دہشت گردی کی جمہوریت

جب کسی معاشرے کا ہر شخص دہشت گرد بن جائے اور نئی نسل دہشت گردی کی گود میں پل رہی ہو تو یہ دہشت گردی نہیں ہوتی مروجہ معاشرتی رویے ہوتے ہیں ۔ یہ معاشرتی رکھ رکھاؤ ہوتا ہے ۔

 ایسے میں دہشت گردی بموں کے دھماکوں اور مسلح حملوں کی مرہونِ منت نہیں رہتی بلکہ چھاپہ مار کارروائیوں میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ اگر کوئی سیاسی سقراط یا میڈیا کا بقراط  یہ کہے کہ ہر روز کم سن بچوں اور بچیوں کو اغوا کر کے اُن کا جنسی شکار کھیلنے کے بعد اُنہیں حرفِ غلط کی طرح مٹا دینا دہشت گردی نہیں بلکہ عام نوعیت کی مجرمانہ کارروائی ہے تو پھر  اُس کی عقل پر ماتم واجب ہو جاتا ہے مگر ماتم کرے کون؟ یہ معاشرہ تو ہر شعبے میں باون گزوں کا ہے ۔ اگر کوئی شخص عدلیہ سے یہ سوال کرے کہ کیا پاکستان کا موجودہ معاشرتی نظام انصاف پر مبنی ہے اور اسے مستحکم بنانے میں عدلیہ کے ججوں نے جان کی بازی لگانے سے بھی اجتناب نہیں کیا تو کون ہے جو توہینِ عدالت کے خوف سے ججوں کے بیانات کو غلط قرار دے گا ۔ مگر یہ عدلیہ کے تربوز ہیں جن کو چیرے بغیر لال کہنا ہماری قومی اور آئینی ذمہ داری ہے،  ورنہ انصاف کی توہین کا ارتکاب ہونے کے امکانات روشن رہتے ہیں ۔

ابھی پچھلے دنوں ایک جج نے اسی اسلامی جمہوری مملکتِ خُداداد میں ایک خاتون سائل کی عصمت پر مہرِ انصاف ثبت کی تو اس وقت  عدل کے جہانگیر  نہ جانے کس نور جہاں کی آغوش میں سو رہے تھے ۔ مگر یہاں ہر شخص اپنے عہدے اور منصب کی نمائش میں ہے اور اگر اپنے ضمیر  سے یہ سوال کیا جائے کہ جس معاشرے میں  بچوں کو ہر روز جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا جاتا ہو ، جہاں  لوگ پانچوں وقت سرِ راہ لُٹتے ہوں ، جہاں فقیروں کی بھیک تک چھین لی جاتی ہو وہ معاشرہ دہشت گردی سے پاک ہو گیا ہے ؟ جی نہیں ، البتہ دہشت گردی نے چولا بدل لیا ہے اور اب وہ گلی گلی ہر غریب اور کمزور شخص کی جان کے در پے ہے ۔ مدرسوں کے طلبا جو دین کی تعلیم حاصل کرنے اور قرآن سیکھنے کے لیے مدرسوں میں جاتے ہیں وہ بھی وحشی جنسی درندوں سے محفوظ نہیں  ہیں اور ایسے واقعات پر مذہبی تنظیموں اور  مذہبی سیاسی جماعتوں کا ردِ عمل بہت موہوم اور دھیما ہوتا ہے ۔ ابھی آج ہی ایک مزدور کو ساٹھ ہزار کا قرض واپس نہ کر سکنے پر بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اور یہ اُن واقعات میں سے ایک ہے جو روزانہ چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا : لا الہ الاللہ ۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسلام کے پرچم تلے جس طرح اسلامی تعلیمات کو مسخ کیا ہے اُس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اگر کسی بد عمل مسلمان کی بد عملی کی طرٖف اشارہ کیا جائے تو وہ اِسے اسلام پر حملہ سمجھتا ہے حالانکہ قرآن لوحِ محفوظ کو وہ قیمتی اثاثہ ہے جس کا نگران خود اللہ تعالیٰ اور قراان میں اس کی گواہی رقم ہے :

انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحٰفطون

کہ ہم نے ہی یہ ذکر اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

 اور جس علمی اثاثے کا وارث اور محافظ اللہ تعالیٰ ہو اُسے مسلح افواج اور بلیک فورس کے باڈی گارڈوں کی ضرروت نہیں رہتی ہے  ۔ وقتاً فوقتاً تاریخ نے ایسے واقعات دیکھے ہیں جب ناموسِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیے احتجاجوں کی تحریک چلائی گئی لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ۔  تحریک کے ڈھور ڈنگر اور احتجاج کے جانور کبھی اپنے حق میں  فتحِ مبین کا کوئی سرٹفکیٹ پیش نہ کر سکے ۔

جن دنوں سلمان رُشدی  کی کتاب شیطانی آیات کے خلاف مختلف مسلمان ملکوں میں ہنگامہ بربا تھا تو میں نے اوسلو کے ایک غزالی ء دوراں سے پوچھا کہ اُنہیں حضورِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم  میں گستاخی کا کتنا دکھ پہنچا ہے ؟ کیا اںہوں نے اُن کے غم میں کھانا پینا اور بیوی کے ساتھ سونا چھوڑ دیا ہے یا  اُن کا غم  صرف  پریس کانفرنسوں میں کھا پی کر تقریر کرنے اور مصنف کو گالیاں دینے تک ہی محدود ہے تو  اس پر قبلہ نے اپنی تسبیح لہرائی اور غضب ناک ہو کر مجھے راندہ ء درگاہ قرار دے دیا ۔ بد قسمتی سے ہمارا عمومی مذہبی رویہ ہمیشہ سے ایسا ہی سطحی ،روکھا پھیکا  اورجذباتی نوعیت کا رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم  سترائے بہترائے لوگ ستر  بہتر برس میں وہ متقی معاشرہ  تعمیر نہیں کر سکے جس کا وعدہ اللہ ،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور قائدِ اعظم کا نام لے لے کر کیا جاتا رہا ہے ۔ وہ معاشرہ جس میں حاکمِ وقت کا لہو ایک مفلس ، بے روزگار اور مزدور کے لہو سے زیادہ سرخ قرار پاتا ہو وہ معاشرہ نہ تو جمہوری ہو سکتا ہے اور نہ ہی جمہوری ۔

اور اس صورتِ حال کو پروان چڑھانے ، ترقی دینے اور اس کی منفی کیفیات کو برقرار رکھنے میں سب ادارے برابر کے شریک ہیں کیونکہ یہ ادارے  صرف اپنی خود کفالت کے لیے کام کرتے ہیں ، عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لیے ہر گز نہیں ۔ وہ ادارے جن کے سر اس ملک کو برباد کرنے کا سہرا ہے ، وہ فوج ، عدلیہ، سیاسی جماعتیں ، میڈیا اور مذہبی کیمپ ہے جنہوں نے باہمی تعاون اور مشترکہ اجتماعی جدوجہد سے یہ شاندار اسلامی معاشرہ تعمیر کیا ہے ، جسے دیکھ کر فرشتوں کو بھی تخلیقِ انسان پر اپنے اعتڑاض کے غلط ہونے کا شدت سے احساس ہونے لگتا ہے ۔ اور یہ مہنگائی ، بے روزگاری ، قرضے ، نا انصافی ،رشوت ، کرپشن ، منی لانڈرنگ تو معمولی چیزیں ہیں جو پاکستانی معاشرت کے وہ داغ ہیں جو اتنے ضدی نہیں کہ میڈیا کےصابن سے نہ دھوئے جا سکیں ۔ اور کون کہتا ہے کہ دہشت گردی اور جنسی تشدد کے بعد قتل کوئی اتنی بڑی غلطیاں ہیں جو کسی معاشرے کی بنیادیں ہلا سکیں ۔

آخر ہم انسان ہیں اور خطا کے پُتلے ہیں اور پتلیوں کو ناچنے کا اختیار بھی ہے اور  آئینی حق بھی اور کسی کو اُس کے آئینی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ چیف جسٹس صاحب سب کچھ دیکھ رہے ہیں ۔

loading...