اسلام آباد ہائی کورٹ نے بچوں پر تشدد کا قانون معطل کردیا

  • جمعرات 13 / فروری / 2020
  • 670

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد پر پابندی عائد کرتے ہوئے پاکستان پینل کوڈ  کی شق 89 کو تاحکمِ ثانی معطل کردیا۔

پاکستان پینل کوڈ کی یہ شق والدین، سرپرست اور اساتذہ کی جانب سے 12 سال سے کم عمر بچوں کو ان کی بھلائی کی نیت سے جسمانی سزا دینے کی اجازت دیتی ہے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان کے معروف گلوکار و سماجی کارکن شہزاد رائے کی جانب سے بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کی دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے بچوں کو جسمانی سزا دینے کے معاملے پر 5 مارچ کو حکومت سے جواب بھی طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہدایت کی کہ وزارت داخلہ فوری طور پر تعلیمی اداروں میں بچوں کے حقوق یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ سماعت کے دوران درخواست پر دلائل دیتے ہوئے شہزاد رائے کے وکیل نے کہا کہ پینل کوڈ کے سیکشن 89 کے تحت بچوں پر تشدد کی گنجائش بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔  وکیل نے بتایا کہ گزشتہ برس بھی لاہور میں تشدد سے طالبعلم جاں بحق ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہزاد رائے نے تعلیم میں اصلاحات کے لیے فاؤنڈیشن بنائی اور بچوں پر تشدد کا خاتمہ مفادِ عامہ کا معاملہ ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر اسمبلی نے کوئی قرارداد بھی منظور کی تھی جس پر وکیل نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں جب تک اس حوالے سے قانون سازی نہیں ہوجاتی تب تک تشدد کو تو روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے اور اس سے معاشرے میں تشدد بڑھتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز شہزاد رائے نے بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری قانون، سیکریٹری تعلیم، سیکریٹری انسانی حقوق اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کو سزا دینا معمول بن چکا ہے کیونکہ پڑھائی میں بہتری کے لیے بچوں کو سزا دینا ضروری تصور کیا جاتا ہے۔  بچوں پر تشدد اور سزا کی خبریں آئے روز میڈیا میں سامنے آرہی ہیں۔  درخواست میں غیر سرکاری تنظیم اسپارک کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا تھا جس کے مطابق سزا کی وجہ سے ہر سال 35 ہزار بچے اسکول چھوڑ رہے ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ پاکستان پینل کوڈ کی شق 89 کو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قرار دیا جائے کیونکہ یہ بنیادی انسانی حقوق اور بچوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔  یہ استدعا بھی کی گئی تھی کہ اسکولز، جیلوں اور بحالی مراکز میں بچوں کو جسمانی سزا دینے پر پابندی عائد کی جائے اور انہیں جسمانی و ذہنی تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت کو اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی جائے۔

سماعت کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار شہزاد رائے نے کہا کہ عدالت نے قانون میں بچوں پر تشدد کی گنجائش کو تاحکم ثانی معطل کر دیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ تحقیق بتاتی ہے کہ تشدد سے صرف تشدد بڑھتا ہے اور یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ ہمارے وفاق کے قانون میں ایسی شق بھی موجود ہے جو بچوں کی بھلائی کے لیے پٹائی کی اجازت دیتی ہے۔

loading...