ریکوڈک کے سونے پر استحقاق کا معاملہ، وزیر اعظم کے بیان پر تحریک التوا

  • جمعہ 14 / فروری / 2020
  • 710

سینیٹ سیکریٹریٹ میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ریکوڈک کا سونا بیچ کر غیر ملکی قرضہ اتارنے کے بیان پر تحریک التوا جمع کروائی گئی ہے۔

نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں  تحریک التوا جمع کروائی اور کہا کہ وزیراعظم کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ ریکوڈک، بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہے اور وفاقی حکومت کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ ریکوڈک کے ذخائر بیچ کر ملک کا قرضہ اتاریں۔  میر کبیر نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر سینیٹ میں بحث کروائی جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے پر ماہرین تیزی سے کام کر رہے ہیں اور وہاں سے سونے کے جو ذخائر نکلیں گے اور اس سے غیر ملکی قرضے اتاریں گے۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ چند روز پہلے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو آرٹیکل 6 کے تحت گرفتار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے۔ اگر وزیراعظم یہ بات کرتے ہیں تو پھر آرٹیکل 6 لاگو کردیں، رکاوٹ کیا ہے؟

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ یہ تاریخی اقدام بھی اٹھائیں، ماضی میں اس طرح کے مقدمات بنے۔ پرویز مشرف نے ہمارے اوپر بغاوت کے مقدمات بنائے تھے، آج پرویز مشرف کہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ہوش میں نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق لب کشائی ملک اور قوم کی خدمت نہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کو گرفتار کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ فضل الرحمٰن کو گرفتار کرکے تو دیکھیں، تجربہ تو کرکے دیکھیں۔  انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 62 کے ذیلی شق انتخاب میں حصہ لینے سے متعلق واضح ہے۔ چیلنج کرتا ہوں کہ وزیراعظم الیکشن لڑنے کے بھی اہل نہیں۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ وزیراعظم آئین کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ وہ جعلی الیکشن کے ذریعے آئے ہیں اگر وزیراعظم آرٹیکل 62 پر پورا اترتے ہیں تو میں استعفیٰ دے دیتا ہوں۔  سینیٹ اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری کی تقریر پر حکومتی ارکان کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔

بعدازاں سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کے جواب میں کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے دھرنے سے متعلق ایک معاہدے کی بات کی تھی۔ بتایا جائے کہ انہیں کیا یقین دہانی کرائی گئی تھی، کیا بات ہوئی تھی اور کس نے کرائی تھی؟ انہوں نے کہا کہ آپ اس بات کو ہوا دے رہے ہیں کہ غیر جمہوری طریقے سے حکومتیں بنتی ہیں۔ اس معاملے پر وضاحت ضرور بنتی ہے۔  شبلی فراز نے کہا کہ آرٹیکل 6 کی بات اس ایوان میں نہیں ہوئی یہ بات جہاں ہوئی ہے وہاں اس معاملے کو اٹھایا جائے۔

 سینیٹ اجلاس میں سینیٹر روبینہ خالد نے ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق نئے قوانین کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ سینیٹ کمیٹی میں نئے رولز پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔  انہوں نے کہا کہ وزارت کی جانب سے وعدہ کیا گیا تھا کہ رولز کمیٹی میں پیش کیے جائیں گے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

اپوزیشن رہنما راجا ظفر الحق نے کہا کہ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، گندم اور چینی میں جو گڑبڑ ہوئی اس پر کہا گیا کہ مافیا کو نہیں چھوڑیں گے۔  وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حکومت کو اس معاملے پر رپورٹ دے دی ہے، رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہداللہ نے کہا کہ ایف آئی اے نے آٹے کے بحران کی تحقیقات کی ہیں، اپنے بندے نہ ہوتے تو تحقیقاتی رپورٹ باہر آ چکی ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کبھی ادویات، کبھی آٹا اور کبھی چینی کی واردات ہو رہی ہے۔ اس معاملے سے مہنگائی ہوئی ہے۔

loading...