پشتون تحفظ تحریک کے رہنما محسن داوڑ بھی گرفتار

  • منگل 28 / جنوری / 2020
  • 730

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے رہنما محسن داوڑ سمیت 12 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو اسلام آباد پریس کلب کے باہر منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے دوران حراست میں لیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے کی کوریج کرنے والے صحافی خانزیب محسود کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد کو تھانہ کوہسار منتقل کر دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں دونوں اراکین اسمبلی کو پشاور ہائی کورٹ نے شمالی وزیرستان میں فوج کی چیک پوسٹ پر حملے کے الزام میں ضمانت پر رہا کیا تھا۔

اس سے قبل محسن داوڑ کے ہمراہ علی وزیر اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک کی گرفتاری کی بھی اطلاعات تھیں۔ تاہم علی وزیر نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اپنی گرفتاری سے متعلق قیاس آرائیوں کی تردید کر دی ہے۔ گرفتاری سے قبل وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ منظور پشتین کی گرفتاری سچ کو چھپانے کی کوشش ہے۔ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ ریاست سچ کی بنیاد پر نہ چلے لیکن منظور پشتین کی گرفتاری سے نہ وہ سچ کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی اُن کی رہائی روک سکتے ہیں۔

حکومت کے ساتھ جرگے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ جب بھی جرگے کی باتیں شروع ہوتی ہیں۔ پی ٹی ایم کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع پرویز خٹک بیان دینے سے قبل 'اصل حکمرانوں' سے پوچھ لیا کریں۔

محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ افغان صدر کا منظور پشتین کے حوالے سے بیان خوش آئند ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ "آپ کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ لیکن پہلے اپنا گھر تو ٹھیک کر لیں۔ افغان صدر کے بیان کو پاکستان کے معاملات میں مداخلت قرار دینا بھی درست نہیں ہے۔" منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد پار افغانستان میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی منظور پشتین کی گرفتاری کو تکلیف دہ واقعہ قرار دیتے ہوئے اُن کی رہائی پر زور دیا ہے۔

پی ٹی ایم کے کارکنان نے منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف شمالی وزیرستان، میران شاہ، میر علی، مردان، سبی، لورالائی، موسیٰ خیل، قلعہ سیف اللہ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔ اس کے علاوہ کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔

loading...