دردِ دلِ دِلّی

سن 80 سے  84   تک بھارت گردی کے دوران جو دشت گردی سے مماثل میری آوارہ گردی کا زمانہ تھا ، مجھے بھارت کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا ۔ شاید میں اس زمانے کا واحد پاکستانی ہوں جس نے پشاور سے کلکتے تک ساری جرنیلی سڑک اپنے پاؤں کے تلووں سے چھو کر محسوس کر کے طے  کی ہے اور پھر سہسرام میں شیر شاہ سوری کے مزار پر جا کر مراقبہ بھی کیا  ہے ۔

اس سفر میں مجھے کچھ ایسے اشارے سمجھنے کا موقعہ ملا جن کا بیان بہت مبہم اور پُر اسرار ہے ، جو عام آدمی کے لیے ناقابلِ فہم ہو سکتا ہے ، مگر میرے لیے نہیں ۔ بھارت میں ماتا کے بھانت بھانت کے تصور ہیں جن میں کالی ماتا ، شیرانوالی ماتا ، گئو ماتا اور بھارت ماتا ہے ۔ بھارت ماتا پر تو مدر انڈیا کے نام سے بالی وڈ کی ایک فلم بھی ہے جس کے فلم بینوں میں بڑے چرچے رہے ہیں ۔  دلی میں موہن سنگھ پلیس کے کافی ہاؤس کے دوستوں میں سے ایک نے جن کا نام بلراج مدھوک تھا  ، مجھ سے بھارت ماتا کے تصور پر گفتگو کی تو میں نے اُنہیں کہا کہ ماتا آپ کی ہے مگر میری تو نانی ہے ، کیونکہ پاکستان نے بھارت ماتا کی گود سے جنم لیا ہے ۔ میں بھارت ماتا کا نواسہ ہوں ۔

بات جب انسانیت کے حوالے سے اس نکتے پر پہنچی کہ اسلام کے مطابق ہر بچہ دینِ فطرت پر پیدا ہوتا ہے تو مدھوک نے کہا کہ ہاں وہ تو فطرت کے عین مطابق پیدا ہوتا ہے ، مگر تُم اُسے اُسترے کے جبر سے مسلمان بنا دیتے ہو اور وہ فطرت کا بیٹا رہتا ہی نہیں ۔ خیر یہ تو کافی کے کپ میں چمچے سے کھؤرو مارنے والی بات تھی جو آئی گئی ہو گئی مگر دلی کو دیکھ کر لگتا تھا کہ بائیس صوفی خواجگان کی یہ چوکھٹ نہ صرف اپنے نک سک سے بلکہ اپنے تعمیری نقش و نگار سے ہند مسلم تہذیب کا شاہکار ہے ۔ دلی کو آنکھیں بند کر کے دیکھو تو یہ مسلمان حکمرانوں کے نقوشِ پا سے مزین ہے ۔ اس سر زمین میں ہمارے صوفیائے کرام کی ایک بڑی تعداد محوِ خواب ہے ۔ حضرت نظام الدین اولیا اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سے لے کر سرمد شہید علیہ رحمت تک ایک ناموں کی ایک طویل فہرست ہے جسے گنوانے لگوں تو کالم نبڑ جائے ۔قطب صاحب کی دلی کو دیکھو تو بے اختیار  اقبال یاد آتے ہیں:

سوادِ رومتہ الکبریٰ میں دلی یاد آتی ہے

وہی ہیبت ، وہی شوکت ، وہی شانِ دلاویزی

  اردو ادب کی بات کروں تو میر ، غالب اور داغ سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک جیسے سُخن کے ستارے دلی کے افق پر چمکے ہیں جن کی لَو کبھی ماند نہیں ہوئی اور نہ ہوگی ۔ لیکن دلی پر مسلمانوں کی اجارہ داری نہیں برابر کی شراکت ہے ۔ ہندو ، بدھ ، جین مت اور سکھ مت کے پیرو اور مسلمان سب ایک دوسرے کے دوش بدوش دلی کے شہری رہے ہیں اور ہیں  اور وہ لوگ جو اپنے مذہب کا احترام روا رکھتے ہیں وہ دوسروں کا بھی احترام روا رکھتے ہیں ۔در اصل پاکستان ، بھارت کے اُن لوگوں کا وطن ہے جو صوفیا کی تعلیمات سے متاثر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ اس بات کو اقبال نے بڑی خوبصورتی سے بیان کیا :

مرا بنگر کہ در ہندوستاں دیگر نمی بینی

برہمن زادہ ای رمز آشنائے روم و تبریز است

( مجھے دیکھ کہ تو ہندوستان میں کسی دوسرے کو مجھ سا نہیں پائے گا کہ ایک برہمن کا بیٹا شمس تبریزی اور مولانا جلال الدین رومی کی رمز سے آشنا ہے )

اور اسی بات کی قائد اعظم نے اپنے سیاسی بیانیے سے برِ صغیر میں توثیق کی اور فرمایا کہ پاکستان تو اُسی دن بن گیا تھا ،  جب برِ صغیر کے پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا تھا لیکن یہ بات اپنی جگہ ایک اور مفہوم بھی لیے ہوئے ہے کہ کیا اسلام نے بھی اُس شخص کو قبول کیا جس نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے ۔اسلام مذہب المذہب ہے اور دین الادیان ہے اور رب العالمین نے جو تمام جہاں کا پالنے والا ہے ، ہندوؤں ، مسلمانوں ، سکھوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کا بھی خالق و مالک ہے مگر سیاسی طالع آزماؤں نے جس اسلام کو رواج دیا وہ صوفیا کے اسلام سے الگ تھا ۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دین میں صوفی سرمد کا دین قابلِ گردن زدنی ہے اور دلی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں کے پاس پڑی سرمد کی لاش جس پر اب مزار بنا ہوا ہے، اِس بات کی گواہ ہے کہ حکمرانوں کا دین اور ہوتا ہے اور اللہ والوں کا دین اور ۔

بالکل اُسی طرح جیسے گورو نانک ،  کرشنا مورتی ، اوشو ، رام کرشن پرما ہنس اور  سوامی وویکا نند کا دین اور ہے اور  نریندر مودی ، بال ٹھاکرے ، راشٹریہ سیوک سنگھ( آر ایس ایس ) کا دھرم اور ۔ اور وہ اپنے نفرت کے دین سے پرماتما کے بنائے  اُن بتوں کو توڑ رہے ہیں جنہیں انسان کہا جاتا ہے اور وہ اپنی بنائی پتھر کی مورتی اور گائے کو انسان پر ترجیح دے رہے ہیں ۔ اور یہ مودی کا دھرم نہیں ادھرم ہے اور چائے بیچنے والا یہ ہیموں بقال کا  دوسرا مکروہ جنم زمین پر مسلمانوں کے لہو سے نفرت کے صحیفے لکھ رہا ہے جو دراصل سناتن دھرم کی موت کا اعلان ہے اور مودی وہ قاتل ہے جس نے بھارت ماتا کو قتل کر دیا ہے ۔

اور میں بارِ دگر  اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ بھارت ماتا کا قاتل نریندر مودی ادھرمی ہے ۔وہ دلی کے مسلمان خون سے ہولی کھیل کر یہ سندیش دے رہا ہے کہ مودی ایک راکشش ہے ، ایک آدم خور ہے اور  اپنی ماں بھارت ماتا کا بے رحم قاتل ہے ۔

loading...