احسان اللہ احسان کا فوجی تحویل سے فرار کا دعویٰ، عوامی حلقوں میں تشویش

  • جمعہ 07 / فروری / 2020
  • 1020

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے سیکیورٹی اداروں کی تحویل سے  فرار کے بعد سیاسی، سماجی اور جمہوری حلقے شدید تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں  انہوں نے پاکستان فوج کی حراست سے فرار ہونے کا دعوی کیا ہے۔ پشاور سے وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق سیاسی وسماجی حلقوں بالخصوص پشاور کے آرمی پبلک سکول کے متاثرین نے قاری احسان اللہ احسان کے سیکیورٹی اداروں کی تحویل سے فرار ہونے پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں حملے سے 133 بچوں سمیت 148 افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری  کالعدم تحریک طالبان  نے قبول کی تھی۔ احسان اللہ احسان  اس وقت طالبان تحریک کا ترجمان تھا۔ آرمی پبلک اسکول کے لواحقین کے وکیل فضل خان ایڈوکیٹ نے احسان اللہ احسان اور ریاستی اداروں کے درمیان طے پانے والے مبینہ معاہدے کے خلاف عدالت سے رُجوع کیا تھا۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ احسان اللہ احسان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلا کر سزا دی جائے۔

پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ احسان اللہ احسان کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرے۔ فضل خان ایڈوکیٹ نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت میں قاری احسان کے مبینہ فرار کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اُنہیں معاہدے کے تحت فرار ہونے کا موقع دیا گیا۔ جو ان کے بقول نہ صرف عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے بلکہ یوں دکھائی دیتا ہے کہ احسان اللہ احسان کے فرار کے بعد اس خطے میں تشدد اور دہشت گردی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے احسان اللہ احسان کے مبینہ آڈیو پیغام کے بعد قیاس آرائیاں مزید زور پکڑ رہی ہیں۔ احسان اللہ احسان نے آڈیو پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کی حراست سے 11 جنوری کو فرار ہو گئے تھے۔ ایسا کیسے ممکن ہوا اس حوالے سے احسان اللہ احسان نے کچھ نہیں بتایا۔ دو منٹ اور دو سیکنڈ کی اس آڈیو کا آغاز تلاوت سے ہوتا ہے اور وہ اپنا نام بتا کر کہتے ہیں کہ ان کا تعلق تحریک طالبان اور جماعت الاحرار سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ "میں نے پانچ فروری 2017 کو ایک معاہدے کے تحت خود کو پاکستان کے خفیہ اداروں کے حوالے کیا تھا۔ لیکن پاکستان کے مکار خفیہ اداروں نے معاہدے سے رُو گردانی کرتے ہوئے مجھے میرے بچوں سمیت قید کر دیا تھا۔ میں نے تین سال تک معاہدے کی پاسداری کی اور قید کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 11 جنوری 2020 کو میں فوج کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔"

ویڈیو نیں کہا گیا ہے کہ "میں جلد ان تمام تفصیلات سے عوام کو آگاہ کروں گا۔ ساتھ ہی اپنے مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بھی آگاہ کروں گا۔" احسان اللہ احسان یہ تفصیلات کب فراہم کریں گے اس حوالے سے انہوں نے وقت کا کوئی تعین نہیں کیا اور جلد آگاہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

احسان اللہ احسان پاکستان کے خیبر پختونخوا کے علاقے مہمند ایجنسی کے رہنے والے ہیں۔ اپریل 2017 میں پاکستان فوج کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اعلان کیا تھا کہ احسان اللہ احسان نے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیا ہے۔ ان کا ایک ویڈیو بیان ٹی وی چینلز کو جاری کیا گیا تھا، جس کے مطابق، ان کا اصلی نام لیاقت علی ہے۔

احسان اللہ احسان اگرچہ تین سال تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں رہے۔ لیکن ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی یا مقدمہ قائم کرنے سے متعلق کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی تھی۔ احسان اللہ احسان قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے علاوہ  پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے میں بھی نامزد ملزم تھے کیونکہ اُنہوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

loading...