نئے اٹارنی جنرل کی جسٹس قاضی عیسیٰ کیس میں حکومتی پیروی سے معذرت کرلی

  • سوموار 24 / فروری / 2020
  • 1060

نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق کیس میں حکومت کی جانب سے پیروی کرنے سے معذرت کرلی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ و دیگر کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔ اس دوران نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید، وزیر قانون فروغ نسیم و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

خیال رہے کہ وزارت قانون و انصاف نے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے استعفے کے بعد 22 فروری کو خالد جاوید کو نیا اٹارنی جنرل برائے پاکستان تعینات کیا تھا۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کیس لڑنے سے معذرت کی اور کہا کہ اس کیس میں مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مقدمے میں وکیل مقرر کرنے کی درخواست دی ہے۔ لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ اس درخواست کو قبول کیا جائے۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی میرے لیے مقدم ہے۔ عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے کوئی گمان ہوا تو آپ مجھے یہاں نہیں دیکھیں گے۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر جو کچھ ہوا ہم اسے قبول نہیں کرسکتے تھے۔ اس سماعت کے بعد کا نتیجہ آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ التوا دینے میں مسئلہ نہیں ہے لیکن اگلی سماعت پر کوئی التوا نہیں دیں گے۔ اگلی سماعت پر حکومتی وکیل عدالت کے سامنے پیش ہوں۔

عدالت نے کیس کی سماعت 30 مارچ تک ملتوی کردی۔

اس موقع پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کی جانب سے وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کا معاملہ بھی سامنے آیا جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے نائب صدر عابد ساقی کو کہا کہ ابھی آپ کی درخواست پر نمبر نہیں لگا۔ اس پر عابد ساقی نے کہا کہ ہمارا اس معاملے میں کوئی ذاتی مفاد نہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی 30 مارچ کو سنیں گے۔

loading...