بھارت نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی ثالثی مسترد کردی

  • سوموار 17 / فروری / 2020
  • 710

بھارت نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیسرے فریق کے ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

انتونیو گوتریس نے ایک روز قبل اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ پیشکش کی تھی۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کا احترام کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے ثالث کی حیثیت سے اپنے کردار کی پیش کش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق بھارت نے اس پیشکش کو گزشتہ مسترد کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی وزارت امور خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے دعوٰی کیا کہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر جس کو توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ  پاکستان کے زیر قبضہ علاقوں کو چھڑانے کا ہے۔ دیگر امور پر دو طرفہ بات کی جائے گی، تیسرے فریق کے ثالثی کا کوئی کردار یا گنجائش نہیں ہے۔

دی ہندو کے مطابق رویش کمار کا کہنا تھا کہ بھارت کو امید ہے کہ انتونیو گوتریش بھارت کے خلاف سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قابل اعتبار مستقل اور ناقابل واپسی اقدام اٹھانے پر زور دیں گے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان، مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کرکے بھارت کے خلاف پراکسی وار میں ملوث ہے جبکہ پاکستان نے اس الزام کی بار بار تردید کی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کو مسترد کیا ہے۔ جولائی 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 70 سالہ پرانے تنازع کو حل کرنے کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور اس پیش کش کو امریکا نے دہرایا بھی تھا تاہم بھارت نے اسے مسترد کردیا تھا۔

گزشتہ روز اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مؤثر طور پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت کے بارے میں مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔  اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ سفارت کاری اور بات چیت ہی وہ واحد وسیلہ ہے جو اقوام متحدہ کے میثاق اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل اور امن کے استحکام کی ضمانت دیتا ہے۔

انتونیو گوتریس نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں دونوں ملکوں سے مستقل تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دے رہا ہوں۔

loading...