جنسی مساوات کا قانون

ہم پچھلے کچھ دن  ایک بہت سنگین قسم کے بحرانی دور سے گزر ے ہیں جس میں پرنٹ میڈیا ، سوشل میڈیا ، الیکٹرونک میڈیا اور مسجدوں کے لاوڈ اسپیکر مل کر  خواتین کے آزادی مارچ کے حوالے سے اتنا شور مچاتے  رہے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی رہی ۔

مذہبی حلقوں کی طرف سے عورتوں کی آزادی کا مطالبہ اس حد تک ہدفِ تنقید بنا رہاہے کہ اس پر کردار کُشی کا گمان ہوتا تھا ۔ کردار کُشی موت کا  مکروہ عمل ہے جس میں اپنے حریف کو ایک نہایت لطیف پیرائے میں قتل کیا جاتا ہے بلکہ مسلسل تکہ بوٹی کی جاتی ہے ۔ اس میں غیبت ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے قرآنِ حکیم نے غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف اور مماثل قرار دیا ہے ۔ یہ وہ لطیف سطح کی  قتل و غارت گری ہے جسے مسجدوں تک میں مباح سمجھا جاتا ہے ۔ ایک فرقے کی مسجد دوسرے فرقے کا غیبت کدہ بن جاتی ہے ۔ سوشل میڈیا ایک دوسرا غیبت خانہ ہے جس میں عورت کی بطور بیوی کردار کُشی مسلمان شوہروں کا مرغوب کھیل ہے ۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے سوشل دوائر میں بد تمیزی ، بد کلامی اور الزامات  جس طرح برہنہ ناچ رہے ہیں اُن کا جواز کیا ہے ؟ کیا قرآنِ حکیم نے ایسا کرنے کی اجازت دی ہے ؟ بالکل بھی نہیں ۔ قرآن خلقِ عظیم کا  درسِ تہذیب و محبت ہے مگر ٹی وی چینلوں کے ٹاک شوز میں  جہاں مسلمان شرکا ء اپنا نقطہ ء نظر اور آرا بیان کرتے ہیں اُن کا اندازِ گفتگو دیکھ کر غالب بھی کہ اُٹھتے ہیں کہ:

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

تمہی کہو ،  کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

اُن کا ایک دوسرے سے طرزِ تخاطب دیکھ کر حیرت ہوتی کہ اور ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ کیا یہ لوگ انسان کی تخلیق کے معجزے سے کما حقہ واقف بھی ہیں  یا وہ بے چارے نہیں جانتے کہ انسان کی تخلیق فطرت کا  کتنا بڑا معرکہ تھا ۔ میرا دھیان جب سورہ ء نسا کی طرح جاتا ہے تو میں اس تخلیقی معجزے کے احترام میں سر بسجدہ ہو جاتا ہوں ۔ کیا عجیب کہا نی ہے :

اے لوگو ! اپنے رب کا اتقا اختیار کرو جس نے تمہیں نفسِ واحد سے پیدا کیا اور اُس میں سے اُس کا جوڑا بنایا  اور پھر ان دونوں سے کثرت سے مردو زن پیدا کیے۔( سورہ نساء ۔۱ )

صوفیا کے نزدیک نفسِ  واحدہ  وہ سیل یا خلیہ  ہےجسے کُن کے اسمِ تخلیق سے بنایا گیا ۔ اور پھر اُس نفسِ واحدہ کو جو ا صولِ تخلیق ہے دو ذیلی اصولوں میں تقسیم کیا گیا ہےجو اصولِ تذکیر اور اصولِ تانیث قرار پائے ہیں ۔ یعنی دونوں کا معدن اور سرچشمہ اصولِ تخلیق یا کُن ہے مگر ترتیب میں اصولِ تذکیر پہلے ہے اور یہ اُس کی فضیلت ہے جبکہ اصولِ تانیث کا درجہ اُس کے بعد ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کی طبعی ماہیئتِ تخلیق کے کے اعتبار سے کم تر درجے کی حامل ہے ۔ اور یہ درجہ بندی معاشرتی نہیں فطری ہے جسے رب نے متعین کیا ہے ۔ فطرت کا قانون یہ ہے کہ رب نے جو چیز جیسی تخلیق کی ہے وہ  اُس کی حکمت کا شہکار ہے اور اُن کے درمیان بہتر اور کم تر  کا  تقابل ممکن نہیں ۔ کیونکہ  ایسا تقابل شیطان کی صنعت گری ہے اور یہ اُس وقت آغاز ہوئی جب اُس نے رب کے سامنے یہ کہ کر آدم کی تعظیم سے انکار کیا تھا کہ آدم مٹی سے ہے اور میں آگ سے ہوں اور آگ مٹی سے بہتر اور برتر ہےتو اس دلیل پر اُسے راندہ ء درگاہ قرار دیا گیا۔ جس سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ اپنی بڑائی کا اعلان کرنا اور کبر و انا کے منصب پر خود کو فائز کرنا  معیوب اور مجرمانہ عمل ہے ۔ سعدی کہتے ہیں :

تکبر عزازیل را خوار کرد

مٹی اور آگ دو عناصر ہیں اور ایک کو دوسرے پر فضیلت دنیا جرم ہے تو پھر نفس واحدہ سے پیدا ہونے والے اصولِ تذکیر و تانیث کو ایک دوسرے پر فضیلت کس قانون کے تحت دی جاتی ہے ۔ ایک ہی خمیر سے اُٹھنے والی دو ہستیاں جو ہم جنس ہیں ، فطرت کے نزدیک برابر ہیں ، اںہیں کسی بحث و جدال میں کس لیے الجھایا جا رہا ہے ؟ کیا وہ عورت جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جنم دیا اور جس حلیمہ سعدیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا وہ انسانی قبیلے میں دوسرے درجے کی حامل کیوں کر ہو سکتی ہیں  ۔ اس ضمن میں  مجھے کسی درویش کا ایک شعر یاد آرہا ہے، جو بعض  دانشوروں کے نزدیک قابلِ اعتراض ہو سکتا ہے مگر اس کے باوجود میں اُسے حوالے کے لیے نقل کر رہا ہوں کیونکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نقلِ کٖفر کفر بناشد ، حالانکہ یہ سرے سے کفر  ہے ہی نہیں  ۔ وہ شعر کچھ یوں ہے ؛

راز کی باتیں ہیں یہ میں کھُل کے کہہ سکتا نہیں

دودھ میں تیرے نبوّت تھی ، حلیمہ سعدیہ !!

مولوی رومیؒ تو یہ کہتے ہیں کہ روح جو تذکیر و تانیث کا نفسی اور روحانی متن ہے ، نہ مذکرہوتی ہے نہ مونث  ۔ فرماتے ہیں :

لیک از تانیث جاں را باک نیست

روح را از مرد و زن اشراک نیست

از مونث وز مذکر بر تر است

ایں نہ از جان است کز خشک و تر ست

اور ہمارے یہاں مرد اور عورت ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں اور اُس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ ذہنی طور پر بالغ نہیں ہیں اور بچپنے میں رہتے ہیں۔  بچپنا خواہشاتِ نفس ، جذباتیت اور سنسنی کی دنیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بچے  ہر جگہ بالغ ماں باپ اور اساتذہ کی نگرانی میں رہتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں جسمانی بلوغت کے پیشِ نظر ایک لڑکی اور لڑکے کو شادی کے کھونٹے سے باندھ دیا جاتا ہے اور وہ ماں باپ بھی بن جاتے ہیں۔ چونکہ وہ ذہنی طور پر بالغ نہیں ہوتے مگر ازدواجی حادثے سے دو چار ہو کر وہ  انڑی قسم کے ماں باپ بن جاتے ہیں  جن پر اپنے بچوں کی پرورش کا بوجھ پڑ جاتا ہے ، جو اُن سے سنبھل نہیں پاتا۔ اور اگر وہ ماں باپ نہ بھی ہوں تو وہ جو اپنے ذہنی بچپنے کا شکار ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے وہی کرتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں ہورہا ہے ۔ میں یہاں ازدواجی جھگڑوں ، طلاقوں اور ما بعد طلاق کے منفی اثرات کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا بلکہ صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا خاندانی نظام بدستِ بچگاں اُفتاد والی کیفیت ہیں ہے اور بگڑے ہوئے بچے اپنی خواہشوں کے جلوس لیے خود اپنے لیے اور دوسروں کے لیے تماشا بنے ہوئے ہیں ۔  اور یہ ایک افسوس ناک صورتِ حال ہے اور اس میں 8 مارچ جیسے آزادی مارچ ایک بچگانہ تماشے کے سوا کچھ نہیں

loading...