بادشاہ ننگا ہے

جس معاشرے میں محبّت نہیں ہوتی وہاں ہر شخص اپنی ذات کا کشکول لیے ایک رتّی مسکراہٹ اور دو بول اپنائیت کے دن بھر مانگتا پھرتا ہے مگرشام کو ناکام اور نامراد ہو کر لوٹتا ہے۔ اور اپنی اذیت کے بستر میں جا گرتا ہے جہاں نیند کے بجائے بے خوابی کے پِسّو اُسے کاٹ کاٹ کر ہلکان کر دیتے ہیں ۔

جس مُلک کی اپنی کوئی موروثی زبان نہیں ہوتی وہاں باتونی طوطے بھانت بھانت کے لفظ جوڑ کر مصنوعی زبان کی ہری پیاز کترتے ہیں اور جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں ۔ ایسے لوگوں نے علمہُ البیان کی کچی اور پکّی نہیں پڑھی ہوتی ۔ اور المیہ یہ  بھی رونما ہوتاہے کہ جس  تہذیبی روایت کی شاعری مر جائے وہاں ہر تُک بند شاعر بن جاتا ہے اور اِدھر اُدھر پڑے اجنبی لفظوں کے اینٹ روڑے جمع کر کے اقبال اور بُلھے شاہ کے نام سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ خود کو اپنے تعلیم یافتہ ، مہذب اور سُخن شناس ہونے کا یقین دلا سکے ۔ اور پھر جو شخص مذہب اور سیاست کی ریڑھی لگا کر روپے جمع کر لے تو وہ قوم کا فکری رہنما بننے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی بھونڈی اداکاری سے پورے معاشرتی منظر نامے کو لا یعنیت کے تھیٹر میں تبدیل کردیتا ہے  ۔

میں نے بار ہا سوچا ہے کہ پاکستان میں میرا سیاسی آئیڈیل کون ہے ؟ میں یعنی ایسا مسلمان جس کا مسلمان ہونا فرقہ آرائی کے کسی سکول کے سرٹیفکیٹ کا مرہونِ منت ہو اور جسے اپنے طور پر سوچنے اور سمجھنے کا اختیار نہ ہو ، جس نے قرآن کو زندگی بھر ناظرہ پڑھا ہو اور اپنی ذات کی بھینس کے آگے بین بجا  بجا کر رب کو راضی کرنے کی کوشش کی ہو ، یہ جاننے کی خواہش میں برسوں سے مبتلا  رہاہے کہ اُس کا مصدقہ اور مستقیم راستہ کون سا ہے ۔

یوں تو سب لوگ ایک مثالی لیڈر کے طور پر  قائدِ اعظم کے نام پر اتفاق کریں گے کیونکہ اُن کا نام پاکستان کو معرضِ وجود میں لانے کی تحریک کے سربراہ کے طور پر آل انڈیا مسلم لیگ سے وابستہ ہے ۔ ان کے بعد دوسرا نام ذوالفقار علی بھٹو کا ہے جسے ایک سیاسی کیمپ ملک کا غدار بھی گردانتا ہے ۔اُن کے بعد چار جرنیل ہیں جنہوں نے اپنا ملک بار بار فتح کیا اور اُن کی فتوحات کے شادیانے ملک کے جمہوری ایوانوں میں مسلسل بج رہے ہیں ۔

اے وطن کے سجیلے جوانو

میرے نغمے تمہارے لیے ہیں

خُدا لگتی کہوں گا کہ ہماری جمہوریت انہی وردی پوشوں کی عطا ہے جسے قبول کرنا ہم سب کی قومی خطا ہے لیکن لوگ اس بات کا تذکرہ خوف کے مارے نہیں کرتے۔ بہتر سال میں کبھی کسی قومی اسمبلی کے ایوان کو اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ خاکی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھ سکے ۔ بس چھپ چھپ کے روتے ہیں۔ البتہ ایک دوسرے کو  کوسنے دیتے ہیں ، ایک دوسرے کا پیٹ پھاڑ کر غصب کیا ہوا مال نکالنے اور اپنے سیاسی حریفوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں انگلیاں نچا نچا کر کرتے ہیں تو لوگ دل ہی دل میں کہتے جاتے ہیں:

روندی یاراں نوں ، لے لے ناں بھراواں دے

اور اب ہمارا نیا سلطانِ جمہوریت عمران خان ہے جسے میں ٹی وی پر سیاست کی خطابت بگھارتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے اقبال یاد آتے ہیں:

نگاہ بلند ، سُخن دل نواز ، جاں پُر سوز

یہی ہے رختِ سفر  میرِ کارواں کے لیے

عمران خان کی نگاہ بلند ہے ، سو فی صدی بلند ہے کیونکہ اُنہوں نے کنٹینر  کی بلندی اپنی دھرنا جمہوریت کا آغاز کیا تھا ، جس کا حاصل یہ ہے کہ اس کے بعد سے پوری قوم دھرنا دھرنا ہو چکی ہے ۔ لیکن جہاں تک سُخن دلنواز کا مرحلہ آتا ہے تو اُن کا شائستگی  بیان کا خانہ خالی لگتا ہے ، شاید اس لیے کہ دلنواز میں نواز بھی آتا ہے جو معاملات  کو خراب کردیتا ہے ۔ وہ اپنی خطابت کا آغاز ( ابے او ) کے لہجے میں کرتے ہیں اور اِنا کی زبان بولتے ہیں ، مَیں مَیں کرنے کے ماہر ہیں اور خود کو قانون سمجھتے ہیں ۔ عمران خان کا ( میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ) کا بیانیہ بے حد بھونڈا اور انا کا متکبرانہ انداز لیے ہوئے ہے جو مدینے کی ریاست کے شہریوں کے عجز و انکسار کی واضح تردید ہے ۔ یہ ہے وہ نفسیاتی عارضہ جو اس قوم کی سزا بن گیا ہے ۔ اور جب تک عمران خان اپنا بیانیہ تبدیل نہیں کرتے تب تک جمہوریت کے جلوس میں شامل  غیر سیاسی بچے دبے لہجے میں بتاتے رہیں گے کہ بادشاہ ننگا ہے ۔

اور جب بادشاہ ننگا ہو تو درباری بھی اپنے کپڑے اُتارنے میں دیر نہیں لگاتے اور شیخ رشید سے فواد چودھری تک ایک ہی حمام میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور جون بدل کر میں میں کرتے بکروں کا روپ دھار لیتے ہیں ۔ لیکن اس سے نوجوان نسل کی بڑی غلط تربیت ہوتی ہے ، بد کلامی کی شہ ملتی ہے اور خلقِ خُدا  کے دہن سے نکلے الفاظ گالی سے گولی تک کے مراحل طے کرتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ ہے وہ بیج جو ذہنوں میں تشدد بوتا ہے اور قوم لاشوں کی فصل کاٹتی ہے مگر سیاست کے سقراطوں اور بقراطوں کو اس زیاں کا احساس تک نہیں ۔

اب خُدا ہی جانے اس کا انجام کیا ہوگا ۔ میں شیخ رشید برانڈ کا نجومی یا جوتشی  تو ہوں نہیں کہ پیش گوئی کر سکوں ،مگر اللہ سے منیر نیازی کی زبان میں  پاکستان اور اُس کے غریبوں کی خیر مانگتا  رہتا ہوں :

پاکستان کے سارے شہرو ! زندہ رہو ، پائندہ رہو

روشنیوں رنگوں کی لہرو ، زندہ رہو پائندہ رہو

loading...