مگر سوال تو اب تک وہیں پڑا ہوا ہے

کسی دل جلے نے ہمیں ایک شعر بھیجا ہے۔ یہ تو معلوم نہیں یہ شعر کس کا ہے مگر ہمیں کچھ کچھ حسب حال سا لگتا ہے۔ اس لئے یہ شعر آپ بھی پڑھ لیجئے:
اٹھا لئے گئے ہیں، جو اٹھا رہے تھے سوال
مگر سوال تو اب تک وہیں پڑا ہوا ہے

وہ سوال جو اب تک وہیں پڑا ہوا ہے، اسے آپ بھی جانتے ہیں مگر کیا ہمارے نئے پاکستان کے نئے حکمران یہ جانتے ہیں کہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز (اکادمی ادبیات پاکستان) کے پچپن پرانے ملازموں کو پچھلے چار مہینے سے پنشن نہیں ملی ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال اس ادارے کی نذر کئے۔ پنشن پانے والے دو افراد تو حال میں اللہ کو پیارے بھی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ہزار معمر اور ضرورت مند ادیبوں کو جو وظیفہ دیا جاتا تھا، چھ مہینے سے وہ وظیفہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔ اب آپ سوچ لیجئے کہ یہ غریب کیسے زندگی گزار رہے ہوں گے؟

اب اور کیا کہا جائے؟ گزشتہ دو سال سے اس معتبر علمی اور ادبی ادارے کا کوئی چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل ہی نہیں ہے۔ ہم تو نہیں کہتے مگر لوگ کہہ رہے کہ اس کی ایک وجہ شاید یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کے اپنے حلقۂ احباب میں کوئی اس لائق ہی نہیں ہے کہ یہ مؤقر اور معتبر منصب سنبھال سکے۔ باقی ان کے اپنے حلقے سے باہر جو پڑھے لکھے اور عالم فاضل اصحاب ہیں، انہیں وہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ہم تو صبح شام ایسی ہی باتیں سنتے ہیں۔ اس لئے ڈرتے ڈرتے یہ عرض کر دیا ہے۔ علم و ادب کے بارے میں ان کا جو رویہ ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اردو سائنس بورڈ اور اردو لغت بورڈ جیسے ادارے، جنہوں نے سائنسی علوم کو اردو زبان میں منتقل کرنے اور اردو لغت کے لئے انتہائی وقیع کام کیا ہے اور ابھی ان کا یہ قابل قدر کام جاری تھا کہ انہیں بے دست و پا کر دیا گیا ہے۔ ان اداروں کے سربراہوں کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ یہ دونوں ادارے مقتدرہ قومی زبان (پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس ادارے کا نام تبدیل کر دیا تھا مگر ہم اسے آج بھی پرانے نام سے ہی یاد کرتے ہیں) میں ضم کر دیے جائیں گے۔

اس اعلان کو بھی دو مہینے ہو چکے ہیں، مگر ابھی تک اس بارے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے حالانکہ ہمارے خیال میں ان اداروں کو ضم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تینوں ادارے اپنی اپنی جگہ نہایت اہم کام کر رہے ہیں۔ اردو سائنس بورڈ سائنسی علوم پر طبع زاد اور ترجمہ والی کتابیں شائع کر رہا ہے۔ ہماری قومی زبان کو اس کی سخت ضرورت ہے۔ سائنس کے شعبے میں نئی سے نئی ایجادات ہوتی رہتی ہیں اور دنیا میں ان پر کتابیں بھی چھپتی رہتی ہیں۔ ان کتابوں کا ترجمہ ایک خود مختار ادارہ ہی کرا سکتا ہے۔ لغت بورڈ نے اپنی تمام جلدوں کی ایک مختصر لغت شائع کرنے کا پروگرام بنایا تھا اور اسے آن لائن بھی کر دیا تھا۔ اور آپ جانتے ہی ہیں کہ لغت نویسی کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ زبانوں میں نئے نئے الفاظ داخل ہوتے رہتے ہیں اور لغت میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے لئے بھی ایک خود مختار ادارے کی ہی ضرورت ہے۔ مقتدرہ قومی زبان جو کام کر رہا ہے وہ اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے لیکن لگتا یہ ہے کہ اس حکومت کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔

اور جن کاموں سے اس حکومت کو غرض ہے یا جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ ان کے لئے وہ بہت فکر مند ہے، وہ ہیں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کی چکی میں پسنے والے غریب اور بے کس عوام۔ کم سے کم از کم حکومت یہی کہتی ہے۔ خوش خبری سنائی جاتی ہے کہ ان بے آسرا لوگوں کے لئے پناہ گاہیں بنا دی گئی ہیں۔ وہاں انہیں سر چھپانے کی جگہ مل جاتی ہے اور لنگر خانے بنا دیے گئے ہیں جہاں دو تین وقت کا کھانا بھی مل جاتا ہے۔ بلا شبہ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے لیکن ہم صبح شام دیکھتے ہیں کہ ہمار ے شہر کے چوراہوں پر ہمیں برسوں سے جو بھیک مانگنے والے اور بھیک مانگنے والیاں نظر آرہی ہیں، ان پناہ گاہوں کے بعد بھی ان میں تو کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ وہ تو روزانہ ویسے ہی ہر آدمی کے آگے پیچھے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اںجو شکلیں ہم سالہا سال سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں، وہی شکلیں اب بھی نظر آتی ہیں۔ تو پھر پناہ گاہوں میں کون جاتا ہے؟

اب ان پناہ گاہوں کا حال بھی پڑھ لیجئے۔ ٹیلی وژن پر ان پناہ گاہوں کی تصویریں ایسے دکھائی جاتی ہیں کہ یہاں سے وہاں تک نہایت صاف ستھرے بستر لگے ہوئے ہیں اور ان پر یہ بے سہارا لوگ آرام کر رہے ہیں یا پھر بہت بڑی میز پر کھانا لگا ہوا ہے اور یہ بھوکے ننگے اپنا پیٹ بھر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال تو ابھی دو تین دن پہلے نظر آئی۔ اسحاق ڈار کے گھر پر پلک جھپکتے جو پناہ گاہ بنائی گئی، اس میں پلک جھپکتے ہی لوہے کے دو منزلہ پلنگ لگا دئیے گئے۔ نہ صرف یہ دو منزلہ فولادی پلنگ لگا دیئے گئے بلکہ ان بستروں پر آرام کرنے والوں کی تصویریں بھی دکھا دی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی اس گھر کے ڈائننگ روم کی بڑی میز پر ان بھوکے ننگوں کو بھی دکھا دیا گیا کہ کیسے وہ قیمتی پلیٹوں میں کھانا کھا رہے ہیں۔ لیکن اسحاق ڈار کے گھر کو تو جانے دیجئے کہ عدالت اس کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے اور حکومت اس کا کیا کرتی ہے مگر ہم تو یہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ذمہ دار افراد یا اداروں نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ان پناہ گاہوں اور ان میں پناہ لینے والوں کے بارے میں اندرونی معلومات بھی حاصل کی جائیں؟

پناہ گاہیں تو صاف نظر آ جاتی ہیں لیکن ہم تو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان پناہ گاہوں میں پناہ لینے والے کون لو گ ہیں؟ کیا ان کے انٹرویو نہیں کئے جا سکتے؟ اور کیا یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ شہر کے ہر چوراہے پر یہ جو بھیک مانگنے والے اور بھیک مانگنے والیاں نظر آتی ہیں، انہیں پناہ گاہوں میں پناہ کیوں نہیں دی جاتی؟ اور ہاں، یہ تو بہت ہی دلچسپ مضمون بن سکتا ہے کہ اسحاق ڈار کے گھر پر قبضے کے فوراً بعد جو دو منزلہ پلنگ وہاں لگائے گئے وہ اتنی جلدی کہاں سے آ گئے تھے؟ اور پھر ان بستروں پر جو لوگ استراحت فرما رہے تھے وہ کون تھے؟ اور اتنی جلدی انہیں کیسے اکٹھا کیا گیا تھا؟ اس پر تو بہت ہی دلچسپ ڈرامہ بھی بن سکتا ہے۔ بہرحال یہ ہماری خواہش ہے۔ اب ذمہ دار افراد جانیں یا ان کے کرتا دھرتا۔ ہمارا تو سوال صرف یہ ہے کہ کیا عام آدمی یہ ساری باتیں جاننا نہیں چاہے گا؟ ظاہر ہے اس سے اس کی معلومات میں اضافہ ہی ہو گا اور حاشا و کلا، یہ کام کسی بری نیت سے نہیں کیا جائے گا بلکہ اس سے حکومت کے نیک کاموں کو شہرت ہی ملے گی اور ظاہر ہے اس سے حکومت بھی خوش ہو گی۔

معاف کیجئے، ہم کہاں سے چلے تھے اور کہاں پہنچ گئے۔ ہم تو اکادمی ادبیات، اپنے ضرورت مند ادیبوں اور علمی اداروں کی بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ تعلیم اور ثقافتی امور کے ہمارے وزیر بہت ہی پڑھے لکھے اور شائستہ انسان ہیں۔ وہ بھی یقیناً ادھر توجہ دینا چاہتے ہوں گے مگر ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال نے، اپنی حکومت کی طرح، انہیں بھی اتنا پریشان کر رکھا ہے کہ انہیں ان علمی، ادبی اور تعلیمی اداروں کی طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں مل رہی ہے۔ اور ابھی ابھی یاد آیا کہ ہماری یونیورسٹیاں بھی تو مالی بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔ وہاں سے بھی کچھ ایسی ہی آوازیں آ رہی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مالی حالت اتنی دگرگوں ہو گئی ہے کہ اس کے پاس اعلیٰ تعلیم کے لئے وظیفے دینے کو فنڈز ہی نہیں ہیں۔ اب آخر میں ڈرتے ڈرتے ہم ایک بار پھر وہی شعر پڑھنا چاہتے ہیں جس سے اس کالم کا آغاز کیا گیا تھا:
اٹھا لئے گئے ہیں، جو اٹھا رہے تھے سوال
مگر سوال تو اب تک وہیں پڑا ہوا ہے
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

loading...