ریل آتشزدگی کے بعد شیخ رشید کو مستعفی ہوجانا چاہئے تھا: چیف جسٹس

  • منگل 28 / جنوری / 2020
  • 1260

سپریم کورٹ میں ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ آتشزدگی کے واقعے پر تو آپ کو مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔

عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کی۔ اس دوران عدالت کے طلب کرنے پر وزیر ریلوے شیخ رشید احمد بھی پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس اور شیخ رشید میں مکالمہ بھی ہوا جبکہ عدالت عظمیٰ نے ان پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 'جی وزیر صاحب' بتائیں آپ کیا کر رہے ہیں، آپ کا سارا کچا چٹھا ہمارے سامنے ہے۔ آپ کی انتظامیہ سے ریلوے نہیں چلے گی۔ اسی دوران چیف جسٹس نے سانحہ تیزگام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ آتشزدگی سے واقعے سے متعلق آپ بتائیں۔ 70 لوگ جل کر مرگئے، اس پر تو آپ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔

شیخ رشید نے جواب دیا کہ ہم نے 19 لوگوں کو برطرف کیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل بتایا گیا تھا کہ 2 لوگوں کو فارغ کیا گیا ہے۔  آپ نے چھوٹے ملازمین کو فارغ کردیا، بڑوں کی باری کب آئے گی۔  اس پر وزیر ریلوے نے کہا کہ بڑوں کو بھی نکالیں گے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نظر تو نہیں آرہا، سب سے بڑے تو آپ ہیں۔

واضح رہے کہ 31 اکتوبر 2019 کو کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے قریب گیس سلنڈر پھٹنے سے آتشزدگی کی وجہ سے 74 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیر صاحب لوگوں کو خواب نہ دکھائیں۔ آپ آج بھی اٹھارویں صدی کی ریلوے چلا رہے ہیں۔ ریلوے کے محکمے میں لوٹ مار مچی ہوئی ہے۔ اس پر شیخ رشید نے کہا کہ میں 18 گھنٹے کام کرتا ہوں، میں نے 70 لاکھ مسافر بڑھائے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 2020 میں بھی آپ کا سارا نظام پرچیوں پر چل رہا ہے، جس پر شیخ رشید نے کہا کہ سب کچھ بائیو میٹرک کررہے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے وفاقی وزیرریلوے کو 2 ہفتوں میں بزنس پلان دینے کی ہدایت کی۔ اور کہا کہ عدالت میں پیش کردہ پلان سے انحراف کیا گیا تو کارروائی کریں گے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور سیکریٹری پلاننگ کو بھی طلب کرلیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریلوے کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنائیں، ساتھ ہی حکم دیا کہ سرکلر ریلوے کراچی کا 6 کلو میٹر کا حصہ 2 ہفتوں میں مکمل کریں۔ سندھ حکومت بھی ریلوے سے متعلق معاملات میں معاونت کرے۔

کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کری گئی۔

loading...