خالد جاوید کو نیا اٹارنی جنرل مقرر کردیا گیا

  • جمعہ 21 / فروری / 2020
  • 770

وزیراعظم عمران خان نے خالد جاوید کو پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے دفتر کے مطابق وزارت قانون کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس تعیناتی کے لیے آج ہی سمری ارسال کرے۔ اس تعیناتی کی منظوری سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔

انور منصور خان نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ کے کچھ اراکین پر الزامات لگائے تھے جس کے بعد وہ گزشتہ روز مستعفی ہوگئے تھے۔ استعفیٰ دیتے وقت انور منصور خان نے کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے مطالبے پر استعفیٰ دیا تاہم وزارت قانون کے مطابق ان سے استعفیٰ لیا گیا۔

نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید سینئر سیاست دان این ڈی خان کے بیٹے ہیں۔ ان کے والد پیپلز پارٹی کے دوسرے دورے حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ خالد جاوید نے 1991 میں خود کو ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ کے طور پر رجسٹر کروایا اور 2004 میں سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ بنے۔ اس کے علاوہ وہ اٹارنی جنرل کے قانونی مشیر بھی رہے۔ 1993 سے 1996 تک بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں وہ ان کے مشیر بھی رہے۔

وہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں اٹارنی جنرل کے دفتر میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ 1995 سے 1996 تک نجکاری کمیشن پاکستان کے رکن بھی رہے۔

انہوں نے لندن یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے بی سی ایل (بیچلر آف سول لا) کی ڈگری لی، جس کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کیا اور لنکولن ان سے بار ایٹ لا کیا۔ خالد جاوید سینئر ایڈووکیٹ ہیں جو سپریم کورٹ میں مختلف کیسز میں پیش ہوچکے ہیں۔ 2013 میں وہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کے لیے دائر کی گئی درخواستوں پر 18 فروری کو اپنے دلائل کے پہلے روز ہی صورتحال اس وقت ناخوشگوار ہوگئی تھی جب اٹارنی جنرل نے شعلہ بیانی سے دلائل کا آغاز کیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے فل کورٹ کے سامنے ایک بیان دیا تھا، جس پر ججز نے انہیں بیان سے دستبردار ہونے کا کہا تھا۔ ساتھ ہی مذکورہ بیان کو ’بلا جواز‘ اور ’ انتہائی سنگین‘ قرار دیا تھا۔ اس بیان سے متعلق عدالت نے میڈیا کو رپورٹنگ سے روک دیا تھا۔

اسی روز کی سماعت میں اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ انہیں احساس ہے کہ انہوں نے کچھ ایسا کہا تھا کہ جو عدالتی بینچ کے لیے خوشگوار نہیں تھا۔ جس کے جواب میں بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے ردعمل دیا تھا کہ ’یہ بلا جواز' تھا۔ ساتھ ہی عدالت کے ایک اور رکن جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے تھے کہ انور منصور کو اپنے بیان سے دستبردار ہونا چاہیے۔

بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے حکم دیا کہ اٹارنی جنرل نے بینچ کے حوالے سے جو بیان دیا، اٹارنی جنرل اپنے بیان کے حوالے سے مواد عدالت میں پیش کریں۔ اگر اٹارنی جنرل ایسا نہیں کرسکتے تو تحریری معافی مانگیں۔ اس ساتھ ہی پاکستان بار کونسل نے ایک بیان میں اٹارنی جنرل سے غیر مشروط تحریری معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے 'غیر معمولی طرز عمل' پر استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

آج سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف دیے گئے بیان پر عدالت عظمیٰ سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ عدالت میں جمع کروائی گئی تحریری معافی میں انور منصور خان نے کہا کہ ’ 18 فروری کو دیا گیا بیان واپس لیتا ہوں اور اس پر غیر مشروط معافی مانگتا ہوں‘۔

بیان کے مطابق انور منصور خان نے کہا کہ عدلیہ کا بے حد احترام کرتا ہوں اور عدلیہ کے عزت اور وقار کے بارے میں منفی بیان کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

loading...