منظور پشتین کی درخواست ضمانت درخواست مسترد، ڈی آئی خان جیل منتقل کرنے کا حکم

  • منگل 28 / جنوری / 2020
  • 1580

پشاورکی عدالت نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ دینے کے ایک روز بعد انہیں ڈیرہ اسمٰعیل خان جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج محمد یونس نے ڈیرہ اسمٰعیل خان پولیس کی پی ٹی ایم سربراہ کو ڈی آئی خان منتقل کرنے کی درخواست منظور کی۔ منظور پشتین کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف ائی آر) ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ہی درج ہے۔

عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران منظور پشتین کو پیش نہیں کیا گیا تاہم ان کی نمائندگی ان کے وکیل شہاب خٹک، فرہاد آفریدی اور ایڈووکیٹ فضل نے کی۔ اس دوران ان کے وکیلوں کی جانب سے منظور پشتین کی راہداری ضمانت کی درخواست کی گئی، جسے مسترد کردیا گیا۔

خیال رہے کہ منظور پشتین کو ڈیرہ اسمٰعیل خان منتقل کرنے کے بعد جسمانی ریمانڈ کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کو 27 جنوری کو پشاور کے شاہین ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے ان کے ساتھ  پی ٹی ایم کے متعدد کارکنوں کو بھی گرفتار کیا۔

منظور پشتین کے خلاف مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 506 (مجرمانہ دھمکیوں کے لیے سزا)، 153 اے (مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کا فروغ)، 120 بی (مجرمانہ سازش کی سزا)، 124 (بغاوت) اور 123 اے (ملک کے قیام کی مذمت اور اس کے وقار کو تباہ کرنے کی حمایت) کے تحت درج کیا گیا۔

پی ٹی ایم رہنما اور اراکین قومی اسملی محسن داوڑ اور علی وزیر نے منظور پشتین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے گروپ کی شکایات دور کرنے کے بجائے ریاست نے ان کے لیڈر کو گرفتار کرلیا۔ محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس سے پوچھا کہ منظور پشتین کو کس بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ لیکن اتھارٹیز نے انہیں کوئی وجہ نہیں بتائی اور تعاون سے انکار کردیا۔

منظور پشتین کی گرفتاری کو 'اغوا' قرار دیتے ہوئے محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ منظور پشتین کو بنوں میں اس تقریر پر گرفتار کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ تمام پشتون رہنماؤں کو اکٹھا کریں گے'۔

انہوں نے پی ٹی ایم کارکنان کو ہمیشہ کی طرح پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ پشتون تحفظ موومنٹ پاکستان سمیت دنیا بھر میں گرفتاری کے خلاف احتجاج کرے گی۔

پشتون تحفظ موومنٹ قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے مطالبے کے علاوہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے خاتمے پر زور دیتی  ہے۔  پی ٹی ایم ملک کے ان قبائلی علاقوں میں فوج کی پالیسیوں کی ناقد ہے، جہاں حالیہ عرصے میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا تھا۔

خبروں کے مطابق منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف پاکستان سمیت بیرونِ ملک بھی پی ٹی ایم کے کارکن احتجاج کر رہے ہیں۔ پشتون تحفظ تحریک کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی ایم کے کارکنان نے منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف شمالی وزیرستان، میران شاہ، میر علی، مردان، سبی، لورالائی، موسیٰ خیل، قلعہ سیف اللہ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔

اسی طرح افغانستان کے صوبہ کنڑ کے صدر مقام اسد آباد میں پی ٹی ایم کے حمایت یافتہ افراد نے احتجاج کیا اور پاکستان کے حکام سے مطالبہ کیا کہ منظور پشتین کو رہا کیا جائے۔ اس سے قبل افغان صدر اشرف غنی نے بھی منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ منظور پشتین کی گرفتاری سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کی تائید کرتا ہوں اور ان کی فوری رہائی کی امید رکھتا ہوں۔  پاکستان سے فرار ہونے والی پی ٹی ایم کی رہنما گلالئی اسماعیل نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف نیویارک میں 29 جنوری کو احتجاج کیا جائے گا۔

loading...