مہاجرین کی واپسی تک عسکریت پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں: وزیراعظم

  • سوموار 17 / فروری / 2020
  • 730

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی تک عسکریت پسندی کے خاتمے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

ملک میں 40 برس سے مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 سال پاکستان کے عوام کے لیے بہت مشکل حالات رہے لیکن ہم نے تمام تر مشکلات کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اکثر ایسا نہیں ہوتا کہ مہاجرین ایسے اعزاز کے ساتھ رہے ہوں اور میزبانوں نے گزشتہ 20 برسوں میں معاشی چیلنجز کے باوجود افغان مہاجرین کے ساتھ بہتر طریقے سے اپنے تعلق کو برقرار رکھا ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس صورتحال کا ایک خوشگوار اثر یہ ہے کہ پاکستان میں کئی سالوں سے کرکٹ دیکھنے کے بعد اب افغانستان کی انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم بھی موجود ہے۔ سخاوت کا بینک بیلنس سے تعلق نہیں ہوتا۔ اسلام ہمیں اخوت اور انسانوں کو متحد کرنے کا درس دیتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہم نے افغان امن مذاکرات میں سہولت کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ زلمے خلیل زاد جانتے ہیں کہ پورا ملک ایک پیج پر ہے۔ ہماری سیکیورٹی فورسز ایک پیج پر ہیں۔ ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔  پاکستان میں 14 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین ہیں، ہم مہاجرین کی تعداد کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے  لئے افغانستان کے عوام امن کے مستحق ہیں۔

کانفرنس میں افغانستان کے دوسرے نائب صدر سرور دانش کی تقریر کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں۔  نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا عام ہوگیا کیونکہ اسلام اور دہشت گردی کو ساتھ جوڑا گیا تھا جس سے دنیا بھر میں مسلمان مہاجرین کو مشکلات کا سامنا پڑا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایسا ممکن ہے کہ نائن الیون کے بعد کچھ عسکریت پسند کو افغانستان میں لڑرہے تھے وہ یہاں آکر رہے ہوں۔ یہاں 5 لاکھ سے زائد لوگوں کے کیمپس موجود ہیں، ان لاکھوں افراد کے بیچ میں رہنے والے کچھ ہزار عسکریت پسندوں کو حکومت کیسے پکڑ سکتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں امن بحال ہونا اس لیے اہم ہے کہ وہاں حالات ایسے ہوں کہ افغان مہاجرین واپس جاسکیں۔ اس کے بعد اگر کوئی عسکریت پسند یہاں سے کام کرتا ہے تو ہم ذمہ داری قبول کرسکیں گے۔  وزیراعظم نے کہا کہ 27 لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی میں ہمارے لیے اس حوالے سے مکمل ضمانت دینا ممکن نہیں۔ ہم سرحد پر باڑ لگارہے ہو جوتقریباً مکمل ہوگئی ہے لیکن اس کے باوجود مہاجرین کی واپسی تک یہ ضمانت دینا ممکن نہیں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان کا تنازع ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔ ہم افغانستان میں انسانی بنیادوں پر امن چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی توجہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جانب مبذول کرواتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا بھر میں قوم پرست جماعتیں دوسروں کو اپنے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سامنے آرہی ہیں۔  بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے 2 قوانین متعارف کروائے گئے ہیں جو مستقبل میں ہمارے ملک کے لیے پریشانی کا باعث ہوگا کیونکہ یہاں مہاجرین کا ایک بڑا مسئلہ موجود ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 2 روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو تسلیم کرنا چاہیے کہ افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کی کوششوں کے مقابلے میں عالمی حمایت بہت کم رہی ہے۔ ہم یکجہتی اور ہمدردی کی قابل ذکر کہانی کا اعتراف کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ ایسا کرنا اہم ہے کیونکہ یہ کہانی دہائیوں پر محیط ہے۔

انہوں نے کہا کہ 40 سال سے پاکستان نے افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ 40 برس سے افغان عوام مسائل کا شکار ہیں۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کی 40 سالہ میزبانی کی کہانی برادارنہ تعلقات اور قربانی کے جذبوں پر مبنی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ دنیا کے دیگر حصوں میں بڑے تنازعات سامنے آئے ہیں اور مہاجرین کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے لیکن پاکستان آج بھی مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ یہاں کے ہر دورے پر میں پاکستانی عوام کی دردمندی، غیر معمولی سخاوت سے متاثر ہوا۔ میں نے نہ صرف ان کے الفاظ بلکہ ان کے عمل میں بھی دردمندی دیکھی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ افغانستان کے عوام کو امن، خوشحالی اور انسانی حقوق کے احترام کی ضرورت ہے اور یہ ان کا حق ہے۔

قبل ازیں کانفرنس سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی خطاب کیا۔

loading...