مہنگائی سے لڑنے کی دعویدار حکومت ایک مولوی سے ہار گئی

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز بنی گالہ میں اپنے مالی مشیروں  کے اجلاس میں ضروری اشیائے صرف کی قیمتوں میں دو ہفتے کے اندر کمی کرنے  کی ہدایت کی ہے۔  آج اسلام آباد انتظامیہ نے لال مسجد کے سابق خطیب   اور  انتہاپسند مذہبی لیڈر مولانا عبدالعزیز  کے ساتھ ایک معاہدہ  میں جامعہ حفصہ  تعمیر کرنےکے لئے 20 کنال پلاٹ دینے کا وعدہ کیا  گیا ہے۔  سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو حکومت ایک سخت گیر مولوی کی دھمکیوں  کے سامنے ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو وہ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور دیگر سنگین  سماجی مسائل سے نمٹنے کی  ہمت کیسے دکھا پائے گی؟

اس وقت ملک کو ہمہ گیر معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن سنگین مسائل  کے باوجود حکومت کوئی ٹھوس حکمت عملی تیار کرنے  یا  واضح روڈ میپ  سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔  عمران خان کی حکومت نے اقتدار کا ڈیڑھ سال سابقہ حکمرانوں کو برا بھلا کہنے  یا ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے میں صرف کیا ہے۔  عمران خان کا خیال تھا کہ حکومتی معاملات اور معاشی پہیہ از خود گھومتا رہے گا اور وہ نعروں کے زور پر اقتدار سنبھالنے کے بعد  سیاسی مخالفین کو برا بھلا کہہ کر اپنی مقبولیت برقرار رکھ سکیں گے۔ تاہم حالات و  واقعات نے واضح کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر تحریک چلانا اور حکومت کے کام میں کیڑے نکالنا ایک بات ہے لیکن  معاملات کی اصلاح کرکے حالات کو  عوامی بہبود و فلاح کے مقصد سے تبدیل کرنا بالکل دوسرا  معاملہ ہے۔

یہ  کام صرف باتیں بنانے سے نہیں ہوسکتا۔ اس  میں  عوامی مقبولیت یا عالمی میڈیا میں شہرت کی صلاحیتیں بھی معاون نہیں ہوتیں بلکہ اس کے لئے حقیقی مسائل کو سمجھنے، ان کے مطابق حالات کا رخ تبدیل کرنے اور  آہستہ آہستہ معاشی بحالی کا کام شروع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ  جاں گسل کام   جذباتی اور قلیل المدتی سیاسی مقاصد  کے لئے  کام کرنے والی قیادت کے بس کا روگ نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے ٹھنڈے دل و دماغ سے  صورت حال کو سمجھنے اور  سنگین مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے وسیع تر قومی اشتراک عمل  کی ضرورت ہوتی ہے۔

عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے  مل جل کر کام کرنے کا ہر دروازہ بند کیا ہے۔ انہوں نے ملک کی اہم ترین اپوزیشن جماعتوں کو چور لٹیرے  قرار دے کر ان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کرنے سے انکار کیا ہے۔   اس رویہ کی وجہ سے ملک میں سیاسی تناؤ کی صورت حال پیدا ہوئی  جس میں  حکمران جماعت سمیت مختلف سیاسی پارٹیاں اور گروہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔ الزامات اور جوابی الزامات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ  جاری رہتا ہے۔  پاکستان  کو مہنگائی کے علاوہ  آبادی، معاشی انحطاط، سماجی انتشار،  پانی کی قلت، ہمسایہ ملک سے تصادم اور خارجی محاذ پر سنگین سفارتی چیلنجز کا سامنا  ہے۔ اس کے  باوجود ملک میں سیاسی جوڑ توڑ کی خبریں تواتر سے سامنے آتی ہیں اور ان پر تبصرے ،  قیاس آرائیاں اور پیش گوئیاں  میڈیا کی زیادہ توجہ  کا مرکز رہتی ہیں۔ حالانکہ میڈیا کی یہ صلاحیتیں عوام میں  سماجی شعور اور معاشی مسائل   کے خلاف    آگہی پیدا کرنے کے لئے استعمال  کی جاسکتی تھیں۔

تحریک انصاف کی حکومت نے اپوزیشن اور میڈیا کو یکساں طور سے اپنا دشمن سمجھا اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا ہے۔  حکومت کی تمام صلاحیتیں اپوزیشن لیڈروں کے خلاف اسکینڈل بنانے ، بیان کرنے اور انہیں درست ثابت کرنے پر  صرف کی گئی ہیں۔ اس کام میں میڈیا کی مزاحمت کو مسترد کرنے کے لئے  اس پر   نت نئی پابندیاں لگائی گئی ہیں اور واضح کردیا گیا کہ  ایسے میڈیا ہاؤسز کو کام نہیں کرنے دیا جائے گا جو حکومت کی لائن کے مطابق خبر یں اور تبصرے عام کرنے کا اہتمام نہیں کرتے۔ اس طرح   ملک میں  سیاسی اور سماجی انتشار کا  ماحول پیدا کردیا گیا ہے۔ اس  میں حکومت اپوزیشن کو بدنام  کرنے کے لئے ایڑی چوٹی  کا زور  لگاتی ہے اور اپوزیشن لیڈر حکومت کے ہر کام کو برا  کہہ کر   مسترد کرتے ہیں۔  اس دوران مفاہمت یا تعاون کا ماحول پیدا  ہونے کا اگر کوئی موقع سامنے آیا تو اسے بھی حکومت کے گھمنڈ اور وزیر اعظم کی خود پسندی کی وجہ سے ضائع کردیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے اراکین یا چئیرمین نامزد کرنے پر آئینی تعاون کا معاملہ ہو، قانون سازی کے لئے پارلیمانی مفاہمت   کی ضرورت ہو یا  کشمیر میں بھارتی اقدامات کے خلاف قومی یک جہتی   کا سوال ہو، حکومت نے یک طرفہ طور سے یہ  طے کیا ہؤا ہے کہ وہ تن تنہا یہ کام سرانجام دے گی اور اسے  اپوزیشن جماعتوں سے کسی تعاون  کی ضرورت نہیں  ہے۔  اسی طریقہ کا نتیجہ ہے  کہ   عدالت کے حکم پر مجبوراً پارلیمنٹ میں دوسرے درجے کی قیادت کے ذریعے الیکشن کمیشن کے چئیرمین اور اراکین کی نامزدگی کا معاملہ طے کیا گیا لیکن وزیر اعظم  نے اپوزیشن لیڈر سے ملاقات یا مواصلت سے صاف انکار کردیا۔ اسی طرح  آرمی چیف کی توسیع کے معاملہ پر قانون سازی کی ضرورت پیش آئی تو اپوزیشن جماعتیں خود اپنی سیاسی ضرورتوں اور مجبوریوں کی وجہ سے حکومتی بل کی حمایت میں اکٹھی ہوگئیں لیکن حکومت کا جواب وہی تھا جس کا اظہار چند روز  بعد وفاقی وزیر فیصل واڈوا نے ایک ٹی  وی انٹرویو میں فوجی بوٹ میز پر رکھتے ہوئے دیا تھا۔   یعنی اپوزیشن نے فوج کی خوشنودی میں اس بل کی حمایت کی تھی ، حکومت کو اس کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔

اس سیاسی تناؤ کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے کبھی پنجاب  کے وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے  پر خبریں اور مباحث زور پکڑتے ہیں اور کبھی ان کا رخ  عمران خان کے اقتدار اور تحریک انصاف کی حکومت کے مستقبل کی طرف ہوجاتا ہے۔ اس دوران تسلسل سے یہ مباحث ہوتے  رہے ہیں کہ سیاست میں فوج یا عسکری اداروں کا کتنا عمل دخل ہے اور کون سا کام کس کے اشارے پر انجام پایا  ہے یامستقبل میں  ہونے والا ہے۔ اس حوالے  سے   نواز شریف کی ضمانت اور علاج کے لئے بیرون ملک روانگی کا  معاملہ سر فہرست رہا ہے اور اب مریم نواز کو بیرون  ملک سفر کی اجازت دینے کا قصہ  خبروں کی زینت بنا رہتا ہے۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ ان مباحث کا ملکی  معیشت، عوامی مسائل اور دیگر معاملات سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ واضح ہورہا ہے کہ اس قسم کی  چہ میگوئیوں سے  حکومت پر رہا سہا اعتبار بھی کمزور پڑنے لگا ہے۔ یہی اس وقت ملک کے معاشی مسائل کی بنیاد بھی ہے۔ تاہم حکومت ہو یا کوئی دوسرے مقتدر حلقے، وہ اس  بنیادی اصول کو سمجھنے  کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اسی لئے  اس  ان    اود بلاؤ  قسم کے مباحث اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

معاشی بحالی کے لئے جس سکون ، تدبر اور سیاسی تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے، وہ پاکستان میں موجود نہیں  ہے۔  آئی ایم ایف کے اقدامات  سے  مہنگائی میں اضافہ  ہؤا ہے ۔   بجلی ، گیس اور  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ترقیاتی اخراجات میں قابل ذکر کمی کی وجہ سے روزگار کے مواقع پیدا ہونا بند ہوگئے ہیں بلکہ  صنعتوں اور کاروبار پر دباؤ بڑھنے سے   بیروزگار افراد کی تعداد میں اضافہ ہؤا ہے۔ عمران خان اس صورت حال کا مطالعہ کرنے اور اس کی حقیقت سے نہ خود آگاہ ہونا چاہتے ہیں اور نہ ہی عوام کو بتانے کا حوصلہ کرسکتے ہیں ۔ البتہ اپنی مقبولت پر پڑنے والی ضرب کے خوف سے یہ ٹوئٹ ضرور  جاری کرسکتے ہیں کہ ’انہیں عوامی مسائل کا اندازہ ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ملازمت پیشہ اور دیگر طبقات کو کیسی دشواریوں کا سامنا ہے۔ وہ انہیں فوری طور پر حل کرنے کے اقدامات کریں گے‘ ۔

یاپھربنی گالہ  میں اجلاس کے بعد  یہ اس حکم یا خواہش کی تشہیر کروائی جاتی ہے کہ وزیر اعظم نے دو ہفتوں میں بنیادی ضرورت کی چیزوں مثلاً گندم ، آٹا، چاول، چینی اور دالوں وغیرہ کی قیمتیں کم کرنے کا حکم دیا ہے۔  اس اجلاس کے حوالے سے میڈیا کو عمران خان کے یہ الفاظ بھی پہنچائے گئے ہیں  کہ ’جو حکومت عوام کو بنیادی ضروریات فراہم نہیں کرسکتی ، اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے‘۔  حققیت مگر یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی، پیداواری صلاحیت اور دستیاب وسائل کی موجودہ صورت حال کی روشنی میں دیکھا جائے تو کوئی بھی حکومت آئیندہ ایک صدی میں بھی  ملک کو فلاحی ریاست بنانے کا خواب پورا نہیں کرسکتی۔ البتہ حقیقت پسندی اور عقلمندی سے  ہیجان اور  اضطراب ختم کرکے فوری بے چینی  کے خاتمہ کی کوشش ضرور کی جاسکتی  ہے۔

عمران خان کی باتوں سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں  ہے کہ انہیں   اپنے دعوؤں اور حقیقت احوال  کی سنگینی کے تضاد کا اندازہ ہی نہیں  ہے۔ ان کا واحد مقصد پبلک ریلیشننگ کی حد تک بیان جاری کرنا اور چند روز کے لئے میڈیا میں یہ گفتگو عام کروانا ہے کہ وزیر اعظم عوام کی تکلیف پر بے چین ہوگئے اور اب ساری حکومت کو عوام کو سہولت بہم پہنچانے کے مشن پر لگادیا ہے۔   ملک میں مہنگائی اور  اجناس  کے قحط کی صورت بھی اس حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اب امید کی جارہی ہے کہ گندم کی نئی فصل آنے پر مارکیٹ میں پیدا ہونے والی سرگرمی اور معاشی سہولت  کا سہرا وزیر اعظم کی عوام دوستی کے  سر باندھ  دیا جائے تاکہ سیاسی مقبولیت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ  ہوسکے۔

حکومت کی صلاحیت اور کارکردگی کا اصل نمونہ دیکھنا ہو تو دہشت گرد احسان اللہ احسان کے فرار کی کہانی کے بعد  آج اسلام آباد کی لال مسجد کے  مولانا عبدالعزیز کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر نگاہ ڈال لی جائے تو حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ جو حکومت ایک مولوی کی دھمکی اور بلیک میلنگ  سے خوفزدہ  ہوکر  اسے 20 کنال  کا پلاٹ دینے اور لال مسجد میں اس کے داخلے پر پابندی ختم کرنے پر راضی ہورہی ہو، وہ مہنگائی جیسے عفریت سے نمٹنے کے لئے  ہمت و حوصلہ  کہاں سے لائے گی۔  

قول  و فعل کے اس تضاد کے علاوہ   مولانا عبدالعزیز سے ’مفاہمت‘  کے معاہدہ سے یہ بھی واضح ہؤا ہے کہ حکومت  ملک میں مذہبی انتہاپسندی اور لاقانونیت  کے خلاف جنگ ہار رہی ہے۔  اس محاذ پر پسپا ہونے کا اشارہ دینے والی حکومت معاشی معاملات میں ثابت قدم نہیں  رہ سکتی۔

loading...