چینی گنے کی سرکار

وزیر اعظم عمران خان اکثر ایسے وعدے کر لیتے ہیں جن کو پورا کرنے کی ان میں نہ تو ہمت ہے اور نہ صلاحیت۔ قیمتوں کو کم کرنے اور عوام دشمن مافیا کو پکڑنے کا وعدہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ پورا نہیں ہو سکتا۔

اس کو وفا کرتے ہوئے بات عمران خان کی حکومت کے اپنے گھر تک پہنچ جائے گی اور کوئی اپنے گھر کو کیوں جلائے؟ یہ واضح ہے کہ قیمتیں آئی ایم ایف کے معاہدے کے تحت چلنے والی قومی معیشت کی پریشان کن شکل ہیں۔ بین الاقوامی ادارے نیوکلیئر پاکستان کے سینے پر گھٹنا ٹیک کر بیٹھے ہیں۔ سانس لینا دوبھر کر دیا ہے۔ عوام کی جیبوں سے کھربوں روپے نکلوانے کے بعد آئی ایم ایف کے بابو اور پاکستان میں ان کے سہولت کار لوگوں کی فلاح پر ایک اضافی دھیلا لگانے کی اجازت نہیں دے رہے۔ قیمتوں میں اضافے کے اس ظلم کے پیچھے اندرونی محرکات بھی موجود ہیں۔ جن پر اس حکومت کا اتنا ہی کنٹرول ہے جتنا آئی ایم زدہ معیشت پر۔ چینی کی ہوشربا قیمتیں اندرونی مافیاز کے بےلاگ اثر و رسوخ کی ایک خوفناک داستان ہے۔

آپ کو شاید پتہ ہو کہ پاکستان میں گنے کی فیصل گزشتہ کئی سالوں سے کہیں بہتر ہوئی ہے۔ مقامی طور پر گنے اگانے والے کبھی کپاس پر انحصار کیا کرتے تھے۔ مگر اب گنے نے کپاس کو کھا لیا ہے۔ جو ایک تباہ کن بات ہے کیوں کہ کپاس تو ہمیں زرمبادلہ لا کر دیتی ہے اور گنا شوگر کے مرض اور ملوں کے مالکان کو کھرب پتی بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کرتا۔ عام طبقے کی توانائی کی ضرورت پورا کرنے کے محدود فائدے کے علاوہ یہ فصل اس ملک کا پانی اور عوام کی روح کھینچنے کے لیے لگائی جاتی ہے۔ مگر پھر بھی کاشت ہے کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔

اس کی ایک وجہ اس کاشت پر کھڑے مافیاز کے وہ کاروبار ہیں جنہوں نے پاکستان میں استحصال کا وہ بازار گرم کیا ہے کہ خدا کی پناہ۔ چینی مافیا ایک عام اصطلاح ہے مگر اس کی گہرائی میں جانا بہت ضروری ہے۔ ہر چینی کی فیکٹری والا اس مافیا کا حصہ نہیں ہے۔ اس مافیا کا دارالحکومت، اس کی ریاست اور عوام کی جیبوں سے نکالے گئے کھربوں روپے کے اجارہ داروں کی رہائش جنوبی پنجاب ہے۔

چینی کی ملوں کی جغرافیائی تقسیم دلچسپ ہے۔ سندھ اور پنجاب میں جو ملیں ایسے علاقوں میں لگائی جاتی ہیں جہاں پر موسم گرم اور پانی نہروں کے ذریعے مہیا ہوتا ہے۔ دوسری ملوں کی نسبت ان گنت فوائد کا حصول کر پاتی ہیں۔ گھوٹکی، رحیم یار خان اور گرد و نواح کے علاقوں میں لگی ہوئی ملیں گنے کے ہر ڈانڈے سے دوسرے علاقوں میں لگی ہوئی ملوں کی نسبت تین فیصد رس زیادہ حاصل کرسکتی ہیں۔ یعنی فیصل آباد میں اگر ایک مل ایک گنے سے آٹھ فیصد رس نکالتی ہے تو رحیم یار خان اور گھوٹکی میں یہ رس 11 فیصد یا اس سے زائد ہے۔ یہ تین فیصد رس اربوں کی رس ملائی ہے۔

مفت نہری پانی اور غیر معمولی کاشت کے ذریعے سے جنوبی پنجاب کے مل مالکان ایک ایسی جارہ داری میں تبدیل ہو گئے ہیں کہ جہاں چار، پانچ خاندان مل کر ملک میں اپنی پسند کی قیمتیں بنانے، عوام کی چیخیں نکلوانے، سیاست پر قبضہ کرنے اور ریاست کی پلاننگ کو شکست دینے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔

آپ ان چار خاندانوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ 25، 30 سال میں انہوں نے کھربوں روپے ایسے کمائے ہیں جیسے ان پر سونے کی بارش ہو رہی ہو۔ وہ ملیں جو ان سے کئی دہائیاں پہلے اس کام میں آئی تھیں یا تو بند ہو گئیں ہیں یا اپنی آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ ان کے کاروبار چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ ان کے مدمقابل میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک خاندان کے شوگر پلانٹس 1 لاکھ 37 ہزار ٹن یومیہ پیداواری صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسرے صاحب کی ملیں 88 ہزار ٹن کی یومیہ پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں۔ تیسرے کی ملیں 82 ہزار ٹن یومیہ پیداوار رکھتی ہیں۔ چوتھا 40 ہزار ٹن یومیہ پیداواری صلاحیت کی ملیں چلاتا ہے۔ تین کا تعلق ایک قبیلے سے ہے چوتھا ان کا قریبی یار ہے۔

اجتماعی طور پر ان چاروں کی طاقت اس موازنے سے واضح ہو جاتی ہے۔ شہباز شریف کی رمضان شوگر مل پورا زور لگا کر دس ہزار ٹن یومیہ صلاحیت سے آگے نہیں جاتی۔ ان کی دوسری، عریبیہ شوگر مل آٹھ ہزار ٹن یومیہ پر کام کرتی ہے۔ نواز شریف کی چوہدری شوگر مل فیصل آباد میں آٹھ ہزار ٹن صلاحیت پر کام کرتی تھی مگر اب دیوالیہ ہو کر تین سال سے بند پڑی ہے۔

جنوبی پنجاب اور پنجاب سندھ سرحد پر لگی ہوئی ملوں کے مالکان اس ملک میں وہ قوت اور طاقت رکھتے ہیں جس کے مقابلے میں کوئی ٹھر نہیں سکتا۔ یہ خاندان مل کر مارکیٹ میں چینی کی طلب اور رسد کو مکمل طور پر کنٹرول کرتے ہیں۔ پچھلی مرتبہ جب چینی کو ایکسپورٹ کرنے کا سکینڈل بنا تو یہ خاندان اس میں پیش پیش تھے۔ اگرچہ میٹرک کے طالب علم کو بھی یہ معلوم ہے کہ پاکستان چینی کی بین الاقوامی منڈی میں کسی طور مقابلہ نہیں کر سکتا۔ نہ تو معیار اچھا ہے اور نہ قیمت موافق۔

اس کے باوجود حکومت سے پیسے لے کر چینی ایکسپورٹ کی گئی اور مال بنایا گیا۔ اس سے کہیں اہم نکتہ یہ ہے کہ چینی کی ایکسپورٹ کو بہانہ بنا کر مارکیٹ میں چینی کی کمی کا ڈنڈھورا پیٹا گیا۔ چینی بنا کر اپنے گودام بھر لیے گئے اور پھر 48 اور 61 روپے میں پڑنے والا بیگ 85 اور 91 روپے پر بکنا شروع ہو گیا۔ آج بھی پاکستان میں چینی کا کوئی بحران نہیں۔ فصل بہترین، بنی ہوئی چینی کثرت میں لیکن قیمتیں آسمان تک پہنچا دی گئی ہیں۔ یہ خاندان ذاتی جہاز ایسے اڑاتے ہیں جیسے آسمان پر پتنگیں۔ ان کی رہائش گاہیں، ان کی آسائشیں، ان کی طاقت ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی ہے۔ جس نے تجارت کے نام پر اپنے اور تاج برطانیہ کے خزانے بھرے اور مغلیہ سلطنت کو دیوالیہ کرتے ہوئے بنگال جیسے زرخیز صوبے میں ایسا قحط برپا کیا کہ ایک کروڑ لوگ اپنی جان سے گئے۔

کمال امر یہ ہے کہ یہ خاندان سیاسی جوڑ توڑ میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بنا کر وقتی سیاسی ضرورتوں کو بےشرمی سے پورا کرتے ہوئے اپنی تجوریوں کو مسلسل بھرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک جنرل پرویز مشرف کے دور سے پہلے چھوٹی سی فیکٹری لگانے کے لیے پیسہ مہیا نہیں کر سکتا تھا مگر آج اپنے باقی تین یاروں کی طرح اس پوزیشن پر ہے کہ پاکستان کا ہر بینک ان کے پیچھے لائن لگا کر کھڑا ہے۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ یہ خاندان اسی شعبے کی وزارتیں بھی اپنے پاس رکھتے ہیں جس شعبے میں لوٹ مار رچا کر یہ کھرب پتی بنے ہیں۔ یہ اتنے طاقتور ہیں کہ ان میں سے ایک نے اب بیرون ملک میں چینی کا پلانٹ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے جس کے لیے پاکستان سے زرمبادلہ بھیجنے کی خصوصی اجازت بھی حاصل کر لی ہے۔ جنوبی پنجاب اور سندھ کے بارڈر علاقوں میں پیروں، جاگیرداروں، مقامی سیاسی دھڑوں حتی کہ کچے میں رہنے والے ڈاکوؤں تک سے معاملات طے کرنے کے بعد یہ خاندان ایک حقیقی مافیا کے طور پر کام کرتے ہیں۔

جنوبی پنجاب کے پسے ہوئے عوام کے حقوق کا جھوٹا علم اٹھائے ان لوگوں نے ایک ایسا استحصالی نظام مرتب کیا ہے جس کی مثال پاکستان میں رئیل اسٹیٹ اور سٹاک مارکیٹ جیسے شعبوں کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتی۔ ان کے کرتوتوں نے مہنگائی کی بہت ساری بلاؤں میں سے ایک بڑی بلا قوم پر چھوڑی ہے جو جہاں کے بچوں کو ہڈیوں سمیت چبا رہی ہے۔

مافیا کو پکڑنے اور ان کے اثرو رسوخ کا تدارک کرنے کے کام کا آغاز چینی کی قیمتوں، چینی کی ایکسپورٹ، چینی کی ذخیرہ اندوزی اور چینی سے اربوں روپے کمانے والے معاملات پر شواہد اکٹھے کر کے آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ پتہ چلانا کیا مشکل ہے کہ کون سی ملیں روزانہ لاکھوں ٹن گنا کرش کرنے والی مشینوں میں عوام کو پھنسا کر ان کا خون نکال رہی ہیں۔ کس کے اکاؤنٹ میں کتنے پیسے گئے ہیں؟ کس کے گودام بھرے ہوئے ہیں؟ کیوں نہ برگیڈئیر نعمان کو دوبارہ بلا کر ایک جے آئی ٹی بنائی جائے جو جہانگیر کو بھی دیکھے، خسرو سے بھی پوچھے، ہمایوں کو بھی بلائے، اپنے ہم نام نعمان سے پوچھ پرتیت بھی کرے، شریفوں کی ملیں بھی کھلوائے، گجرات کے چوہدریوں کی چینی کی صعنت میں انوسٹمنٹ کو بھی جانچے، زرداری سے بھی پوچھے، پتہ چل جائے گا کہ عوام کی کمر توڑ کر اپنی سلطنتوں کو قائم کرنے والے لوگ کون ہیں۔ کون بزنس مین ہے کون اجارہ دار؟ کون ہے مافیا اور کون ہے مافیا کا سردار؟

کون کرے گا یہ سب کچھ؟ کس میں ہے اتنی ہمت؟ عمران خان کا تو اپنی تنخواہ میں گزارا نہیں ہوتا، ان کو تو اپنا کچن آباد رکھنا ہے۔ وہ ان مافیاز کو کیسے پکڑیں گے؟ چھوڑیں کچھ اور کرتے ہیں۔ اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو تماشے میں تبدیل کرتے ہیں تاکہ اصل مافیا اور ان کے اے ٹی ایم چلتے رہیں۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)

loading...