ناروے میں پاکستانی تارکین وطن کی گولڈن جوبلی پر ٹونی عثمان کا اسٹیج ڈرامہ

ناروے  کے ممتاز اداکار، ڈائریکٹر اور  کہانہ کار ٹونی عثمان ناروے میں پاکستانی تارکین وطن کے پطاس برس مکمل ہونے کی مناسبت سے  ایک نیا اسٹیج ڈرامہ پیش کررہے ہیں جو اس ماہ کے آخر میں اسٹیج کیا جائے گا۔

اس نئے ڈرامے کا نام ’کافی کی ایک چسکی‘   ہے۔ یہ ناروے میں پاکستانی تارکین وطن کی آمد کے پچاس سال مکمل ہونے کے موقع پر پیش کیا جائے گا۔ ڈرامہ کے ڈائریکٹر اور اسکرپٹ رائٹر ٹونی عثمان ہیں۔ انہوں نے یہ ڈرامہ متعدد انٹرویوز اور منفرد کہانیوں سے اخذ کرکے لکھا ہے۔  کوشش کی گئی ہے کہ اس ڈرامہ میں نارویجئن پاکستانیوں کے علاوہ مقامی لوگوں کی دلچسپی کا سامان بھی ہو۔ ٹونی عثمان نے تفریح کے علاوہ اپنے ناظرین کے لئے امیگریشن کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ڈرامے کا بنیادی کردار صادق پچاس سال پہلے کھاریاں کے ایک گاؤں سے مستقبل کی امید اور خواب لئے ناروے آتا ہے۔ جس روز وہ ناروے پہنچتا ہے اسی روز ہلکی برف باری اس کا استقبال کرتی ہے۔ پہنچتے ہی اس کی ملاقات شفیق سے ہوتی ہے۔ ان دونوں میں  اپنے اصل وطن اور اہل خاندان کے علاوہ  اس نئے معاشرے کے تجربات قدر مشترک بن جاتے ہیں جو آئیندہ پچاس برس  کے لئے ان کا گھر بننے والا تھا۔

پاکستانی فلموں اور سوپ اوپرا کے انداز میں دونوں  دوستوں کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔ اس اسٹیج ڈرامہ  کے لئے  مقبول اردو شاعر احمد فراز کی نظم ’خواب مرتے نہیں‘ کا نارویجئن زبان  میں ترجمہ کیا گیا ہے جسے ڈرامائی تشکیل میں استعمال کیا جائے گا۔

اس ڈرامہ کی تیاری کے لئے آرٹس کونسل آف ناروے، آڈیو ویژیول فنڈ،  فنڈ برائے پرفارمنگ آرٹسٹس کے علاوہ پرائیویٹ این جی او ’آزاد حرف‘

(Fritt Ord)

نے  بھی مالی مدد فراہم کی ہے۔ ناروے میں   پاکستانی تارکین وطن کے حوالے سے  ٹونی عثمان ایک ایسا ڈرامہ پیش کرنے والےہیں جو دلچسپ، معلوماتی اور  تفریح سے بھرپور  بھی ہوگا اور نسلی پس منظر سے قطع نظر سب دیکھنے والے اس سے محظوظ ہوسکیں گے۔

 اسٹیج ڈرامہ ’کافی ایک چسکی‘ کا پریمئم 27 فروری 2020 کو اوسلو میں ہوگا۔

loading...