اصل مسائل کیا ہیں

کرونا وائرس ، ٹڈی دل ، پروں کے بغیر اُڑتی مہنگائی ، آسمان سے مکالمہ کرتیں قیمتیں ،آٹا غائب  ، چینی نایاب  ، کوڑے کے ڈھیر ، شکستہ سڑکیں ، چھپڑوں میں تبدیل ہوتی ہوئی سڑکیں ،  سکولوں میں بندھے ڈھور ڈنگر ، تعلیم سے محروم ڈھائی کروڑ مسلمان بچے بچیاں ، جنسی درندوں کے ہاتھوں زنا اور قتل کا شکار ہوتے کم سن لڑکے اور لڑکیاں ، سرِ راہ لُٹتے  شہری ، جج کے ہاتھوں ریپ ہوتی عورتیں ، کم سن گھریلو ملازموں پر تشدد ۔

 آٹھ آٹھ سال کے بچے چائلڈ لیبر کیمپ کے اسیر ، خواجہ سرا کے میک اپ میں جگہ جگہ کھڑے ماڈرن بھکاری ، سرِ راہ ڈاکہ زنی ، ہتھیاروں کا بے رحمانہ استعمال ، شادی بیاہ کی تقریبات اور تنظیموں کے انتخابات جیتنے پر ہوائی فائرنگ ، عدالتوں کے احاطوں میں ہاتھا پائی ،طلاقوں کی بڑھتی شرح ، نومولود بچوں کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دینے کے سے انسانیت سوز واقعات ہمارا روز مرہ ہے ۔ یہ ہمارے معاشرے کی ایک اجمالی تصویر ہے جس کو اگر مفصل بیان کیا جائے تو پہاڑ کیا آسمان بھی رو پڑے اور اگر کوئی نہیں روتا تو وہ ہے معاشرے کا وہ ذمہ دار فرد جو پاکستان کو کلمہ طیبہ کا نصف اول گردانتے ہوئے نہیں تھکتا ۔  معاشرے کا یہ ذمہ دار کون ہے : فوجی جرنیل ، عدالتوں کے جج ، مسجدوں کے علما ، درگاہوں کے مجاور اور گدی نشین ،بیوروکریسی کے بگڑے ہوئے عمر رسیدہ بچے ، دانشور ، صحافی ، سیاسی کیڑے مکوڑے اور سیاسی مافیہ کے زر خرید جمورے جنہیں چمچے کڑچھے بھی کہا جا سکتا ہے ۔

کیا کوئی شخص اپنے رب کو گواہ بنا کر یہ کہ سکتا ہے کہ یہ قافلہ مدینے کی ریاست کی طرف رواں دواں ہے ؟

نہیں ، امیر المومنین علی ابنِ علی طالبؓ نے اس ضمن میں ایک بڑی نقطے کی بات کہی ہے کہ منافق کا دین اُس کی زبان میں ہوتا ہے اور مومن کا دین اُس کے اعمال میں ہوتا ہے ۔ اس کلیے میں یہ نقطہ پوشیدہ ہے کہ ہم لوگ جو صرف دین کی زبان بولتے ہیں اور عمل سے غافل ہیں ، در حقیقت مدینے کی ریاست کے مسافر ہیں ہی نہیں ، اس لیے اگر کوئی شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر غریب مسلمانوں کو دھوکہ دیتا ہے تو اُس سے بڑا گستاخِ رسول اور دینِ اسلام کا غدار کون ہے ؟

لیکن ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ۔ ہم شو بزنس کے زمانے کے لوگ ہیں ۔ ہم سیاست کے وہ ہاتھی ہیں جن کے کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور ۔ اور المیہ یہ ہے کہ ہمارا دانشور ، صحافی ، اینکر اور تجزیہ کار اس سارے منظر نامے کو طاقِ نسیاں پر رکھ کر یا تو عمران خان کے بقا کی جنگ لڑ رہا ہے یا شریفوں اور زرداریوں کو واپس لانے کے معرکے میں قلمی اور لسانی ہتھیاروں سے کُشتوں کے پُشتے لگا رہا ہے ۔ دو لاشیں ، نون کی گرتی ہیں چار ، پی ٹی آئی کی ، ایک آدھ زخمی جے یو آئی کے کیمپ میں پڑا کراہ رہا ہوتا ہے ، مولا خادم رضوی کی پین کی سری کی صدا مسلسل گونجتی رہتی ہے ، مولوی سراج الحق جو پاکستان کی واحد اسلامی جماعت کے امیر ہیں ، اقبال کے شعروں سے حکومت کو ڈرا رہے ہیں ۔ وہ رزق میں قاف مخرج سے یوں ادا کرتے ہیں کہ میرے جیسا پنجابی ہاتھ کھڑے کردے ۔یعنی  ان پڑھ پنجابی سراجی لہجے میں رزق بولے تو قاف حلق میں پھنس کر رہ جائے ۔

مجھے ایک سردار جی کا واقع  یاد آ گیا ، وہ لکھنئو میں نخاس کے علاقے میں لبِ سڑک بیہوش پڑے تھے ۔ لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے اور اُنہیں ہوش میں لانے کی ترکیبیں سوچنے لگے ۔ کسی نے کہا کہ انہیں جوتا سنگھایا جائے کیوںکہ یہ مرگی کا دورہ لگتا ہے مگر لکھنوی جوتے کا جادو سردار جی کو ہوش میں نہ لا سکا ۔اتنے میں کوئی محرمِ راز ادھر سے گزرا ، تو اس نے انگلیاں ڈال کر سردار جی کے مونہہ کا جائزہ لیا تو اُن کے مونہہ میں ق پھنسا ہوا تھا ۔ ٹیڑھی انگلی سے قاف باہر نکالا گیا تو سردار جی چھلانگ مار کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے :

جے اج تو ں پچھے اردو بولاں تاں مینوں بابا نانک کدی معاف نہ کرے۔

اور اب   شومی  قسمت سے عمران خان کے مونہہ میں بھی قاف ہی پھنسا ہوا ہے جس کا علاج یقیناً جوتا تو ہو نہیں ہو سکتا  ہر چند کہ سیاست میں جوتا چلتا بہت ہے۔ اور  دنیا کے ہر ملک میں بلا تخصیصِ براعظم ،پاکستان ، عراق اور امریکہ میں یکساں روانی سے چلتا ہے ۔ یقین نہیں آتا تو میاں نواز شریف اور  جارج   بُش سے پوچھ لیجیے ۔ لگتا ہے سیاست اور جوتے کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ اسی لیے فیصل واڈا بوٹ لے کر ایک ٹاک شو میں نمودار ہوئے مگر اُلٹی آنتوں کی طرح جوتا اُلٹا ان کے گلے پڑگیا  ( سر  پر پڑا میں نہیں کہوں گا کیونکہ اس میں جوتے کی توہین کا پہلو نکلتاہے )   اور اب واڈا صاحب   اپنا بویا ہوا کاٹ رہے ہیں۔

سیاست میں جوتے کے کئی نام ہیں ، مثلاً اسے خلائی مخلوق کا پاپوش بھی کہا جا سکتا ہے لیکن اس انداز میں کہ خلائی مخلوق کو بُرا نہ لگے کیونکہ جرنیل بہت ہی نازک مزاج لوگ ہوتے ہیں اور مارشل لا  اُن کی ناک پر دھرا رہتا ہے ۔ کبھی کبھی یہ جوتا جج کے جیم سے بھی  موسوم ہوتا ہے ، کبھی یہ نظریہ  ضرورت ہوتا ہے اور کبھی براہِ راست وردی ،  لاٹھی اور گولی ہوتا ہے ۔ لیکن یہ سارے کھیل سیاسی شطرنج کے  پرانے اور بے فیشنے کھیل ہیں جن میں پیادوں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا ، کیونکہ  شطرنج بادشاہوں اور نوابوں کے زمانے کا کھیل ہے جو اب پرانا ہوچکا ہے ۔ اس عہد میں تو ڈائریکٹ ایکشن ہوتا ہے اور جس میں شطرنج کے مہرے نہیں لوگ مرتے ہیں ۔ غریب اور فرومایہ لوگ تلوروں کی طرح ہمارے مقامی شیوخ کا شکار بنتے ہیں مگر اس کے باوجود یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں پاکستان میں سیاست عبادت ہے اور آصف زرداری ، نواز شریف ، مولوی فضل الرحمٰن ، سراج الحق اور عمران خان عبادت گزار لوگ ہیں اور ملک ان عابدوں اور زاہدوں کی قیادت میں مدینے کی طرف گامزن ہے ۔

loading...