امریکی فوج کورونا وائرس کو ووہان لے کر آئی: چین کا دعویٰ

  • جمعہ 13 / مارچ / 2020
  • 1660

دنیا کے تقریباً نصف ممالک کو متاثر کرنے والے ’کورونا وائرس‘ سے متعلق چینی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ وائرس امریکی فوج چین کے شہر ووہان لے کر آئی تھی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ چینی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ کورونا وائرس کو امریکا نے چین میں پھیلایا۔ اس سے قبل متعدد میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا پر ایسی خبریں گردش کرتی ہیں رہیں کہ امریکا نے حیاتیاتی حملے میں کورونا وائرس چین بھیجا۔ تاہم ایسی رپورٹس میں کسی بھی امریکی یا چینی عہدیدار کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔

متعدد ویب سائٹس اور انٹرنیٹ پر کورونا وائرس سے متعلق متعدد تھیوریز اور افواہیں موجود ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس چین اور امریکا کی پیداوار ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے بدلا لینے کے لیے ایسا کیا۔ تاہم ایسی افواہوں پر چین اور امریکی عہدیداروں نے کوئی وضاحت نہیں کی تھی۔

لیکن اب چینی محکمہ خارجہ نے امریکی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے ایک اجلاس کی ویڈیو کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دراصل کورونا وائرس کو امریکی فوج ہی چین کے شہر ووہان لے کر آئی تھی۔ چین کے محکمہ خارجہ کے ترجمان لی جیان ژاؤ نے متعدد ٹوئٹس میں امریکی سینیٹ کی وبائی اور پھیلنے والی بیماریوں سے متعلق ذیلی کمیٹی کے اجلاس کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ویڈیو سے ثابت ہوتا ہے کہ کورونا وائرس پہلے امریکا میں رپورٹ ہوا۔

چینی محکمہ خارجہ کے ترجمان لی جیان ژاؤ نے ٹوئٹس میں امریکی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کو امریکی صحت کے ادارے ’سینٹرس فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن‘ (سی ڈی سی) کے نمائندے رابرٹ ریڈ فیلڈ کی 2 مختصر ویڈیوز شیئر کیں جن میں وہ ذیلی کمیٹی کو امریکا میں انفلوئنزا سے ہونے والی اموات سے متعلق آگاہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

امریکی نشریاتی  ادارے سی این این کے مطابق اگرچہ ویڈیوز میں رابرٹ ریڈ فیلڈ نے اعتراف کیا کہ امریکا میں ’انفلوائنزا‘ سے جو اموات ہوئیں اس وائرس کو آگے چل کر ’نوول کووڈ 19‘ کورونا وائرس کا نام دیا گیا تاہم ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ ویڈیوز کس تاریخ کی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ چینی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے رابرٹ ریڈ فیلڈ کے بیان کو ثبوت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹس میں کہاکہ ’سی ڈی سی‘ کے عہدیدار نے اعتراف کیا کہ امریکا میں انفلوئنزا وائرس سے ہونے والی اموات والے وائرس کو آگے چل کر نئے کورونا وائرس کا نام دیا گیا۔

چینی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے لکھا ہے کہ سی ڈی سی کے عہدیدار تسلیم کر رہے ہیں کہ امریکا میں انفلوئنزا سے 20 ہزار اموات بھی ہوئیں اور اس سے ساڑھے تین کروڑ تک افراد متاثر بھی ہوئے لیکن اب اس بات کو واضح کیا جائے کہ ان انفلوئنزا کیسز میں سے کتنے کیسز نئے کورونا وائرس کے تھے؟ چینی محکمہ خارجہ کے ترجمان لی جیان ژاؤ نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں امریکا سے سوالات کیے جن میں انہوں نے امریکا سے ان تمام افراد کے نام مانگے جو امریکا میں وائرس سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے ان ہسپتالوں کے نام بھی مانگے جہاں متاثرہ افراد کا علاج ہوا۔ چینی ترجمان نے ان تمام افراد کی سفری تفصیلات بھی مانگی ہیں۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ثابت ہوگیا ہے کہ کورونا وائرس کو امریکی فوجی چین کے شہر ووہان لے کر آئے۔ سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دراصل امریکی فوج کے درجنوں اتھلیٹ اکتوبر 2019 میں چینی شہر ووہان میں ہونے والی فوجی گیمز میں شرکت کے لیے گئے تھے اور ان میں سے کچھ ایتھلیٹ انفلوئنزا سے متاثر تھے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل فروری 2020 میں طبی جریدے جرنل نیچر چین کے ووہان انسٹیٹوٹ آف وائرلوجی اور شنگھائی کی فودان یونیورسٹی اور چائنیئز سینٹر فار ڈیزیز اینڈ پریونٹیشن کے ماہرین کی جانب سے کی گئی 2 تحقیقات میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ سے شروع ہوا تھا۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ چین میں پھیلنے والے نئے کورونا وائرس 2000 کی دہائی میں سامنے آنے والے سارز وائرس سے ملتا جلتا ہے اور دونوں کا 80 فیصد جینیاتی کوڈ شیئر ہوتا ہے اور یہ دونوں چمگادڑوں سے آگے بڑھے۔

تاہم تحقیقی رپورٹس میں یہ ثابت نہیں کیا جا سکا تھا کہ کس جانور نے نئے کورونا وائرس کو چمگادڑ سے انسانوں تک پہنچایا۔ لیکن اب چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کی ویڈیو کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دراصل کورونا وائرس امریکی فوج ہی چینی شہر ووہان لائی تھی۔ چین کے اس بیان پر تاحال امریکا نے کوئی بیان نہیں دیا۔

کورونا وائرس سے دسمبر 2019 کے آغاز سے 13 مارچ کی دوپہر تک دنیا بھر کے 115 سے زائد ممالک میں ایک لاکھ 28 ہزار افراد متاثر ہوچکے تھے جن میں سے پانچ ہزار کی موت ہوچکی ہیں۔

(رپورٹ: روزنامہ ڈان)

loading...