سلطنت آف اومان کے سلطان قابوس انتقال کر گئے

  • ہفتہ 11 / جنوری / 2020
  • 1260

عرب دنیا میں سب سے طویل حکمرانی کرنے والے سلطنت آف اومان کے سلطان قابوس بن سید السید 79 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

شاہی دربار سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہائی غم اور گہرے رنج کے ساتھ۔۔۔ شاہی دربار بادشاہ سلطان قابوس بن سید کی وفات پر غمزدہ ہے، جن کا جمعہ کے روز انتقال ہو گیا ہے۔ وہ گزشتہ ماہ وہ بیلجیم میں طبی معائنے اور علاج کروانے کے بعد وطن واپس آئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق وہ سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔

سلطان قابوس غیر شادی شدہ تھے اور ان کا کوئی وارث یا نامزد جانشین نہیں تھا۔ ان کی موت پر اومان میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ سلطان نے اپنے والد کو 1970 میں برطانوی تعاون سے معزول کر دیا تھا۔ جس کے بعد تیل کی دولت کا استعمال کرتے ہوئے انھوں نے اومان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا۔ سلطنت کے بنیادی قانون کے مطابق، شاہی خاندان کی کونسل، جس میں تقریباً 50 مرد ارکان شامل ہیں تخت خالی ہونے کے تین دن کے اندر ایک نیا سلطان نامزد کرے گی۔

اگر شاہی خاندان کسی نئے حکمران پر متفق نہیں ہوتا تو دفاع کونسل کے ممبران، سپریم کورٹ ، مشاورتی کونسل اور ریاستی کونسل کے صدر ایک مہر بند لفافہ کھولیں گے جس میں سلطان قابوس نے خفیہ طور پر اپنی پسند کے تخت نشین کا ناملکھا ہے۔ اس شخص کو تخت نشین کر دیاجائے گا۔  تخت کے اہم دعویداروں میں تین بھائی شامل ہیں جو سلطان مرحوم کے چچا زاد بھائی ہیں۔ ان میں وزیر ثقافت ہیتھم بن طارق السید، نائب وزیر اعظم اسعد بن طارق السید اور اومان بحریہ کے سابقہ کمانڈر جو شاہی مشیر تھے، شہاب بن طارق السید شامل ہیں۔

سلطان اومان میں اہم فیصلہ ساز شخصیت تھے کیونکہ وہ بطور وزیر اعظم، مسلح افواج کے اعلی کمانڈر، وزیر دفاع، وزیر خزانہ اور وزیر برائے امور خارجہ کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔  سلطان قابوس کو  تقریباً پانچ دہائیوں تک اومان کی سیاسی زندگی پر مکمل طور پر تسلط حاصل رہا۔

29 سال کی عمر میں انہوں نے اپنے والد سید بن تیمور کا تختہ الٹا تھا جو انتہائی قدامت پسند حکمران تھے۔ سید بن تیمور نے سلطنت میں ریڈیو سننے یا دھوپ کے چشمے پہننے سمیت متعدد چیزوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ وہ یہ فیصلہ بھی کرتے تھے کہ کون شادی کرسکتا ہے، تعلیم حاصل کرسکتا ہے یا ملک چھوڑ سکتا ہے۔

اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ہی سلطان قابوس نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ ایک جدید حکومت قائم کریں اور تیل کی رقم کو ایک ایسے ملک کی ترقی کے لیے استعمال کریں جہاں اس وقت صرف 10 کلومیٹر کی پکی سڑک اور تین سکول  تھے۔ حکمرانی کے ابتدائی چند برسوں میں انہوں نے برطانوی سپیشل فورسز کی مدد سے جنوبی صوبے دوفر میں ایک قبیلے کے ذریعہ مارکسسٹ پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک یمن کی حمایت یافتہ شورش کو ختم کیا۔

انہوں نے خارجہ امور میں غیر جانبدارانہ راستہ اختیار کیا اور 2013 میں وہ امریکہ اور ایران کے مابین خفیہ مذاکرات میں آسانی پیدا کرنے میں کامیاب رہے جس کے نتیجے میں دو سال بعد تاریخی جوہری معاہدہ ہوا تھا۔ سلطان قابوس کو کرشماتی اور بصیرت والی شخصیت سمجھا جاتا تھا اور وہ خاصے مقبول تھے۔ لیکن وہ ایک مطلق بادشاہ تھے اور کسی بھی طرح کی اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے تھے۔

2011 میں عرب بہار کے دوران سلطان قابوس پر کچھ حد تک عدم اطمینان سامنے آیا تھا۔ اومان میں کوئی بڑی ہلچل نہیں ہوئی تھی لیکن ہزاروں افراد بہتر اجرت، بدعنوانی کے خاتمے اور مزید ملازمتوں کے مطالبہ کے لیے ملک بھر میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے ابتدا میں احتجاج کو برداشت کیا لیکن بعد میں ان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور گولہ بارود کا استعمال کیا جس کے نتیجہ میں دو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ سینکڑوں افراد پر غیر قانونی اجتماعات اور سلطان کی توہین کرنے کے جرم میں مقدمات بنائے گئے تھے۔

ملک میں ان مظاہروں کے بعد سلطان قابوس نے متعدد دیرینہ خدمات انجام دینے والے وزرا کو بدعنوان سمجھا، مشاورتی کونسل کے اختیارات کو وسیع کیا اور سرکاری شعبے میں مزید ملازمتیں پیدا کرنے کا وعدہ کیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس کے بعد سے حکام نے مقامی اخباروں اور حکومت کے تنقیدی رسالوں کو روکنا، کتابیں ضبط کرنے اور کارکنوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...