پاکستان ابھی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہیں نکل سکے گا

  • جمعہ 21 / فروری / 2020
  • 830

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اپنے 27 نکات پر مکمل عملدرآمد کرنے اور گرے لسٹ سے اخراج کے لیے پاکستان کو مزید 4 ماہ وقت دینے کے لیے تیار ہے۔

باخبر ذرائع  کا کہنا ہے کہ ورکنگ گروپ اجلاس میں ایکشن پلان کے حوالے سے پاکستان کی بہتر ہوتی کارکردگی کو سراہا گیا لیکن چند دوست ممالک کے سوا تمام اراکین نے ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ ارکان  اب تک کی پیشرفت سے مطمئن ہیں۔ اس لئے بلیک لسٹ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے 16 سے 21 فروری تک جاری رہنے والا اجلاس مکمل ہونے کے بعد ایک باضابطہ بیان آج جاری کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر ریونیو حماد اظہر کررہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ 27 نکاتی پلان میں سے نصف سے زائد اہداف پر پاکستان نے مکمل طور پر عمل کیا ہے یا وہ تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری رکھتے ہوئے جون 2020 تک مکمل عملدرآمد کر کے ’اسٹریٹجک خامیوں‘ کو دور کرے بصورت دیگر اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بقیہ اہداف کی تیزی سے تعمیل کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) اور وزارت داخلہ میں بدھ اور جمعرات کو یکے بعد دیگرے 2 اجلاس ہوئے اور تعمیلی حکمت عملی پیرس میں موجود پاکستانی وفد کو فراہم کی گئی۔ ایکشن پلان کے تحت بقیہ نکات پر عملدرآمد کو تیز کرنے کے لیے آئندہ ہفتوں میں سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس اے سی پی) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) میں اجلاس بلائے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی اے کے پلانری گروپ نے انسداد منی لانڈرنگ/دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے عمل میں پائی گئی ’اسٹریٹجک خامیوں‘ کی بنا پر جون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ اس اقدام کو بھارت، امریکا اور برطانیہ کے علاوہ کچھ دیگر یورپی ممالک کی حمایت بھی حاصل تھی۔

loading...