کراچی میں گیس لیک ہونے کی وجوہات کا علم نہیں ہوسکا

  • منگل 18 / فروری / 2020
  • 890

کراچی کے علاقے کیماڑی میں گیس لیکیج کے باعث 7 افراد جاں بحق اور متعدد متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ گیس کہاں سے لیک ہورہی ہے۔

واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے حکام نے مختلف طریقوں سے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ صوبائی حکومت بھی حرکت میں آگئی ہے اور متاثرہ علاقوں سے رہائشیوں کے انخلا کا حکم دے دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی اور رہائشیوں کے انخلا کے احکامات دیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بدقسمتی سے زہریلی گیس کی بو کم نہیں ہورہی اور لوگ اب بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں۔

اجلاس کے بعد ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہوا کی سمت میں تبدیلی کے ساتھ بو پھیل رہی ہے۔ محفوظ مقامات پر موجود شادی ہالز کو متاثرہ افراد کی رہائش کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے اس واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ دوسری جانب ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سندھ کابینہ نے تمام تر توجہ اس مسئلے کی جانب دینے کے لیے سندھ کابینہ کا  اجلاس ملتوی کردیا ہے۔ اب یہ اجلاس بدھ کو ہوگا۔

پولیس نے متاثرہ علاقوں اور وہاں کی آب و ہوا صاف کرنے کے لیے جامعہ کراچی اور دیگر شعبوں کے ماہرین کی مدد مانگ لی ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان بحریہ بھی اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کی ایک ٹیم نے متاثرہ علاقوں سے نمونے بھی اکٹھے کیے ہیں۔

گزشتہ روز شام میں جیکسن پولیس نے ریاست کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 284 (زہریلے مواد سے متعلق غفلت برتنے)، دفعہ 321 (انسان کا قتل) اور دفعہ 337 جے (زہریلے مواد سے تکلیف پہنچانا) کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ ریسکیو اور پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں 3 خواتین سمیت 7 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

متعلقہ حکام اب تک معاملے کی درست وجوہات کے حوالے سے لاعلم ہیں۔ اس سلسلے میں کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا پولیس افسران واقعے کی حقیقی نوعیت کے تعین کے لیے ڈاکٹرز کے تعاون سے کررہے ہیں۔ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے لیے ضلعی پولیس، پورٹ سیکیورٹی فورس، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل ٹیمز تشکیل دے دی گئی ہیں۔

اس سلسلے میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) شرجیل کھرل نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ گیس کا اخراج کہاں سے ہوا یہ جانننے کے لیے ویسٹ وہارف کو چیک کیا جارہا ہے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے چیئرمین جمیل اختر نے صحافیوں کو بتایا کہ بندرگاہ پر کام معمول کے مطابق جاری ہے۔ تمام ٹرمینلز چیک کیے گئے اور یہاں کہیں سے بھی گیس لیکیج نہیں ہورہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بندرگاہ سے گیس لیکیج کی خبریں غلط ہیں۔

loading...