہ :

غم اگر بینی تو استغفار کُن

اگر غم زندگی کو زیاں پہنچائے تو  استغفار کرو ۔ اور استغفار کرنے کا ہم نے جو طریقہ سیکھا ہے وہ یہ ہے جو کرنا ہے کیے جاؤ لیکن زبان سے یہ تسبیح پڑھتے رہو :

استغر اللہ ربّی من کل ذنبٍ و اتوبو الیہ

اے اللہ ! میں تمام گناہوں کی مغفرت مانگتا ہوں اور تیری طرف واپس آتا ہوں یعنی توبہ کرتا ہوں ۔ اور ہم اپنی گناہ کی زندگی سے تو باز نہیں آتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ صرف اس کلمے کی تسبیح ہمیں تمام گناہوں سے معافی دلوا دے گی۔ نہیں ایسا نہیں ہوتا ۔ وہ راستہ جس پر  کوئی چل رہا ہو وہ اُسے چھوڑنا پڑتا ہے اور رب کی طرف واپس آنا پڑتا ہے ۔ رب کی طرف واپسی کے لیے ہر طرح کی  گمراہی کو ترک کرنا پڑتا ہے ۔ جی ہاں ، گراں فروشی ، جعلسازی ، زبانی بد تمیزی ، دشنام طرازی ، جھوٹ ، فریب کاری  ، گراں فروشی ، ناجائز منافع خوری اور کم تولنے جیسے گناہوں سے توبہ کرنی پڑتی ہے ۔ اور استطاعت ہوتے ہوئے رشوت خوری ، کرپشن اور منی لانڈرنگ چھوڑنی پڑتی ہے ۔ عوامی فلاح کے منصوبوں میں نقب لگا کر  اُن سے زرِ نقد لوٹنے سے باز رہنا پڑتا ہے اور اگر یہ سب کچھ جاری رہے ، گناہ کی شاہراہ پر ٹریفک رواں دواں رہے اور اس آلودگی میں  استغفار کی تسبیح پڑھی جائے تو وہ خالقِ کائنات سے مذاق کرنے کے مترادف ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اُس کا بدلہ اُسی کرنسی میں ملے گا ، کیونکہ خُدا نے واضح کردیا ہے کہ جو مجھ سے مذاق کرتا ہے ، میں اُس سے زیادہ بڑا مذاق کرنے والا ہوں : (حوالہ) اللہ ان سے خُدا مذاق کرتا ہے اور اُنہیں مہلت دیے جاتا ہے کہ وہ شرارت اور سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں۔

 البقر ۔ آیت نمبر پندرہ

اصل میں جو لوگ  اس طرح کا طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں در اصل زندگی کے بنیادی قانون سے ناوقف ہیں ۔ اسلام دینِ فطرت ہے اور فطرت کا بنیادی قانون یہ ہے کہ جو بوؤ گے وہی کاٹو گے ۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ۔ بقولِ شاعر:

گندم از گندم بروید جو ز جو

گندم بوؤ گے تو گندم کاٹو گے اور جَو بوؤ گے تو جو کاٹو گے ۔ اب کوئی شخص کرپشن بو کر اس امید پر رہے کہ وہ قومی ترقی کی فصل کاٹے گا تو اس سے بڑا بے وقوف کون ہوگا مگر ہم انہی بے وقوفو ں کی پرورش کر رہے ہیں جو گناہ بو کر جنت کاٹنے کی اُمید میں دن رات بریانی کھاتے اور لسی پیتے ہیں ۔ لیکن ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم پر پچھلے دنوں سے جاری ڈینگی ، ٹڈی دَل اور کورونا کا حملہ ہمارے اعمال کا صلہ ہے ۔ ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم جس مونہہ زبانی دین کے راستے پر ہیں وہ ہمارے دل و نظر کی تربیت  کا دین نہیں ہے ۔ اس کے لیے دین کے دو اساسی ارکان پر ایمان  لانا پڑتا ہے اور وہ دو بنیادی ارکان زبان کی صداقت اور ہاتھ کی دیانت ہے ۔ اور جن مسلمانوں کا ان دو باطنی  ارکان پر تصرف ہو اُن کو پانچ ظاہری ارکان بھی عطا ہوتے ہیں جو کلمہ ، صلوٰۃ ، صوم ، زکات اور حج ہیں اور باطنی ارکان کی ادائیگی کے بغیر ظاہری ارکان محض نمائشی ہوتے ہیں ۔

حضرت نور والے  علیہ رحمت فرمایا کرتے تھے کہ دین کے دو ہی ارکان ہیں اور وہ ہیں :۱۔ زبان کا صادق ہونا  ۔ ۲ ۔ ہاتھ کا امین ہونا ْ۔ ہمارے لیے یہ باتیں کتابی باتیں ہیں، لائبریری کی باتیں ہیں جنہیں ذہنی طفل تسلی کے لیے سن کر اُن پر سبحان اللہ کہنا ہی ہماری ذمہ داری ہے ۔  اس کے آگے وہی بے ڈھنگی چال ہماری سماجی دھمال ہے ۔ ہم سطحی قسم کے لوگ ہیں جو اللہ کے احکامات کی گہرائی میں نہیں اُترتے ۔ ہمہیں کہا گیا ہے کہ کورونا سے بچنے کے لیے کثرت سے ہاتھ دھوئیں لیکن ہم اس اصول کو بھی سطحی ہی لیتے ہیں حالانکہ اصل ہائیجین یہ ہے کہ ہم ہاتھوں پر لگی بد دیانتی اور کرپشن کی کالک کو بھی دھو دیں ورنہ پانی ہماری باطنی غلاظتوں کو نہیں دھو سکتا ۔ اُس کے لیے اپنے وجود کے ایوانوں میں اُتر کر تن اور من کے سارے کونوں کھدروں کو صاٖف کرنا پڑتا ہے مگر ہم صرف تن کی ظاہری صفائی سے آگے نہیں بڑھتے اور یہ نہیں سمجھتے کہ بیماریاں ہمارے من میں گمراہی کے بیجوں سے کاشت ہوتی ہیں جو ہمارے کالے کرتوتوں کے پانی سے پھلتی پھولتی ہیں اور پھر باطن سے ظاہر پر ڈینگی ، کینسر اور کورونا بن کر ظاہر ہو جاتی ہیں ۔

اور سزا اور جزا کا قانون کہہ رہا ہے کہ اس گلوبل معاشرے کے نا خُداؤں نے خُدا کا قانون توڑا  ہے جن کو سزا دینے کے لیے خُدا کے ہرکارے اپنا کام کر رہے ہیں اور یہ ہے ہمارے اعمال کا صلہ ۔وما علینا الالبلاغ

loading...