بھارتی قانون شہریت اور نظریہ چوہدری رحمت علی

ہندوستان، صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہے بلکہ یہ مختلف مذاہب کے ماننے کا خطہ ہے۔ اس لئے اسے دینیہ کہنا چاہیے یعنی مختلف ادیان کے پیروکاروں کا علاقہ اور اسے ایک ملک کہنا بھی غلط ہے کیوں یہ اپنی تاریخ میں کبھی بھی ایک ملک کے طور پر نہیں رہا اسی لئے اسے برصغیر کہنا چاہیے یعنی ایک چھوٹا بر اعظم۔

یہ دلائل جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے لئے الگ ملک کی تحریک کے بانی نقاش پاکستان چوہدری رحمت علی نے چار سو صفحات پر مبنی اپنی تحقیقی کتاب  PAKISTAN The Father Land of the Pak Nation میں دئیے ہیں۔ انہوں نے تاریخی حقائق واضح کیا ہے کہ ہندو مت اس خطہ کا آبائی مذہب نہیں ہے۔چوہدری رحمت علی کے دلائل حقائق کے مطابق ہیں۔ ایک ہزار سال گزرنے کے بعد بھی مسلمانوں کو بر صغیر کے باشندوں کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا جارہا اور سی اے اے جیسے نام نہاد شہریت کے قانون کے تحت ان کا بھارت میں جینا مشکل بنا یا جارہا ہے۔اگر مسلمان برصغیر کے باشندے نہیں تو ہندو بھی یہاں کے اصل باشندے نہیں کیونکہ وہ مسلمانوں سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے یہاں آئے تھے۔

 ہندوستان کے اصل باشندے دراوڑی نسل کے لوگ ہیں۔ان کی رنگت سیاہ اور چہرے کے نقوش قدرے بد نما تھے۔ یہی ہندوستان کے اصل باشندے اس سرزمین کے مالک تھے۔ دراوڑ اپنے زمانے کی مہذب اقوام میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے چھ ہزار قبل مسیح گندم، جو، کپاس اور چاول جیسی فصلیں اگانے اور روئی سے دھاگا اور کپڑا بنانے میں مہارت حاصل کررکھی تھی۔ اس دور میں روم اور یونان جیسی تہذیبیں سوتی کپڑا بنانے سے ناآشنا تھیں۔ ڈھائی ہزار سال قبل آریہ اپنے جانوروں کے لئے چراہ گاہوں کی تلاش ہندوستان پر حملہ آور ہوئے بالکل ویسے ہی جیسے انگریز تجارت کے لئے یہاں وارد ہوئے۔ آریاوئں نے ہندوستان کے اصل باشندوں کو جنوب کی طرف دھکیل دیا۔ آج بھی جنوبی ہندوستان میں وہ نسل آباد ہے اور وہاں بولی جانے والی کم از کم 26 دراوڑی زبانیں جن میں تامل، ملیالم، کنڑی، اور تلگو اس میں شامل ہیں۔ ان زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد بیس کروڑ کے قریب ہے۔ یہ زبانیں ہند یورپی زبانوں کے گروہ سے تعلق نہیں رکھتیں۔ اگر صدیاں گزرنے کے بعد مسلمان اب بھی ہندوستان کے باشندے نہیں تو پھر ہندو بھی یہاں کے اصل باشندے نہیں۔

دوسری اہم حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں کی اکثریت تبدیلی مذہب سے وجود میں آئی جو یہاں کے ہزاروں سال سے مقیم باشندوں کی اولادیں ہیں اورجن کا ثبوت آریائی اقوام اور قبائل ہیں جو اب مسلمانوں کی صورت میں اس دھرتی کے ثبوت ہیں۔ مودی حکومت نے برصغیر کوہندوؤں کا ملک ثابت کرنے کے لئے جو کمیشن بنایا ہے وہ ان حقائق سے کیسے صرف نظر کرسکے گا۔ مودی اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروا لیں جو اس حقیقت کو ثابت کرے گا کہ وہ بھی برصغیر کے اصل باشندے نہیں ہیں اور اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں انسانیت دشمن پالیسی کو بدلنا ہوگا۔

برصغیر میں مسلمانوں کی آمد یہاں کے باشندوں کے لئے باعث رحمت اور شرف انسانیت کا باعث ہوئی۔ آریاؤں نے ہندوستان کو ذات پات اور چھوٹ چھات میں تقسیم کررکھا تھا۔ قدیم باشندوں کو شودر بنا کر ان سے انسان ہونے کا مرتبہ چھین لیا تھا۔ اسلام کی آمد سے ان محکوم اور غلام انسانوں کو آزادی نصیب ہوئی۔ شودر جنہیں نجس قرار دیا گیا، اعلی ذات کے ہندوؤں پر ان کا سایہ پڑنا بھی جرم تھا اور ان کی عبادت گاہوں میں داخل نہیں ہوسکتے تھے اور نہ مذہبی وعظ سن سکتے تھے۔ برصغیر میں اسلام کے آنے سے وہ مسلمانوں کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔ مسلم صوفیا نے محبت اور انسان دوستی کے پیغام کا عملی مظاہرہ کیا اور بلا تمیز مذہب و ذات سب کو اپنے آستانوں پر عزت دی۔ مورخین اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد یہاں کے معاشرے لئے کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔ مسلمانوں کے محبت اور انسانیت دوستی کے پیغام کے باوجود ہندوؤں کی اکثریت تنگ نظری اور مسلمانوں سے تعصب کا مظاہرہ کرتی رہی اور انگریزوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد انہیں گویا کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا۔

 سر سید احمد خان وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ مسلمان اور ہندو کبھی بھی اکٹھے نہیں رہ سکیں گے۔ ہندو اکثریت کا طرز عمل اور ان کے عزائم کو دیکھتے ہوئے چوہدری رحمت علی وہ پہلے راہنما ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے1915 میں لاہور میں بزم شبلی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کا شمالی علاقہ مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل ہے اس لئے اسے ہم مسلم علاقہ ہی رکھیں گے نہ صرف یہ کہ ہم اسے ایک مسلمان ریاست بھی بنائیں گے۔ انہوں نے اسلامیان ہند کے لئے ایک الگ ملک کے خدوخال 28 جنوری 1933 کو اپنے مشہور پمفلٹ   Now or Neverمیں واضح کرتے ہوئے نئی مملکت کا نام پاکستان تجویز کیا۔

چوہدری رحمت علی نے صرف شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے الگ ملک کا تصور نہیں دیا تھا بلکہ انہوں نے ہندوستان میں جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی، ان کے الگ ملک کا تصور دیا۔ان کی سکیم کے مطابق حیدرآباد دکن کو عثمانستان، بندھیل کھنڈ اور مالوہ کو صدیقستان، بہار اور اڑیسہ کوقازقستان، آگرہ اور اودہ حیدرستان، راجستان کو معینستان اور مدراس کو ماپلستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرنا تھا۔

 ہندوستان اپنی تاریخ میں ایک ملک کے طور پر پر قائم نہیں رہا اور مودی حکومت کی انتہا پسند پالیسیاں ان تاریخی وجوب کا باعث ہوں گی جن کے نتیجہ میں وہاں یہ مسلم ریاستیں موجود میں آئیں گی اور اس کے لئے ہندوستان کی حکومت اور انتہا پسند خودوہ حالات پیدا کر رہے ہیں۔ جموں کشمیر میں لاکھوں بھارتی افواج مسلسل جبر و ستم کے باوجود تحریک آزادی کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں اور جموں کشمیر ایک اور پاکستان کی صورت میں آزادی سے ہمکنار ہوگا۔ دنیا میں شداد، فرعون، نمرود اور بہت سے دیگر بڑے بڑے ظالم حکمرانوں آئے لیکن کے نام نشان مٹ گئے۔ مودی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا، یہ نوشتہ تقدیر ہے۔  ریاست جموں کشمیر ایک اور پاکستان بنے گی۔

loading...