خالد مقبول صدیقی کا وزارت آئی ٹی چھوڑنے کا اعلان

  • اتوار 12 / جنوری / 2020
  • 710

متحدہ قومی موومنٹ  پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے وفاقی کابینہ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہر مشکل مرحلے میں ساتھ دینے کا وعدہ پورا کیا ہے اور آئندہ بھی پورا کریں گے۔ تاہم میرے وزارت میں بیٹھنے سے کراچی کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔ حکومت کا حصہ بنے تو ہم پر لازم تھا کہ 50 سال سے سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو حکومت کے سامنے رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام، میرٹ، انصاف اور سندھ کے شہری علاقوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔ ہم نے تحریک انصاف سے وعدہ کیا تھا کہ ہم آپ کو حکومت بنانے میں مدد کریں گے اور ہر مشکل مرحلے میں ساتھ دیں گے۔ ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے تیسرے بڑے شہر حیدر آباد کو ہم 70 سال سے ایک یونیورسٹی نہیں دے سکے، اس کے لیے پیش رفت  صرف کاغذوں کی حد تک ہی ہوسکی۔ میرے لیے ایسی صورتحال میں وزارت میں بیٹھنا مشکل ہے کہ حکومت میں بیٹھے رہیں، اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام انہی مشکلات کا سامنا کرتے رہیں جن کا وہ ہمارے حکومت میں آنے سے قبل سامنا کر رہے تھے۔

ایم کیو ایم کے کنوینر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں کہیں اور سے بھی وزارتوں کی پیشکش ہوئی تھی تاہم آج کے اعلان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے وزارت قانون و انصاف مانگی تھی اور نہ ہی ہم نے جو نام دیے تھے ان میں فروغ نسیم کا نام شامل تھا۔ تاہم ہمیں بتایا گیا کہ پاکستان میں جمہوریت، قانون، انصاف اور احتساب کے عمل کے لیے انہیں فروغ نسیم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ہم حکومت کے اتحادی ہیں اور اس کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے تاہم اس کا میرے وزارت میں نہ رہنے سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کی موجودگی میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان بنی گالہ اور بہادر آباد میں معاہدے ہوئے تھے تاہم اس کے نکات میں سے ایک پر بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ایم کیو ایم کے کنوینر کی جانب سے استعفے کے اعلان کے بعد اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی پارٹی کی جانب سے استعفے کی کوئی ہدایت نہیں ملی۔ اس سوال پر کہ اگر آپ کو استعفے کی ہدایت ملی تو آپ کا کیا رد عمل ہوگا؟ ان کا کہنا تھا کہ وہ وہی فیصلہ کریں گے جو ملک کے مفاد میں بہتر ہوگا۔

کئی سیاسی مبصرین متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے کابینہ سے استعفے کے اعلان کو علامتی احتجاج قرار دے رہے ہیں۔ صحافی مظہر عباس کے مطابق فی الحال ایسی کوئی صورت حال نظر نہیں آتی جس میں یہ پیش گوئی کی جائے کہ ایم کیو ایم حکومت سے الگ ہو رہی ہے تاہم متحدہ قومی موومنٹ اپنے مطالبات منوانے کے لیے بھر پور کوشش کر رہی ہے۔

loading...