حکومت نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کردی

  • جمعہ 24 / جنوری / 2020
  • 1340

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستانی عوام میں مایوسی پھیلانے کا منظم اور ٹارگٹڈ ایجنڈا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا میڈیا، عوام اور سول سوسائٹی میں تذکرہ ہورہا ہے اس کی اپنی کریڈیبیلیٹی اور شفافیت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

یاد ہے کہ گزشتہ روز دنیا بھر میں بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کی رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کرپشن کے خلاف حکومت کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باوجود پاکستان کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں درجہ بندی تنزلی کا شکار ہوئی اور عالمی درجہ بندی میں 3 درجہ تنزلی کے بعد پاکستان 120ویں نمبر پر پہنچ گیا

معاون خصوصی نے رپورٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے بل بوتے پر موجوہ حکومت کی کارکردگی صاف اور شفاف نہ ہونے کے فتوے لگائے جارہے ہیں، اس ادارے کی اپنی ٹرانسپیرنسی سوالیہ نشان ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ٹرانسپیرنسی جن اعداد و شمار کی بنیاد پر اپنی فہرست مرتب کرتی ہے اسے ترتیب دینے والے افراد اور جہاں سے یہ اعداد و شمار اکٹھا کیا جارہا ہے وہ گٹھ جوڑ سامنے آنا چاہئے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے سربراہ نے سابقہ دورِ حکومت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پذیرائی بخشی اور بدعنوانی کی کمی کے حوالے سے رپورٹ کے نام پر مذاق نامہ مرتب کیا جس پر انہیں سفیر کے عہدے سے نوازا گیا تھا۔ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نے اس عہدے کی مدت میں توسیع نہیں کی جس کی وجہ سے انہیں اپنے وقت پر ریٹائر ہونا پڑا۔

فردوس عاشق ایوان کے مطابق اس رپورٹ کو کون تسلیم کرے گا کہ سب سے زیادہ بدعنوانی مشرف دور میں ہوئی اس کے بعد عمران خان کے دورِ حکومت کو زیر بحث لایا گیا جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور پھر مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کو درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جنہیں عدالتوں نے کرپشن کنگ قرار دیا اور جن کے کارنامے عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان جماعتوں کو جس طرح اس رپورٹ میں کلین چٹ دی گئی اس سے ظاہر ہے کہ یہ آزاد اور شفاف رپورٹ نہیں ہے۔

معاون خصوصی نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ پاکستانی عوام میں مایوسی پھیلانے کا ایجنڈا ہے۔ کرپشن کنگز ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے اپنے گناہ چھپانے کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں جس میں انہیں مایوسی ہوگی۔ انہوں نے کہا موڈیز سمیت دیگر بین الاقوامی ادارے موجودہ حکومت کے معاشی اشاروں میں بہتری کی نہ صرف تائید بلکہ تعریف کررہے ہیں۔

دنیا وزیراعظم عمران خان کی قابلیت کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ رپورٹ دنیا کو گمراہ نہیں کرسکتی اور صرف ایک سال میں بدعنوان عناصر سے کی گئی ریکوری گزشتہ 10 سالوں کے مقابلے زیادہ ہے۔ معاون خصوصی نے ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ مرتب کرنے والوں کو مدعو کیا کہ آئیں اور بتائیں کہ کس بنیاد پر اس حکومت کو بدعنوانی کے اشاروں کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ اس پر ہمیں شدید تحفظات ہیں اور ہم اسے یکسر مسترد کرتے ہیں۔

loading...