گرفتار ہوا تو آصفہ میری آواز بنے گی: بلاول بھٹو زرداری

  • جمعرات 13 / فروری / 2020
  • 740

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر میں گرفتار ہوا تو میری آواز آصفہ بھٹو زرداری ہوگی۔

قومی احتساب بیورو راولپنڈی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک سال سے زائد عرصہ قبل چیف جسٹس پاکستان نے کہا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری بے گناہ ہے اس کے باوجود میں آج ان اتھارٹیز کے سامنے پیش ہوا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں ماضی میں بھی ان کے سوال ناموں کے جواب دے چکا ہوں۔ مئی میں ہونے والی آخری پیشی میں سوال نامہ دیا گیا تھا جس کے بعد نیب کو کوئی اعتراضات نہیں تھے۔  ان کا کہنا تھا کہ جب کراچی میں ہم نے اعلان کیا کہ مارچ سے ملک کی معاشی صورتحال، مہنگائی، پی ٹی آئی اور ایم ایف ڈیل کے خلاف جدوجہد کا آغاز کریں گے تو فوراً بعد ایک اور نوٹس آتا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم اداروں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں جب وہ صحیح کرتے ہیں اور جب وہ غلط بھی کرتے ہیں تب بھی ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس لیے اپنے اعتراضات کے باوجود میں آج یہاں پیش ہوا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میرے اعتراضات صرف یہ نہیں ہیں کہ چیف جسٹس نے کہا کہ میں بے گناہ ہوں لیکن سپریم کورٹ نے مراد علی شاہ سے متعلق بھی حکم دیا تھا اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے وکیل بھی مانتے ہیں کہ ان کے تجزے غلط تھے۔ ان کا دوبارہ جائزہ لینا پڑے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ  یہ جانتے ہیں کہ میں کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں تھا اور اگر ہوتا بھی تو زرداری اور بحریہ ٹاؤن کمپنی کے درمیان جو پرائیویٹ ٹرانزیکشن ہورہی ہے اس میں نیب کا کیا تعلق ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میں اس وقت کسی سرکاری عہدے پر نہیں تھا تو نیب کا کیا تعلق ہے کہ مجھے بلایا جائے اور مجھ سے پوچھا جائے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ میرا مؤقف کل بھی وہی تھا، آج بھی وہی ہے اور رہے گا کہ میں بے گناہ ہوں چیف جسٹس نے کہا کہ میں بے گناہ ہوں، میرے ایکشنز بھی بتاتے ہیں کہ میں بے گناہ ہوں۔  یہ سیاسی انتقام اور کردار کشی کی مہم ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جمہوری سیاست دانوں کو بدنام کریں۔ اسے ہم کافی دیر سے دیکھ رہے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دباؤ کے باوجود ہم اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے خاص طور پر اس وقت اس ملک کے غریب عوام پِس رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اتنا ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا قائد ایوان کا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ معاشی معاملات ہوں، قومی مفاد، کشمیر، دہشت گردی اور حکومت کے معاملات ہوں قومی اسمبلی میں دونوں ہی موجود نہیں ہوتے۔ جس سے ملک کی سیاست اور جمہوریت پر بہت اثر پڑتا ہے۔ امید ہے کہ اپوزیشن لیڈر جلد ملک میں موجود ہوں گے اور اپنا کردار ادا کریں گے۔

loading...