حافظ سعید کو سزا پاکستان کا اہم اقدام ہے: امریکہ

  • جمعرات 13 / فروری / 2020
  • 680

امریکا نے  جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے ساتھی ملک ظفر اقبال کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے جرم میں دی گئی سزا کا خیر مقدم کیا ہے۔ اور اسے اہم اقدام قرار دیا ہے۔

گزشتہ روز لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے دو مقدمات میں مجموعی طور پر 11 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر سنایا گیا ہے جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے آئندہ چند روز میں پاکستان کی گرے لسٹ میں موجودگی کے بارے میں اہم فیصلہ متوقع ہے۔

امریکہ کے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو نے جمعرات کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔ بیورو نے سزا کو پاکستان کے مستقبل کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کالعدم لشکر طیبہ کی جانب سے کیے گئے جرائم پر ان کا احتساب اور عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف کارروائی جیسے دونوں اقدامات بہتری کی جانب  قدم ہے۔

بیورو نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ وزیر اعظم خان خود یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ پاکستان کے بہترین مفاد ہے کہ وہ غیرریاستی عناصر کو اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دے۔

گزشتہ سال فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو تنبیہ کی تھی کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ جیسے اقدامات کے خلاف کارروائی کرے۔ ملک کے مالیاتی نظام کو لاحق خطرے کے بعد پوری حکومتی مشینری یکدم حرکت میں آ گئی تھی تاکہ اس انتباہ کے دو ماہ کے اندر اندر قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔

loading...