پاکستان میں آٹے کے بعد چینی کے بحران کا خدشہ

  • جمعہ 24 / جنوری / 2020
  • 1260

پاکستان ميں آٹے کے بعد چينی کا بحران بھی سر اُٹھا رہا ہے۔  بازار ميں فی کلو گرام چينی کی قيمت 85 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر صورتِ حال ایسی ہی رہی تو چینی 100 روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہے۔

گندم کے بحران کے بعد پاکستان کے وزيراعظم عمران خان نے ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی سربراہی ميں تحقيقاتی کميٹی قائم کر دی ہے تاکہ گندم بحران کے اصلی ذمہ داروں کا تعين کر سکے۔ وفاقی وزير سائنس و ٹيکنالوجی فواد چوہدری کہتے ہیں کہ اتنا بڑا بحران نہیں ہے جتنا میڈیا میں پیش کیا جا رہا ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بہت سے عوامل کے باعث ایسا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ اس صورتِ حال کے ذمہ داروں کو سزا دی جا سکے۔

تاجر برادری کے مطابق کراچی کی پرچون مارکيٹ ميں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چينی کی قيمت ميں دس روپے کا اضافہ ہوا ہے۔  کراچی پرچون فروش ايسوسی ايشن کے سيکريٹری جنرل کا کہنا ہے کہ دلچسپ امر يہ ہے کہ يہ اضافہ ايسے وقت ميں ہو رہا ہے جب ملک ميں گنے کا کرشنگ سيزن چل رہا ہے۔ شوگر مل مالکان نے چینی کی قیمت میں چھ روپے فی کلو اضافہ کیا ہے۔ ياد رہے کہ گزشہ ماہ چينی کی مارکيٹ ميں فی کلو قيمت 62 روپے تھی۔

پاکستان شوگر ملز ايسوسی ايشن کے ترجمان محمد وحيد چوہدری کے مطابق حاليہ بحران ملک ميں چينی کی کم پيداوار کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے بتايا کہ کسانوں نے کم نرخ ملنے کے خدشے کے پیش نظر گنے کی فصل کم لگائی۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ رسد اور ترسیل کا معاملہ ہے۔ جب گنا زیادہ پیدا ہوتا ہے تو ملز مالکان اس کی قیمت کم لگاتے ہیں۔ لیکن جب گنا کم پیدا ہوتا ہے تو مل مالکان کو مہنگے نرخوں پر کسان سے خریدنا پڑھتا ہے۔ جس کا لامحالہ اثر چینی کی قیمت پر پڑتا ہے۔

ايک عام تاثر ہے کہ شوگر مل مالکان کسانوں کے گنے سے لدے ٹرکوں کو طويل لائنوں ميں ہفتوں کھڑا رکھتے ہيں جس سے گنے کا وزن کم ہو جاتا ہے اور کسانوں کو پيسے وزن کے حساب سے کم دينے پڑتے ہيں۔

loading...