گزشتہ سال پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہؤا: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

  • جمعرات 23 / جنوری / 2020
  • 1300

ملک میں کرپشن کے خلاف حکومت کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باوجود پاکستان کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں درجہ بندی تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔ پاکستان عالمی درجہ بندی میں تین درجہ تنزلی کے بعد 120ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔

دنیا بھر میں بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 180ملکوں اور علاقوں کے سرکاری اداروں میں ہونے والی کرپشن کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس میں سب سے زیادہ کرپٹ کو صفر اور شفاف ترین ملک کے لیے 100کا ہندسہ رکھا گیا ہے۔ پاکستان کا اسکور گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہو کر 33 سے 32 ہو گیا ہے جو ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن کا واضح ثبوت ہے اور نتیجتاً عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی رینکنگ تین درجہ کم ہو کر 117 سے 120 ہو گئی ہے۔

ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفر نے کہا کہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کا 33 سے کم ہو کر 32 ہونے پر جب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سے جواب طلب کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس سال متعدد ملکوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس  رینکنگ میں پڑوسی ملک بھارت کا اسکور 41 اور وہ 80ویں نمبر پر موجود ہے جبکہ بنگلہ دیش 26 پوائنٹس کے ساتھ 146ویں نمبر پر موجود ہے۔

پاکستان ہی نہیں بلکہ اکثر ترقی یافتہ ملکوں نے بھی توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھائی جن میں کینیڈا، فرانس، برطانیہ اور 2019 کے انڈیکس میں پہلے نمبر پر رہنے والا ڈنمارک بھی شامل ہے۔ انڈیکس میں ایشیا پیسیفک کا اوسط اسکور 100 میں سے 45رہا اور اس کے تحت سب سے کرپٹ ملک 16کے اسکور کے ساتھ افغانستان رہا جبکہ سب سے شفاف ملک 87کے اسکور کے ساتھ نیوزی لینڈ رہا اور 85کے اسکور کے ساتھ سنگاپور فہرست میں چوتھے نمبر پر موجود ہے۔

تجزیے سے ظاہر ہوا کہ جن ملکوں نے کرپشن انڈیکس میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے انہوں نے مالیات کے قواعد و ضوابط کو بھرپور طریقے سے لاگو کرنے کے علاوہ وسیع پیمانے پر سیاسی مشاورت بھی کی۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے ملکوں کا اوسط اسکور 70 رہا۔ جن ملکوں میں نظام سرے سے ہی موجود نہیں یا انتہائی خراب ہے، ان کا اوسط اسکور بالترتیب 34 اور 35 رہا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی منیجنگ ڈائریکٹر پیٹریشیا مریرا نے کہا کہ اکثر ملکوں میں کرپشن کے خلاف کوئی پیشرفت نہ ہونا مایوس کن ہے جس سے دنیا بھر میں شہریوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سیاست اور دولت کے تعلق سے نمٹنا ہوگا، فیصلہ سازی میں تمام شہریوں کی نمائندگی ہونی چاہیے۔

loading...