لڑائی سے ہر شخص بیزار ہو چکا ہے: سراج الدین حقانی

  • جمعہ 21 / فروری / 2020
  • 2220

طالبان کے معاون سربراہ، سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ آپس کی بد اعتمادی کے باوجود، عسکریت پسند گروپ امن سمجھوتے کو کامیاب بنانے کے لئے  پر پُرعزم ہے۔ افغانستان میں لڑائی بند کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ دستخط کا معاملہ بہت قریب ہے۔

سراج الدین حقانی مبینہ طور پر پاکستان سے خودکش بم حملوں اور سرکش کارروائیوں کے احکامات صادر کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔  جمعرات کو نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں شدت پسند کمانڈر نے لکھا ہے کہ ’طویل لڑائی نے ہر ایک پر تباہ کن اثرات ڈالے ہیں۔ لڑائی سے ہر ایک بیزار ہو چکا ہے‘۔ حقانی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ طالبان سمجھوتے کی ممکنہ کامیابی اور اس کامیابی کو یقینی بنانے کا سہرا امریکہ کے سر ہوگا کہ اس میں درج سب شقوں پر ’برابری کی بنیاد پر اصولوں کی پاسداری‘ کا اطلاق ہو ۔

سراج الدین حقانی نےکہا ہے کہ ’اُسی صورت میں ہی ہم مکمل اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے اور تعاون کی بنیاد پختہ ہو گی۔  ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں یہ تعاون پارٹنرشپ کی کوئی صورت اختیار کر لے‘۔  الزامات کے باوجود پاکستان حقانی کے ساتھ کسی قسم کے مراسم یا حقانی نیٹ ورک سے تعلقات کے تاثر کو مسترد کرتا رہا ہے۔

نیویارک ٹائمز کا یہ مضمون ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکہ اور طالبان نمائندوں نے حال ہی میں اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا ہے کہ سات دن کے لیے افغانستان میں شدت پسند کارروائیاں بند کی جائیں گی۔ اگر یہ عارضی معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو دونوں فریق اس ماہ کے آخر تک امن سمجھوتے پر دستخط کریں گے، جس کا ایک طویل عرصے سے انتظار کیا جاتا رہا ہے۔

منگل کے دن اپنے خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن سمجھوتے کا امکان موجود ہے۔ جس کے نتیجے میں افغانستان سے فوجوں کا انخلا ہو سکے گا۔ ٹرمپ نے میری لینڈ میں جوائنٹ بیس انڈریوز ہوائی اڈے پر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہم کچھ عرصے سے ان سے بات کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ معاہدہ ہو جائے۔ اس کا امکان موجود ہے‘۔

loading...