ڈھاکہ میں اردو ادبی سر گرمیاں

ڈھاکہ یونیورسٹی میں 27 اور 28 جنوری کو ایک عالمی اردو کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر کے اردو ادب کے اسکالرز جمع ہوئے۔

شعبہ اردو ڈھاکہ یو نیورسٹی  98 سال سے قائم ہے۔ شرکا نے اردو کانفرنس کے سلسلہ میں اس شعبہ کی کوششوں کو سراہا۔ اردو کی بنگلہ دیش سے الفت اور اس دیش سے اردو زبان کی گہرے رابطوں پر اظہار خیال کیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی یہ تیسری عالمی اردو کانفرنس تھی۔  اس کی تیاری اور اس کی بہ احسن و خوبی انتظام و اختتام سے ڈھاکہ کے اردو کے طلبا اور طالبات اور پروفیسر صاحبان نے اپنی اردو سے محبت کا حق ادا کردیا۔ 

کانفرنس میں انتہائی اہم موضوعات پر گہرے دلائل کے ساتھ  پر مغزمقالات اردو ادب کے چیدہ چیدہ مصنفین و محقیقن نے پیش کیے۔ یہ مقالے  اکسویں صدی کے اردو ادب کے لیے ایک نشاط ثانیہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دو روزہ  تقریب کے دوران ایک مشاعرہ بھی رکھا گیا۔ جس میں ڈھاکہ، راجشاہی، سید پور اور بنگلہ دیش کے دیگر علاقوں کے علاوہ دنیا کے دس ممالک میں مقیم اردو زبان کے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔
بنگلہ دیش میں اردو ادب پر بہت کام ہورہا ہے۔ یہاں نثر اور نظم دونوں اسلوب میں بہت اہم ادبی شہ پارے جنم لے رہے ہیں۔ اردو زبان صرف محبت، علم و دانش اور حکمت کی زبان ہے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی،  کی مانند جہاں موقع ملے پھلنے پھولنے لگتی ہے۔  ڈھاکہ کو تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں ہمیشہ سے ہی اردو پروا ن چڑھی ہے۔ اسے اردو کے عظیم شاعر غالب کو بھی مہمان نوازی کا شرف حاصل رہا ہے۔  ڈھاکہ اردو فلم سازی کا اولین مرکز رہ چکا ہے۔

اردو اور ڈھاکے کا یہ اٹوٹ رشتہ  ایک صدی پرانا ہے جو اب اکسویں صدی میں داخل ہو چکا ہے۔ ڈھاکے سے اردو کا ایک ادبی رسالہ، شاہکار بھی شائع ہوتا ہے۔ شعبہ اردو کے پروفیسر صاحبان  اردو زبان پر عبور رکھتے ہیں۔ انہوں نے اردو کی گراں قدر خدمت اور ترویج کرکے یہ ثابت کر دیا ہےکہ اردو زبان تمام سیماؤں کے پار ایک عالمی زبان ہے جو صرف محبت، خلوص اور پیار کے نہ تھمنے والے چشمے کی مانند ہے۔

ان پروفیسرز  میں  ظفر احمد بھوئیاں، راشد احمد، محمودالحسن، غلام ربانی، حسین البنا، ام کلثوم ابو بشر، حفصہ اختر، کانفرنس کے انعقاد میں پیش پیش تھے۔ ان کے والہانہ جذبے اور کوششیں اردو زبان کے بنگلہ دیش میں روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ بنگلہ دیش سے اردو زبان کے جن لکھاریوں نے اپنے مقالات پیش کیے ان میں مشہور افسانہ نگار ارمان شمسی، حسین البنا، سعدیہ ارمان، لطیف احمد، شامیول اسلام ، رشید الاسلام اور دیگر اساتذہ اور اردو ادب کے طالب علم  شامل تھے۔ اردو کانفرنس کے پہلے اجلاس کے اختتام پر عالمی مشاعرہ میں جن بنگلہ دیشی شعراء کرام نے اپنے کلام پیش کیے ان میں شمیم زمانوی، صابر علی صابر، جلال عظیم آبادی، ہیکل ہاشمی، فرزند نوشاد نوری، سید افضل حسین ہمدم شامل تھے۔

مشاعرے میں ادب کے اعلی اور مثالی نمونے سننے کو ملے۔ کانفرنس میں لندن برطانیہ سے فہیم اختر، ناروے سے شائستہ حسن، کینڈا سے قمر الہدی، مصر سے ولا جمال، ہندوستان سے اسلم جمشید پوری، زاہد احمد، صوفیہ شریں، نیلوفر اختر، اور جرمنی سے خاکسار نے مقالات پیش کیے۔  ڈھاکے کے علاوہ اردو کا شعبہ راجشاہی میں بھی بہت فعال ہے۔

loading...