تعلیمی انحطاط کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

تعلیم کا شعبہ ہمارے پالیسی سازوں کے لیے ہمیشہ کم ترین ترجیحات میں سے ایک رہا ہے۔ ہمارے تمام ہمسایہ ممالک بشمول افغانستان تعلیم پر بھرپور توجہ دیتے ہیں اور اس مد میں بجٹ کا ایک خطیر حصہ مختص کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایسا نہیں۔ آخر کیوں؟

پاکستان میں عموماً بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات کو اس کم توجہی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہماری ترجیحات میں صرف اور صرف دفاعی اخراجات ہی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مقابلے میں دفاعی ادارے اپنے بجٹ کا ایک اہم حصہ عسکری تعلیمی اداروں پر خرچ کرتے ہیں۔ دفعتاً آپ کو سکیورٹی اداروں کے تحت ایک نیا سکول، کالج یا یونیورسٹی کھلنے کی نوید ملتی ہے۔ شاندار عمارات میں قائم کردہ یہ تعلیمی ادارے جدید ترین سہولیات سے مزین ہوتے ہے۔

ہر دفاعی ادارہ اپنے اپنے تھنک ٹینک بھی چلا رہا ہے۔ یقیناً ان تعلیمی اور تحقیقی اداروں پر نمایاں اخراجات ہوتے ہیں۔ یہ بات قابل ستائش ہے کہ ہمارے دفاعی ادارے تعلیم کے شعبے کو اس قدر اہمیت دیتے ہیں اور اس پر اخراجات میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیتے لیکن افسوس یہ ہے کہ اس اہم شعبے میں یہ دلچسپی اور جوش وجذبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں ناپید ہے۔

ہمارے ہاں طویل عرصے سے تعلیمی شعبے میں محض واجبی سرمایہ کاری نے ملک میں ایک شدید تعلیمی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس معمولی سرمایہ کاری کی وجہ سے پاکستان کے بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد سکولوں میں جانے سے محروم ہے۔ 2016 کے ایک مطالعہ کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر کے دو کروڑ 26 لاکھ بچے سکول نہیں جا سکے اور اس تعداد میں حالیہ برسوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان بچوں کے سکول نہ جانے کی سب سے بڑی وجہ سکولوں کی تعداد میں کمی تھی۔

کیا اکیسویں صدی میں اتنے بچوں کو آئینی ذمہ داری کے باوجود تعلیمی سہولتوں سے محروم رکھنا کسی مہذب ریاست کو زیب دیتا ہے؟ اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کے مطابق پاکستان کو اپنی قومی پیداوار کا چار سے چھ فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ لیکن ہم ڈھٹائی سے مجموعی قومی پیداوار کا صرف دو اعشاریہ آٹھ فیصد تعلیم جیسے اہم شعبے پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ معمولی رقم نہ صرف بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر مزید تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے ناکافی ہے بلکہ مجموعی طور پر تعلیم کے معیار پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

حکومتی بےتوجہی کے باعث نجی سرمایہ کاروں نے اس میدان میں قدم رکھا لیکن اس میں بہت سارے ایسے سرمایہ کار بھی شامل تھے جن کا تعلیم کے شعبے سے کوئی تعلق نہ تھا۔ انہوں نے اسے محض ایک کاروبار سمجھا اور اپنی توجہ بہتر تعلیمی سہولتیں مہیا کرنے کی بجائے صرف پیسہ بنانے پر مرکوز رکھی۔ اس سرمایہ کاری سے تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ تو ہوا مگر تعلیمی معیار کافی نیچے چلا گیا۔ اس خلا کو مذہبی مدرسوں نے بھی پر کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے معاشرے میں انتہا پسندی کے رحجان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تعلیمی شعبے میں مسلسل بےتوجہی کی وجہ سے پاکستان ابھی تک ایک تعلیم یافتہ ملک کے طور پر ابھر نہیں سکا۔ درحقیقت یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے میدان میں بھی اقوام عالم میں ہماری کوئی خاص حیثیت نہیں ہے۔ یہ مایوس کن صورت حال تقاضہ کرتی ہے کہ اس مسئلہ پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دی جائے اور اپنی آئندہ نسلوں کو ناخواندگی کے چنگل سے آزادی دلائی جائے۔ ہماری بقا اسی میں ہے۔ اس گھمبیر اور قومی اہمیت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات پر عمل کرنے سے شاید ہم اس تنزلی کا مقابلہ کر سکیں۔

ہمیں دو کروڑ 26 لاکھ بچے جو سکول نہیں جا پا رہے انہیں سکول کی سہولتیں مہیا کرنی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے والدین کو بھی ترغیب دینی ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیں۔ چونکہ یہ والدین مالی وجوہات، سکولوں کی دوری اور تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات کی وجہ سے بچوں کو سکول بھیجنے سے گریز کرتے ہیں تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایسی ترغیبی مہم چلانے کی ضرورت ہے جس سے والدین بچوں کو تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دیں۔

سکولوں کی کمی اور کئی مقامات پر فاصلہ بھی بچوں کے تعلیم حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریبا نو فیصد سکولوں کے لیے عمارت ہی نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ سو میں سے نو سکولوں میں بچوں کو کھلے میدان میں تعلیم دی جا رہی ہوتی ہے جو بچوں میں نہ صرف صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے بلکہ کئی تعلیمی دن خراب موسم کی وجہ سے ضائع بھی ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو سکول عمارتوں میں قائم ہیں ان میں سے اکثر مخدوش حالت میں ہیں اور ان کی مرمت اور حفاظت کے لیے مختص رقوم ناکافی ہیں۔ اسی طرح صرف 58 فیصد سکولوں میں بجلی کی سہولیات مہیا ہیں اور تقریبا صرف 68 فیصد کے پاس پینے کے پانی کی سہولت ہے۔

تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی تعلیمی بحران میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ 2013 میں اساتذہ کی تعداد 12 لاکھ ستر ہزار سے بڑھ کر 2016 میں 13 لاکھ پچاس ہزار تک پہنچ گئی لیکن ابھی بھی بلوچستان میں تقریبا 24 فیصد اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں اور پنجاب میں یہ اعدادوشمار تقریبا 17 فیصد ہیں۔

دیگر صوبوں میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اساتذہ کی کمی کے علاوہ ایک ہی استاد کا ایک ہی کلاس میں مختلف درجات کے طالب علموں کو پڑھانے سے طالب علموں کے پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس سے استاد کے لیے تمام طالب علموں کو ان کے درجے کا نصاب پڑھانے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ اس طرح کے اساتذہ کی تعداد شہری علاقوں میں 12 اور دہی علاقوں میں 22 فیصد ہے۔ اساتذہ کی غیر تسلی بخش علمی معلومات بھی تعلیمی معیار کو متاثر کر رہیں ہیں۔ سرکاری سکولوں میں 41 فیصد اساتذہ کے پاس بیچلرز کی ڈگری نہیں ہے اور صرف 26 فیصد کے پاس پی ٹی سی سرٹیفکیٹ ہے۔ تقریبا 16 فیصد کے پاس سی ٹی سرٹیفیکٹ ہے۔ اس طرح کی ناکافی تعلیمی قابلیت کے حامل اساتذہ سے پاکستان میں تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کی امید کرنا ایک سعی لاحاصل ہے۔

کم اہلیت والے اساتذہ کی وجہ سے طالب علموں کا معیار تعلیم بھی انتہائی پستی کی طرف جا رہا ہے۔ 2016 کی ایک تحقیق کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں میں صرف 46 فیصد اردو یا علاقائی زبانوں کا ایک جملہ پڑھ سکتے تھے اسی طرح 49 فیصد انگلش کے کچھ لفظ سمجھ یا پڑھ سکتے تھے۔ ریاضی میں صرف 45 فیصد تفریق کرنا جانتے تھے۔

ان تمام مسائل کی طرف فوری توجہ نہ دی گئی تو ہمارے ہاں تعلیم کے معیار میں مزید کمی آئے گی اور ہمارے بچے مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیتوں سے مکمل طور پر محروم ہوجائیں گے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ مناسب اقدامات کے ذریعے اس انحطاط کے سفر کو روکا جائے۔ یہ سفر رک سکتا ہے اگر اساتذہ کی بھرتی میں سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کیا جائے۔ اچھی تنخواہوں کے ساتھ بہتر اور قابل اساتذہ اس زوال کے سفر کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ تعلیم میں تنخواہوں کی مد کے علاوہ مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جس سے سکولوں کے بنیادی ڈھانچوں میں بہتری لائی جا سکے۔

سب سے زیادہ اہم بات شعبہ تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔ ہمیں فوری طور پر اقوام متحدہ کے سفارش کردہ اعداد یعنی قومی پیداوار کا کم سے کم چار فیصد حصہ تعلیم کے لیے مختص کر دینا چاہیے جسے بتدریج بڑھا کر چھ فیصد تک لے جانا چاہیے، چاہے اس کے لیے دفاعی و دیگر اخراجات میں کمی کرنی پڑے۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اچھی تعلیم کے بغیر کوئی قوم اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتی۔

باقی ممالک کی طرح ہمارے سکولوں کے انتظامات میں بھی والدین کا عمل دخل ہونا چاہیے تاکہ انہیں ان اداروں کی ملکیت کا احساس ہو اور وہ بھی ان اداروں کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)

loading...