جنسی درندگی کا عہد

انسان بنیادی طور پر جنسی وجود کا حامل ہے کیونکہ وہ جنسی عمل کی پیداوار ہے ۔ جنسی قوت اُس کی وہ بنیادی قوت ہے جو جسمانی توانائی کا جوہرِ کامل ہے ۔ آئین سٹائین پر ایک دستاویزی  فلم کے سکرپٹ میں ، جو مجھے بہرِ مطالعہ دستیاب ہوا تھا ،  بیان کیا گیا تھا کہ انسانی وجود دو ہزار میگاواٹ ٹن انرجی کا مرقع ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص اپنی جسمانی خلیوں کی شعوری طور پر تنظیمِ و ترتیبِ نو کر لے وہ اتنی ہی مقدار میں توانائی پیدا کر کے اپنے جسم سے باہر استعمال کر سکتا ہے ۔ لیکن یہ ایک مشکل  علمی مسئلہ ہے جسے عمومی انسانی عقل کے حامل لوگ شاید آسانی سے نہ سمجھ سکیں ، مگر واقعہ یہ ہے کہ ہماری یہ جنسی توانائی کئی کئی طرح سے اظہار پاتی ہے اور اس کا سب سے آسان اور سہل مخفی طریقہ جلق یا خود لذتی ہے جو مذہبی معاشروں میں احساسِ جرم کا سب سے بڑا عامل بن جاتی ہے ۔

خود لذتی اپنی ذات تک محدود رہتی ہے مگر انسانی جبلت ہمیشہ اس کے لیے دوسرے راستے بھی تلاش کرتی رہی ہے ۔ اس کا ایک اور مخفی طریقہ جانوروں سے جنسی ربط رہا ہے اور ہمارے معاشرے کے ادب میں  انسان کا گدھی سے جنسی تعلق بھی حیطہ  تحریرو تقریر میں رہا ہے ۔ ابھی حال ہی میں عالمی ادارہ  صحت کی طرف سے کرونا وائرس کی حفاظتی تدابیر پر مبنی جو ہدایت نامہ جاری ہوا ہے اس میں یہ انتباہ بھی شامل تھا کہ پالتو جانوروں سے جنسی روابط میں احتیاط لازمی ہے ۔ قدیم بھارت کے کھجوراہو مندر کے اطراف میں جو مورتیاں بنی ہوئی ہیں اُن میں ایک یہ بھی ہے کہ ایک شخص بکری سے جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ جانوروں کے بعد انسان کا اپنے ہم جسموں سے جنسی تعلق کا باب کھلتا ہے اور اس کی تفصیل قرآنِ کریم میں پیغمبر لوط  کے قصّے میں بیان کی گئی ہے کہ وہ لوگ جنسِ مخالف کے بجائے ہم جنسی کی راہ پر چل نکلے تھے  ۔ پھر تاریخ میں یہ بھی رقم ہے کہ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کا درباری شاعر ابو نواس جو عیسائی تھا ، ہم جنسی میں مبتلا تھا ۔ ان ساری روایات کی بنیاد پر استوار معاشرے میں ہم جنسی ہمیشہ رائج رہی ہے ۔ وارث شاہ نے داستانِ ہیر میں اس کا ذکر بہت خوبصورتی سے کیا ہے ۔ فرماتے ہیں :

وارث شاہ وچ حُجریاں فعل کردے

مُلّاں جوترے لاؤندے واہیاں نوں

 اب یہ چالیس  سے پچاس برس پرانی بات ہے مگر  ہمارے جوانی کے لاہور میں مال روڈ پر ریگل چوک سے الفلاح تک اور لوہاری سے بھاٹی گیٹ تک  کا علاقہ راتوں کو ہم جنسوں کی کھلی مارکیٹ ہواکرتا تھا جس میں سیاست کے کچھ بزرگ ، مذہب کے کچھ  اکابرین اور صحافت کے کچھ سلاطین بھی گاہک بن کر پھرا کرتے تھے ۔ وہ زمانہ اور اُس کے واقعات اپنے اندر ایک رومانوی کیفیات لیے ہوتے تھے کیونکہ امرد پرستی کی روایت ہماری شاعری میں ہمیشہ سے رہی ہے اور جیسا کہ میر صاحب نے فرمایا :

لڑکا عطار کا ہے کیا معجون

ہم کو ترکیب اُس کی بھائی ہے

اور پھر میر تقی میر کا یہ شعر تو ہمیشہ زباں زدِ خواص و عوام رہا ہے اور  سب کو یاد ہے کہ :

میر کیا سادہ ہیں ، بیمار ہوئے جس کے سبب

اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

اس روایت نے اب ایک نئی تاریخ رقم کرنی شروع کردی ہے اور وہ ہے جنسی درندگی کے واقعات کی تاریخ جس میں فاعل اپنے مفعول کو قتل کر دیتا ہے ۔ اس میں جنس کی بھی قید نہیں ۔ کم سن بچی ہو یا بچہ وہ ان وحشی درندوں کی ہوس کا ہر روز شکار ہوتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس عہد میں بہت سے انسانی جسموں میں وحشی جانوروں کی ارواح مقیم ہیں ۔ اور اِن واقعات کا سب سے بھیانک پہلو  یہ ہے کہ دینی مدارس اور مساجد اللہ بھی انہی بد روحوں کی آماجگاہیں بن کر رہ گئی ہیں  مگر اس کا تذکرہ کرنا بھی قابلِ فتویٰ قرار پا سکتا ہے کیونکہ اس عہد میں اگر کسی بد عمل مسلمان کی بد عملی پر انگلی اُٹھائی جائے تو اس کو اسلام پر حملہ قرار دیا جاتا ہے ۔ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ  علمائے کرام نے اس ضمن میں کبھی سنجیدگی سے اصلاحی تحریک چلانے کا عزم نہیں کیا ۔

گزشتہ دنوں مانسہرہ کے قاری شمس کی بد فعلی کی کہانی جب منظرِ عام پر آئی تو اُس کو پہلے تو چھپانے کی کوشش کی گئی اور اُس کے بعد مذہبی ادارے نے اس پر انتہائی سرد مہری کا رویہ اختیار کیا اور علمانے کبھی کھل کر ان واقعات کی مذمت نہیں کی حالانکہ مذہبی اداروں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مسلمان قوم کی اخلاقی تربیت کریں لیکن وہ سیاست کی بیلٹ باندھ کر اقتدار کی کرسی کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں ۔ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہمارے مذہبی ادارے  پاکستان میں اسلام کو ایک فعال معاشرتی  قوت نہیں بنا سکے یعنی  پاکستانیوں کی روحانی اور اخلاقی تربیت کر کے اُنہیں ایک معزز اور مہذب قوم نہیں بنا سکے ، اور نہ ہی خود بن سکے ہیں  البتہ  من حیث الادارہ  وہ ایک  طاقتور دنیا دار معاشرتی طبقہ بن کر معاشرے میں ایک الگ شناخت بنا چکے ہیں جو سیاست میں اُنہیں سودے بازی کی قدرت سے مالا مال کر گئی ہے مگر وہ پاکستان جس کا مطلب لا الہ اللہ بیان کیا جاتا ہے ، اُن سے شاکی ہے اور پوچھ رہا ہے کہ وہ ملک سے جنسی درندگی کو ختم کرنے کے لیے کب نکلیں گے ۔

 تبلیغی حضرات جو گلی گلی کوچہ کوچہ اور گھر گھر نماز کا پیغام لے کر جاتے ہیں ، وہ لوگوں کو یہ کب بتائیں گے کہ نماز تو برائی اور بے حیائی سے پاک کرتی ہے ، مگر پے در پے  رونما ہونے والے  جنسی درندگی کے واقعات  گواہ ہیں کہ یہاں نماز اپنے حقیقی مفہوم میں قائم نہیں ہو رہی ، اور اگر ہوتی تو مسجدوں ، مکتبوں اور گلی کوچوں میں جنسی درندے نہیں ، درویش صفت فرشتے ہوتے جو پاکستان کو اس زمین پر سچ مچ کی جنت بنا دیتے ۔

 اے کاش ۔ ۔ ۔

loading...