کشمیر نریندر مودی کی پالیسیوں سے آزاد ہوگا تو پاکستان کیا کرے گا؟

آج پاکستانیوں نے کشمیریوں کے ساتھ مل کر یوم یک جہتی کشمیر منایا۔ پرانے دعوے اور نعرے دہرائے گئے اور ایک دن کی چھٹی منا کر سال بھر کے لئے کشمیریوں کو خودمختاری دلوانے کا وعدہ ایفا کردیا گیا۔ اب  یہ باب آئیندہ برس کے یوم یکجہتی کشمیر  تک کے لئے بند  کردیا گیا ہے۔ اگر چھٹی   کرنےاور یوم  منانے سے آزادی ملنا ممکن ہوتا تو اہل پاکستان نے گزشتہ 70 برس کے دوران کشمیریوں کے ساتھ  یک جہتی کے  اتنے دن منائے ہیں اور اتنی تقریریں کی ہیں کہ کشمیر کو  ایک سے زائد بار آزاد کروایا جاچکا ہوتا۔

وزیر اعظم عمران خان جنہوں نے خود ہی اپنے آپ کو   کشمیریوں کا سفیر  مقرر کرنے کا اعلان کیا  تھا، انہوں نے آج آزاد کشمیر  اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے   بتایا کہ  وہ اپنا یہ وعدہ وفا  کرچکے ہیں اور دنیا بھر میں کشمیر کاز کے لئے بھرپور آواز بلند کی  گئی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے دو دلچسپ باتیں  بھی کی ہیں ۔ ان  باتوں سے جس کا جو جی چاہے نتیجہ اخذ کرسکتا ہے لیکن عمران خان کے خلوص  نیت پر شبہ نہیں کرنا چاہئے۔  ایک تو انہوں نے یہ کہا ہے  کہ  کشمیریوں کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔  دوسرے ان کا کہنا ہے کہ مودی کی غلط اور انتہا پسند پالیسیوں کے نتیجہ میں  کشمیرآزاد ہو جائے  گا۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو ضرور آزادی ملے گی۔ انہیں اپنے رب پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔  کبھی مایوس نہ ہوں۔ مایوسی گناہ ہے ۔ میں اپنی قوم سے کہتا ہوں کہ اونچ نیچ تو اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ کیوں کہ  اگر انسان مایوس ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا ایمان کمزور پڑ چکا ہے۔  عمران خان کے اس مشورہ کا ایک مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی طرح کشمیری بھی اپنا معاملہ اللہ  کو سونپ دیں ۔ جب  وہ  چاہے گا  آزادی میسر آجائے گی۔ اور جب تک یہ ممکن نہیں ہوتا ، اس وقت تک اسے رضائے الہیٰ سمجھ  کر صبر کرنا چاہئے۔

کسی کاز کے لئے اس قسم کا رویہ صرف اس صورت میں ہی اختیا رکیاجاسکتا ہے   جب یا تو اپنے مقصد پر یقین نہ رہا ہو یا پھر جد و جہد کی ہمت جواب دے گئی ہو۔ پاکستانی وزیر اعظم کی طرف سے آزاد کشمیر اسمبلی میں کھڑے ہوکر   خدا پر بھروسہ کرکے صبر کرنے کا مشورہ   سیاسی کمزوری کا طاقت  ور اشارہ ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا یہ اشارہ کشمیریوں کو دیا گیا ہے یا ہندوستان تک بھی یہ پیغام پہنچایا گیا ہے کہ اسے پاکستان کی طرف سے کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں  ہے۔ وہ  کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ جو چاہے سلوک کرے پاکستانی لیڈر تقریریں کرنے اور اپنے عوام  کو جذباتی نعروں میں الجھائے رکھنے کے علاوہ کچھ کرنا نہیں چاہتے۔

 ہو سکتا ہے کہ   یہ اشارہ نام نہاد امریکی ثالثی کو  ممکن یا کامیاب بنانے کے لئے   ہی دیا گیا ہو۔ امریکہ کے صدر اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ’قریبی دوست‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں  ڈیووس میں ہونے والی ملاقات میں کشمیر کے معاملہ پر ایک بار پھر ثالثی کی  پیش کش کی تھی۔ یہ  پیغام تو عوام  کی تشفی کے لئے  میڈیا گفتگو میں دیا گیا تھا۔ اس کے بعد بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی بات چیت میں بھی یہ معاملہ ضرور زیر غور آیا ہوگا۔ اس وقت ٹرمپ جیسے شاطر نے ضرور کشمیر کے حوالے سے کچھ شرائط سامنے رکھی ہوں گی۔ کہ اگر پاکستان ان شرائط کو مان لے تو امریکہ ثالثی کے ذریعے دہائیوں پرانا یہ مسئلہ حل کروا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ درپردہ ہونے والی ان باتوں کے بارے میں نہ امریکی کچھ بتائیں گے اور نہ ہی عمران خان ان کا انکشاف کریں گے ۔ لیکن ٹرمپ کی طرف سے کشمیر میں  ثالثی کا بار  بار وعدہ یا پیشکش بے مقصد نہیں ہوسکتی۔ تاہم اس بارے میں  اندازے ہی قائم کئے جاسکتے ہیں کوئی حتمی بات کہنا ممکن نہیں ہے۔

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم  راجہ فاروق حیدر نے البتہ آج وزیر اعظم پاکستان کی موجودگی میں تقریر کرتے  ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کا ذکر کیا اور اسے خطرناک  قرار دیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ واضح نہیں کیا کہ کشمیر کے سوال پر دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر کی طرف سے ثالثی کی  ’مخلصانہ ‘ پیش کش کیوں کر خطرناک ہوسکتی ہے لیکن اگر اس معاملہ کو حال ہی میں فلسطین کے معاملہ میں  صدر ٹرمپ کی ’ڈیل آف سنچری ‘ نامی منصوبہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک المناک تصویر سامنے آتی ہے۔  گزشتہ ہفتہ کے دوران  صدر ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں  اسرائیلی وزیر اعظم  نیتن یاہو   کو  ساتھ کھڑا کرکے فسلطین کو اسرائیل کی غلامی میں دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ’ڈیل آف دی سنچری‘ قرار دیا  اور فلسطینیوں سے کہا کہ غور کرلیں انہیں اس کے بعد ایساسنہری موقع نہیں ملے گا۔ وہ  خود مختاری اور آزاد ریاست  کے نام پر دی  جانے والی غلامی کی ان شرائط کو مان لیں  تو انہیں آئیندہ دس برس کے دوران  امیر عرب ملکوں  سے 50 ارب ڈالر لے کر دیے جائیں گے۔ اس طرح ان کی قسمت تبدیل ہوجائے گی اور وہ خوشحال زندگی گزار سکیں گے۔ بس ان کے خارجہ و دفاعی معاملات اسرائیل کے ہاتھ میں ہوں گے اور انہیں  بیت المقدس سمیت  فلسطین کے بیشتر علاقوں سے  دست بردار ی قبول کرنا پڑے گی۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے تو اس پیش کش کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ  ’بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی برائے فروخت نہیں ہے‘۔ لیکن    کیا معاملات کو سیاہ یا سفید  کے طور پر دیکھنے کے عادی ڈونلڈ ٹرمپ جیسے  لیڈر کو  محمود عباس کی یہ باتیں سمجھ آجائیں گی؟ البتہ  عمران خان  جیسا کوئی لیڈر  جو  ٹرمپ کی  طرح خود بھی معاملات کی سادہ اور غیر پیچیدہ تفہیم کو ہی پوری تصویر  کے طور پر دیکھنے کا عادی ہو ، ضرور ایسے کسی منصوبہ کو سنہری موقع قرار دے سکتا ہے۔  اگر کشمیر کے تنازعہ کو فلسطین کے مسئلہ اور ٹرمپ کے منصوبہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو   انفرادی آزادی اور قومی خود مختاری کی بجائے مالی سہولت اور معاشی ترقی زیادہ اہم  سمجھی جائے گی۔

کشمیر کے معاملہ پر گفتگو کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی  کشمیر میں خوش حالی لانے اور اربوں ڈالر سرمایہ کاری کرنے کی ہی باتیں کرتے رہے ہیں۔  گزشتہ اگست میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے  کا اعلان کرتے ہوئے نریندر مودی نے  بھی کشمیر میں کثیر سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔ بھارتی حکومت کے منصوبوں کے مطابق   مقبوضہ وادی میں 200 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ان میں سے  100 ارب ڈالر سرکاری وسائل میں سے فراہم کئے جائیں گے جبکہ باقی نصف سرمایہ    نجی شعبہ کے ذریعے  اکٹھا کیا جائے گا۔ اس طرح بظاہر کشمیریوں کی معیشت اور سماجی حیثیت کو ڈرامائی طور سے تبدیل کرنے کا وعدہ کیا جارہا ہے۔

’ثالث ڈونلڈ ٹرمپ‘ کے ہتھکنڈوں کو دیکھتے ہوئے کیا عجب کہ آنے والے  وقت میں کسی روز اچانک صدر ٹرمپ نریندر مودی کا ہاتھ پکڑے وہائٹ ہاؤس میں میڈیا سے ملاقات کے لئے تشریف لائیں اور دنیا کے دوسرے بڑے تنازعہ کشمیر   کے بارے میں بھی  فلسطین جیسی ہی کوئی ’ڈیل آف دی سنچری‘  کا اعلان کردیں۔ سوال تو صرف اتنا ہے کہ کیا عمران خان بھی راجہ فاروق حیدر کی طرح اس قسم کی کسی پیش کش کو ’خطرناک ‘ سمجھ کر اس سے کنارہ کشی اختیار کریں گے یا اس تاریخ ساز لمحہ کا حصہ بننے  کے لئے وہ  ڈونلڈ ٹرمپ اور مودی کے کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔ واضح رہے فلسطینی صدر محمود  عباس نے تمام تر کمزوری اور بے کسی کے باوجود  امریکی صدر سے فون پر بات کرنے اور مجوزہ ٹرمپ منصوبہ  کے بارےمیں ان کا ذاتی خط  تک وصول کرنے  سے انکار کیا ہے۔ کشمیر  پر ٹرمپ کی ثالثی کے وعدوں کے بارے میں   راجہ فاروق حیدر     کے انتباہ کے بعد پاکستانی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس سوال پر اپنی پوزیشن واضح کرے۔

عمران خان نے   آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب میں دوسری دلچسپ اور معنی خیز بات یہ کہی ہے کہ نریندر مودی نے گزشتہ اگست میں  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم  کرنے کا جو اعلان کیا ہے ، وہی دراصل کشمیر کی آزادی کا پیغام بن جائے گا۔  عمران خان کی یہ بات دراصل ان کی اس گفتگو کا تسلسل  تھا  جو انہوں نے گزشتہ روز کوالالمپور  کے ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی کہ بھارتی حکومت  کے  انتہا پسندانہ اور فسطائی ہتھکنڈوں کے نتیجہ میں ہندوستان کے ٹکڑے ہوجائیں  گے اور اس طرح اس کا نام ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔

وزیر اعظم پاکستان کی ان  پیش گوئیوں اور قیاس آرائیوں کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے  کہ  جو  بھی ہونا ہے وہ بھارت میں نریندر مودی کی غلط پالیسیوں کے نتیجہ میں ہی رونما ہوگا۔ پاکستان اور اس کی حکومت تو محض خاموش تماشائی ہے۔  عمران خان جسے اپنی حکومت کی  سفارتی تندہی قرار دے رہے ہیں،  درحقیقت  وہ تاریخ کی بدترین سفارتی پسپائی  ہے۔

loading...