کرونا وائرس کے سبب پاکستان سے ایران جانے پر پابندی

  • اتوار 23 / فروری / 2020
  • 1100

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل علاقوں میں  کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے باعث وہاں ہنگامی صورت حال نافذ کر دی گئی ہے۔

محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں جب کہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تفتان میں ایمرجنسی سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔  ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت شاکر بلوچ کے مطابق ایران سے آنے والے مسافروں کی مکمل اسکریننگ کی جائے گی۔ اُن کے بقول، ایران سے متصل سرحدی علاقوں میں ڈاکٹر اور طبی عملہ تعینات کیا گیا ہے اور آلات بھی بھیج دیے گئے ہیں۔

صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے ہنگامی حالات سے نمٹنے والے ادارے (پی ڈی ایم اے) کی معاونت سے تفتان میں 100 بستروں پر مشتمل خیمہ اسپتال بھی قائم کیا جا رہا ہے۔  حکومت بلوچستان نے کرونا وائرس کے پیش نظر پاکستانی زائرین کے ایران جانے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے جب کہ تفتان میں موجود زائرین کو بھی واپس کوئٹہ بلانے کے علاوہ پاک ایران سرحد کو دو طرفہ تجارت کے لیے بھی بند کر دیا ہے۔

دوسری جانب وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے زیارات کے ذمہ دار ایرانی حکام سے بات چیت کی اور پاکستانی زائرین کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔  پیر نورالحق قادری کا کہنا ہے کہ شیعہ علما اور قافلہ ساروں سے مشاورت کی جارہی ہے اور زائرین کی صحت کے حوالے سے پالیسی بنا رہے ہیں۔ اُن کے بقول، تفتان کے راستے سے آنے والے زائرین کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس سے ایران میں اب تک پانچ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جس کے بعد ملک کے 14 صوبوں میں تعلیمی ادارے اور ثقافتی مراکز بند رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔  خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ زیارتوں کے بعد ایران سے واپس آنے والے زائرین کے ذریعے یہ وائرس پاکستان میں منتقل ہو سکتا ہے۔

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے کئی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اب تک صرف چین میں اس وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 2442 ہوگئی ہے۔

loading...