ہمارے لیے کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو پاکستان کیلئے ہے: ترک صدر

  • جمعہ 14 / فروری / 2020
  • 1180

ترک صدر رجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر پر پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لیے کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو چناق قلعے کی تھی۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرِ صدارت مشترکہ پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا جس میں 2 روزہ دورہ پر آئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطاب کیا۔ ترک صدر نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی خدمت میں 'سلامِ محبت' پیش کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کو یکجا کرنے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔  پاکستان کے سرکاری دورے پر آپ سے مخاطب ہونا مسرت اور دلی خوشی کا باعث ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ میرے اسلام آباد میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی جس طریقے سے پاکستان کے عوام نے خوشی اور محبت سے استقبال کیا، میں اس پر پاکستانی قوم اور اعلیٰ حکام کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ میں یہاں پاکستان میں کبھی بھی اپنے آپ کو اجنبی ملک میں محسوس نہیں کرتا۔  رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان اور ترکی کے تعلقات سب کے لیے قابل رشک ہیں۔ سلطنت مغلیہ کے بانی ظہیر الدین بابر اور دیگر مغل حکمرانوں نے موجودہ پاکستان سمیت تمام خطے پر تقریباً 350 سال حکومت کی اور ہماری مشترکہ تاریخ پر ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

رجب طیب اردوان نے کہا ترکی اور پاکستان کے تعلقات شاعر اعظم محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے قیمتی ورثہ ہی کے نتیجہ میں موجودہ دور تک پہنچے ہیں۔ 1915 میں جب ترک فوج چناق قلعے کا دفاع کررہی تھی تو اس محاذ سے 6 ہزار کلو میٹر دور اِس سرزمین پر ہونے والے مظاہرے اور ریلیاں ہماری تاریخ کے ناقابل فراموش صفحات پر درج ہوچکے ہیں۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے اپنا پیٹ کاٹ کر جس طرح ضرورت کے وقت ترکی کی مدد کی ہم اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔ ہمارے لیے اس وقت کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو آپ کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کشمیر وہی ہے جو کل چناق قلعے تھا ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دکھ اور درد ہمارا دکھ اور درد ہے، پاکستان کی خوشی ہماری خوشی، اس کی کامیابی و کامرانی ہماری کامیابی اور کامرانی ہے۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ازل سے چلنے والے ہمارے برادرانہ تعلقات تاابد قائم رہیں گے کیونکہ ہمارا اخوت کا رشتہ، رشتے داری نہیں بلکہ دل کی لگن کا رشتہ ہے۔ ہماری دوستی مفاد پر مبنی نہیں بلکہ محبت سے پروان چڑھی ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ پاکستانی بھائیوں کی جانب سے ترکوں کی دوستی پر پختہ یقین رکھنے کا طلبگار ہوں، ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ہم پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاسوں میں پاکستان پر ڈالے جانے والے سیاسی دباؤ کے باوجود ہم پاکستان کی بھرپور حمایت کا پختہ یقین دلاتے ہیں۔ پاکستان ترقی اور خوشحالی کے سفر کی جانب رواں دواں ہے بلاشبہ اقتصادی ترقی ایک، دو دن میں عمل میں نہیں آتی اس کے لیے خوب محنت اور مںصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے، عزم، یقین اور خود اعتمادی سے کام لینا پڑتا ہے۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ میں ترکی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کے ایک بڑے گروہ کے ساتھ آیا ہوں۔ ہم پاکستان ترکی مشترکہ ورکنگ گروپ اجلاس میں سرمایہ کاروں کے ساتھ یکجا ہوں گے۔  وزیراعظم پاکستان کے دورہ ترکی کے دوران باہمی روابط کو مزید مضبوط کرنے اتفاق ہؤا تھا۔ آج طے پانے والے اسٹریٹجک اور اقتصادی فریم ورک اور عملی منصوبے کا متن تجارت سے لے کر انفرا اسٹرکچر تک، سرمایہ کاری سے لے کر سیاحت تک مختلف معاملات میں ہمارے لیے ایک روڈ میپ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ پاکستان خطے میں عدم اعتماد، دہشت گردی اور جھڑپوں سے بری طرح متاثر ہونے والا ایک ملک ہے۔  ترک صدر نے کہا کہ ہم دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے معاملات میں ہم پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم فلسطین، قبرص اور کشمیر سمیت دیگر حق بجانب معاملات پر ڈٹتے ہوئے تنازعات کا حل نکالنے کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ہم شام میں جنگ اور ملکی انتظامیہ کے مظالم کی وجہ سے فرار ہونے والے 40 لاکھ کے قریب شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کررہے ہیں۔ مالی اعتبار سے ہم سے کئی گُنا امیر ممالک نے شامیوں کو اپنے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے۔ ہم ان پر 40 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کررہے ہیں۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ خاص طور پر حالیہ دنوں میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان مشرق وسطیٰ سے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات، حالیہ صدی کی منصوبہ بندی کا پلان ،ایک امن منصوبہ نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے۔  ہم نے دنیا بھر کے سامنے کہا ہے کہ بیت المقدس ہماری سرخ لکیر ہے لہذا ہم نے اعلان کیا ہے کہ حرم شریف کو قابض اسرائیلی انتظامیہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کشمیری بھائیوں کو سالوں سے درپیش مشکلات میں حال ہی اٹھائے گئے یک طرفہ اقدامات سے مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ مسئلہ مزید خطرناک صورتحال اختیار کرگیا ہے۔ پہلے سے ہی مشکل حالات میں کشمیریوں سے آزادی اور حاصل شدہ حقوق کو چھیننا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ مسئلہ کشمیر کا حل جھڑپوں یا جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف کے احساس پر مبنی ہے۔ اس طریقے سے حاصل کیا جانے والا حل تمام فریقین کے مفاد میں ہوگا۔

قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اجلاس کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رجب طیب اردوان پاکستان کے سچے دوست اور مسلم امہ کے رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ پاکستانی عوام کا منتخب ایوان ترک صدر کو خوش آمدید کہتا ہے اور ترکی کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر منصفانہ موقف اختیار کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ مشترکہ اجلاس کے آغاز پر ترکی اور پاکستان کے قومی ترانے پڑھے گئے، جس کے بعد تلاوت قرآن پاک کی گئی اور نعتِ رسول مقبولﷺ پڑھی گئی۔

اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ آمد پر وزیراعظم عمران خان، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔

گزشتہ روز ترک صدر رجب طیب اردوان، وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے نور خان ایئربیس پر ترک صدر رجب طیب اردوان اور ان کی اہلیہ امینہ اردوان کا استقبال کیا۔

loading...