سی پیک پر امریکی تنقید احمقانہ ہے: وزیر اعظم

  • جمعہ 24 / جنوری / 2020
  • 640

وزیراعظم عمران خان نے پاک چین اقتصادی راہداری  پر تنقید کو احمقانہ کہتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی حقیقی مدد کررہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے زور دیا کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے امریکی صدر اور اقوام متحدہ کردار ادا کریں۔ میزبان ہیڈلے گیمبل کی جانب سے پوچھا گیا کہ یہ منصوبہ (سی پیک) پاکستان کے لیے قرضوں کا جال ہے؟ تو اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ 'جب چینی اس بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور سی پیک کے ساتھ ہماری مدد کے لیے آئے تو اس وقت ہم واقعی مشکل میں تھے'۔  ہم چینیوں کے حقیقت میں بہت شکر گزار ہیں کہ وہ آئے اور ہمیں ریسکیو کیا۔

وزیراعظم نے اس مفروضے کو مسترد کیا کہ سی پیک قرضون کا جال ہے۔ انہوں نےکہا کہ 'یہ احمقانہ' بات ہے۔ وہ آئے اور ہمیں تحریک دلائی، نہ صرف انہوں نے ہمیں قرضے دیے،  یہ قرض مجموعی پورٹ فولیو کا بمشکل 5 یا 6 فیصد ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ چینیوں نے اصل میں سرمایہ کاری سے پاکستان کی مدد کی اور اس وجہ سے اب ملک کے پاس موقع ہے کہ وہ بیرونی سرمایہ کاری متوجہ کرے۔ عمران خان نے واضح کیا کہ سرمایہ کاری کو اپنی طرف لانے کے لیے ان کی حکومت اب خصوصی اقتصادی زونز بنا رہی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی 2 زونز کھولے ہیں اور ہم مزید کھول رہے ہیں جہاں صنعتوں کے لیے خصوصی مراعات دی جارہی ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہدری سے متعلق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک بی آر آئی سے الگ ہے کیونکہ چین ٹیکنالوجی ٹرانسفر میں بھی پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ وہ خصوصی طور پر زراعت میں مدد کررہا ہے کیونکہ اس شعبے میں چینی ٹیکنالوجی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے۔ یہ پاکستان سے  بہتر ہے جبکہ ہماری پیداوار کافی کم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سی پیک منصوبوں سے جس چیز کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے وہ ہنر ہے اور یہ منصوبہ پاکستانیوں کو ہنر بھی فراہم کررہا ہے۔ یہ پاکستان میں ہنرمند مراکز قائم کررہا ہے جو ہمیں مدد فراہم کر رہے ہیں جس پر ہم بہت شکرگزار ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں بھی سی پیک پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چین پر الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، تاہم حالیہ معاملہ امریکی سینئر سفیر ایلس ویلز کے بیان کے بعد سامنے آیا۔

گزشتہ دنوں تھنک ٹینک کی ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے اسلام آباد سے سی پیک میں شمولیت کے فیصلے پر نظرثانی کا کہا تھا اور چین کے ون بیلڈ ون روڈ انیشی ایٹو منصوبے پر تنقید کی تھی۔

loading...