مفرور دہشت گرد اور حصار بند ملا کے سامنے مجبور ریاست

تحریک طالبان پاکستان  اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان  کے فرار  کے بعد اسلام آباد کی لال مسجد میں مولانا عبدالعزیز کی مورچہ بندی نے  ملک میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے علاوہ قومی ایکشن پلان کے تحت انتہاپسندی کے خاتمہ  کے لئے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں شدید شبہات پیدا  کئے ہیں۔

لال مسجد  کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز مبینہ طور پر گزشتہ دو ہفتوں سے لال مسجد پر قابض ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت کو اس مسجد میں نیا امام و خطیب مقرر کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں  ہے۔ اس کے علاوہ وہ یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں  کہ انہیں   جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لئے  زمین اور وسائل فراہم کئے جائیں۔  مولانا عبدالعزیز 2007 میں لال مسجد آپریشن کے دوران برقع پہن کر فرار ہوتے ہوئے گرفتار ہوئے تھے۔ بعد میں  حکومت انہیں کسی عدالت سے سزا دلوانے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور نہ ہی لال مسجد کا انتظام  متوازن  سوچ رکھنے والوں کو  دینے  کے لئے مناسب اقدامات کئے گئے تھے۔   پولیس حراست سے رہا ہونے کے بعد انہوں نے 2014  سے لال مسجد میں  خطبہ دینا شروع کردیا۔ ان کے انتہا پسندانہ  نظریات اور  پر تشدد پس منظر کے باوجود حکومت اس  مولوی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اب وہ ایک بار پھر لال مسجد کو اپنا قلعہ  بنا کر حکومت  سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کے مطالبات مانے جائیں ۔  اسلام آباد انتظامیہ نے لال مسجد کے اطراف میں سیکورٹی بڑھا دی ہے لیکن مولانا عبدالعزیز کے غیر قانونی  مطالبات یا مسجد کو اپنی انتہا پسندانہ سیاست کا گڑھ بنانے کا غیر قانونی اقدام کرنے کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا  گیا۔

اس دوران  اب نامعلوم سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ   تحریک طالبان پاکستان کا سابق ترجمان اور گزشتہ تین برس سے  فوج کی تحویل میں رہنے والا دہشت گرد احسان اللہ احسان  فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ یہ  ’انکشاف‘   احسان اللہ احسان  کا  ویڈیو پیغام عام ہونے اور  اس کے  دعوؤں کے ایک روز بعد کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں تحریک طالبان کے سابق ترجمان نے پاکستانی ایجنسیوں پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے کہا  تھا کہ اسے تین سال تک قید رکھا گیا۔ اور سرنڈر کے معاہدہ کی شرائط پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔  اس لئے تنگ آکر اس نے فرار ہونے کا منصوبہ بنایا اور 11 جنوری کو فوج کی تحویل سے  فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

  احسان اللہ احسان کی یہ ویڈیو عام ہونے اور سول  سوسائیٹی  اور سیاست دانوں کی طرف سے  شدید تشویش کے اظہار کے چوبیس گھنٹے بعد اب نامعلوم سرکاری حلقے احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کررہے ہیں کہ  نہ صرف اسے بلکہ ہر دہشت گرد کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔  اس ذرائع کے مطابق احسان اللہ احسان کو  دہشت گردی کے خلاف ایک آپریشن کے دوران فرار ہونے کا موقع مل گیا تھا۔  اسی خبر میں بتایا گیا ہے کہ  فروری 2017 میں احسان کی گرفتاری کے بعد اس سے قابل قدر معلومات حاصل کی گئی تھیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر  جماعت الاحرار کے متعدد ٹھکانے اور نیٹ ورک تباہ کئے گئے۔ سیکورٹی فورسز اب بھی اس حوالے سے متعدد آپریشن کررہی ہیں۔ 

اس کے ساتھ ہی احسان اللہ احسان کے فرار ہونے پر کسی قسم کے افسوس کا اظہار   یا ذمہ داروں  کی نشاندہی کرنے کی بجائے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ وہ ایک آپریشن کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔  یہ معلومات  ناقص  اور نامکمل   ہیں۔   سب سے پہلے تو یہ بات ناقابل فہم ہے کہ اس قدر ہائی پروفائل دہشت گرد کے فرار ہونے کے بعد خبر  کو کئی ہفتے تک پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی گئی اور جب  مفرور ہونے والے شخص نے   فرار ہونے  کی کہانی  کو  اپنی کامیابی کے طور پر نشر کردیا اور یہ اصرار کیا کہ وہ عسکری اداروں   اور ان کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کے بارے میں  تفصیلی معلومات عام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو  ’نامعلوم ذرائع‘ کے ذریعے   میڈیا  کے سامنے اس    کوتاہی کو  قبول کرلیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان یا کسی دوسرے  اعلیٰ سطحی سرکاری یا عسکری نمائیندے نے سامنے آکر میڈیا سے بات کرنے اور احسان اللہ احسان کے فرار سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس سے اس قیاس کو تقویت ملے گی  کہ ساری معلومات اور پورے حقائق سے  جان بوجھ کر عوام کو  آگاہ کرنے سے گریز کیا جارہا ہے ۔

اس بیان میں  یہ دعویٰ بھی کیا گیا  ہے کہ احسان اللہ احسان کی نشاندہی پر    دہشت گرد  وں کے خلاف ہونے والی ایک کارروائی کے دوران اسے فرار ہونے کا موقع ملا۔ اس سے یہ فطری سوال سامنے آتا ہے کہ کیا سیکورٹی فورسز ایک زیر حراست دہشت گرد سے حاصل ہونے والی معلومات  کے بعد کارروائی  کرتے ہوئے اسے  ساتھ   لے کر جاتی ہیں؟  اگر ایسا کرنا معمول  کا حصہ ہے تو اس بارے میں  تفصیلات بتانے اور میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے سے کیوں گریز کیا گیا ہے؟ بادی النظر میں یہ وضاحت قابل قبول نہیں  ہے اور  یہ شبہ موجود رہے گا کہ  ایک  دہشت گرد   درپردہ  ملی بھگت یا سنگین نااہلی کی وجہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہؤا ہے۔  پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر اور سینئر لیڈر فرحت اللہ بابر اور پشتون تحفظ موومنٹ کے  رہنما محسن داوڑ نے اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملہ کی  مکمل تحقیقات  کا مطالبہ کیا ہے۔

اس دوران شہدائے اے پی سی فورم کے صدر فضل خان   نے  پشاور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور  آئی ایس آئی کے سربراہ  لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے علاوہ متعدد افسروں اور صوبائی و وفاقی سیکرٹریوں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف احسان اللہ احسان کے مفرور ہونے  پر  توہین عدالت کے الزام میں کارروائی کی جائے کیوں کہ پشاور ہائی کورٹ نے 2018 میں احسان اللہ احسان کو رہا کرنے  سے منع کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ متعلقہ عدالتوں میں اس  کے معاملات کا فیصلہ ہونے تک اسے سرکاری تحویل  میں رکھاجائے۔ اب شہدائے اے پی سی فورم کے صدر نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ احسان اللہ احسان کو  رہنے کے لئے عالیشان گھر دیا گیا تھا جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہؤا ہے۔

احسان اللہ احسان کے فرار پر مباحث ابھی جاری  تھے  کہ اسلام آباد میں لال مسجد پر مولانا عبدالعزیز کے ’قبضے‘ اور متعدد مطالبات پیش کرنے کی خبریں میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔  اسی انتہا پسند مذہبی رہنما کی ضد اور تصادم کی پالیسی کی وجہ سے 2007 میں فوج کو لال مسجد کے خلاف کارروائی کرنا پڑی تھی جس میں ایک سو  کے لگ بھگ طالب علم ہلاک ہوگئے تھے۔  اسی کارروائی میں  جامعہ حفصہ نامی مدرسہ منہدم کیا گیا تھا جس کے بارے میں حکومت کا کہنا تھا کہ وہ ناجائز طور سے قبضہ کی گئی سرکاری زمین پر بنایا گیا تھا۔ لیکن اب یہ بات کھل کر سامنے آرہی ہے کہ  حکومت ایک دہائی کے دوران مولانا عبدالعزیز اور اس کے نیٹ ورک کو توڑنے اور اس کے انتہا پسندانہ نظریات کے  پرچار کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

اس کی واحد وجہ یہ رہی ہے کہ حکومت  کی  مختلف سطحوں   پر اس انتہاپسند مذہبی گروہ کے ساتھ تصادم  نہ کرنے کی حکمت عملی کو مناسب طریقہ سمجھا  گیاتھا ۔ یہ تصور کرلیا گیا  تھاکہ  اب اس گروہ  کی کمر توڑ دی گئی ہے، اس لئے دوبارہ اسے سر اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا۔  مولانا عبدالعزیز کے لال مسجد پر قبضہ و دعویٰ  سے یہ قیاس غلط ثابت ہوچکا ہے۔ اس سے یہ شبہ بھی سر اٹھانے لگا ہے کہ  درپردہ کچھ ایسے معاملات موجود رہتے ہیں جن کی وجہ سے ریاست کمزور پڑنے لگتی ہے اور ناپسندیدہ عناصر کو  طاقت ور ہونے کا موقع ملتا ہے۔

حکومت پاکستان کے علاوہ فوجی قیادت گزشتہ دو تین برس سے بڑے تواتر سے یہ اصرار کررہی ہے کہ  ملک میں دہشت گردی کا قلع قمع  کردیا گیا ہے اور اب صرف انتہاپسندی کے خلاف کام کرنا باقی ہے جسے مکمل کیا جارہا ہے۔ تاہم  احسان اللہ احسان کے فرار اور لال مسجد پر عبدالعزیز کے قبضہ سے یہ دعویٰ کھوکھلا اور قبل از وقت ثابت ہو گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں  کمی واقع ہوئی ہے  لیکن  ملک میں مذہبی انتہا پسندی اور ان  ٹھکانوں کو ختم کرنے کا کام نہیں کیا جاسکا جہاں عسکریت پسند پروان چڑھتے ہیں اور سماج کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔  مذہبی منافرت  کی بنیاد پر پروان چڑھنے والی انتہا پسندانہ سوچ کو ختم کرنے کا کام ابھی شاید ابتدائی مراحل میں ہے۔

دہشت گردی کا خاتمہ  اسی وقت ممکن ہے جب معاشرہ سے   ان ہتھکنڈوں کی ترویج کرنے والے عناصر  کی بیخ کنی  کی جاسکے۔  دہشت گردی کے خلاف جنگ  عوام کی زندگی  و  خوشحالی کے علاہ اس ملک کے بقا کی جنگ بھی ہے۔ اس جد و جہد میں  مشکلات پیش آسکتی ہیں لیکن عوام کو اعتماد میں لئے بغیر اور دہشت گرد و انتہاپسند عناصر سے مکمل طور سے لاتعلقی اختیار کئے بغیر مکمل کامیابی کا امکان نہیں ہے۔  احسان اللہ احسان کے فرار اور مولانا عبدالعزیز کے دعوؤں  و  مطالبات  کی  صورت  میں حکومت اور ریاستی اداروں کو اسی سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔

loading...